Showing posts with label جڑی بوٹیوں کے خواص. Show all posts
Showing posts with label جڑی بوٹیوں کے خواص. Show all posts

دیسی گھی 100 بیماریوں کا علاج

دیسی گھی 100 بیماریوں کا علاج

 ہم پرانے زمانے کے لوگوں کی قابل رشک صحت کے اسباب پر غور کرتے ہیں اور پھر موجودہ زمانے کے

نوجوانوں کی طرف نگاہ حسرت اٹھاتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہی خیال آتا ہے کہ اگلے وقتوں کے لوگوں کی قابل

رشک صحت کا سبب یہی تھا کہ وہ اعتدال کی زندگی بسر کرتے تھے اور اب یہ امر عنقا ہے، مگر اس کے علاوہ ایک

بڑی بات اور بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اس وقت چٹ پٹے مسالے دار کھانوں سے معدے کی قوتوں کو تباہ کرنے کی

وبا نہ پھیلی تھی اور اسی وجہ سے وہ لوگ ہم سے عمر، قوت اور صحت میں ہر طرح بڑھ چڑھ کر تھے۔ جوں جوں

خالص دودھ اور گھی کی کمی اور اس کے ساتھ قسم قسم کے چٹ پٹے کھانوں کی رغبت زیادہ ہوتی گئی، ہم لوگوں کی

صحت، قوت اور عمر میں کمی رونما ہوتی گئی۔ آج بھی دیہاتوں میں رہنے والوں کی صحت اس لیے قابل رشک ہوتی

ہے کہ وہ آلودگی سے پاک فضا میں سانس لیتے اور خالص غذا نوش جاں کرتے ہیں۔ شہر کے باسیوں کی اکثر

بیماریاں ملاوٹ شدہ اور کیمیاوی طریقوں سے تیار ہونے والے اشیائے خور و نوش ہیں۔ ذیل میں، دیسی گھی کے چند

کرشمے قارئین کی بحالی صحت کے لیے اس یقین کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں کہ اگر آپ دیسی گھی کو اپنی روز

مرہ غذا کا حصہ نہ بھی بنا سکیں تو بطور دوا تو استعمال کر ہی لیں۔

 

[caption id="attachment_2078" align="aligncenter" width="443"]desiherbal.com-دیسی گھی 100 بیماریوں کا علاج desiherbal.com-دیسی گھی 100 بیماریوں کا علاج[/caption]
مرہ غذا کا حصہ نہ بھی بنا سکیں تو بطور دوا تو استعمال کر ہی لیں۔

خالص گھی کی پہچان  

اصلی و نقلی دیسی گھی کی شناخت کا طریقہ    

امتحانی نلی (Test Tube)گھی سے نصف پر کریں اور پھر اس میں نائٹرک ایسڈ ۴/۱ حصہ ڈال کر اُنگلی سے

بند کر کے ہلائیں۔ کوئی تبدیلی نظر نہیں آئے گی۔ بعد ازاں ٹنچکر آیودین ۵ بوند ڈالیں اور بدستور ہلا کر رکھ دیں۔ اگر

گھی اسی حالت میں رہے تو اسے خالص سمجھیں اور اگر جوش میں آ جائے تو نقلی خیال فرمائیں۔ یہ بارہا کی مجرب

تدبیر ہے۔

  طبیعت

پہلے درجے میں گرم تر، پھر جوں جوں پرانا ہوتا جاتا ہے اس کی گرمی بڑھتی اور تری گھٹتی جاتی ہے۔

دماغی امراض

یہ ایک مسلمہ بات ہے کہ گھی بے حد مقویٔ دماغ شے ہے، لیکن حکما نے چند اشیا کے اثرات سے جو بذاتِ خود

مقوی دماغ ہوتی ہیں، حکیمانہ طریق پر گھی میں جذب کر دینے کے طریقے ڈھونڈے ہیں جن سے اس کے فوائد میں

بیش بہا  اضافہ ہو جاتا ہے۔

نسیان، ضعفِ دماغ اور کمزوریٔ نظر    

گھی میں قند سیاہ آدھ پاؤ  لے کر اسے تھوڑا سا کوٹ کر یا توڑ کر ڈال دیں اور ہلکی ہلکی آگ پر پکائیں۔ پہلے گڑ تہ

نشین ہو گا، بعد میں اوپر آنا شروع ہو گا حتیٰ کہ تمام سطح پر آ جائے گا۔ اس میں چیپ باقی ہو گا، اسے اور پکنے

دیں۔ جب دیکھیں کہ پکتے پکتے اس کی چیپ دور ہو گئی ہے اور گڑ لاکھ کی طرح ہونے لگا تو فوراً اتار لیں۔ اگر دیر

ہوئی تو گھی کڑوا ہو جائے گا۔ اتار کر گڑ گھی سے الگ کر لیں۔ باقی رہ جانے والا گڑ سخت سا ہو جاتا ہے جسے

بچے بطور بتاشا کھا جاتے ہیں۔  اس گھی کو سنبھال رکھیں۔ گھر میں عام طور پر جو گھی استعمال ہوتا ہے، اگر اسی

طرح صاف ہو کر ہی استعمال ہو، تو تمام گھر والوں کی نظریں تیز ہو جائیں گی۔ کوئی ضرر والی چیز ہے اور نہ ہی

زیادہ لاگت کی۔ صرف معمولی طریق سے گھی کی ایک صفائی ہے اور بس، لیکن فوائد کا اندازہ وہی لوگ کریں گے

جو استعمال کریں گے۔

ضعف دماغ کی دوسری دوا

سونف کے سبز پودے پانی میں دھو لیں اور پھر کچل کر ان کا رس کپڑے میں نچوڑ کر نکال لیجیے۔ اس رس کے

وزن سے آدھا گائے کا خالص گھی اس میں ملا کر قلعی دار دیگچی میں ڈال کر ہلکی ہلکی آگ پر پکائیں۔ جب تمام پانی

جل کر محض گھی باقی رہے تو سنبھال کر کسی روغنی برتن یا شیشی میں رکھ لیں۔ ایک تولہ صبح، ایک تولہ شام

گائے کے دودھ میں ملا کر پلائیں اور سر پر مالش کریں۔

گھی کی خوش ذائقہ چٹنی

یہ نسخہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن فائدے میں بڑا ہی اکسیر ہے۔ اس کے متواتر اکیس ۲۱ روز کے با پرہیز

استعمال سے ضعف دماغ، نسیان، قلب کی کمزوری وغیرہ بالکل دور ہو جاتے ہیں۔ انسان کی صحت قابل رشک  ہو جاتی

ہے اور سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مرکب اس قدر لذیذ بنتا ہے کہ اس کے سامنے حلوے، خمیرے، یاقوتیاں وغیرہ

ہیچ ہیں۔ ایک خوراک بوقت صبح کھا لینے سے طبیعت تمام دن ہشاش بشاش و مسرور رہتی ہے۔

 
اجزا

مغز بادام (چھلے ہوئے) ۷ عدد، الائچی خورد ۴ عدد، چھوہارہ عمدہ ایک عدد، مصری ۵ تولہ گائے کا مکھن ۵ تولہ۔

ترکیب تیاری

مغز بادام و چھوہارہ کو بوقت شب مٹی کے کورے برتن میں ڈال کر بھگو دیں۔ صبح باداموں کو چھیل لیں۔ چھوہارہ کی

گٹھلی دور کریں اور الائچی کے تخم نکال کر خوب پیسیں۔ پھر مصری ملا کر باریک کریں۔ آخر میں مکھن ملائیں اور

نوش جان فرمائیں۔ اگر ایک ہفتہ کے بعد ہر ایک چیز کا وزن دگنا کر دیا جائے تو بہتر ہے۔ دو ہفتہ کے مسلسل

استعمال سے کافی فوائد ظہور میں آنے لگتے ہیں۔

مالیخولیا یعنی پاگل پن

اس مرض میں مبتلا کوئی مریض اپنے آپ کو بادشاہ خیال کرنے لگتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو انسانیت سے گرا کر

بکرا یا مرغ وغیرہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا اصل علاج تو کسی ماہر طبیب ہی سے کرانا چاہیے، لیکن مریض اگر تین

چار سال سے بیمار ہو، اسے مطلق رات بھر نیند نہ آتی ہو، تو ایسے مریض کو گائے کا مکھن زیادہ سے زیادہ مقدار

میں کھلائیں۔ چونکہ بغیر کسی ہاضم دوا کے مکھن زیادہ مقدار میں نہیں کھلایا جا سکتا لہٰذا ذیل میں مکمل تدبیر لکھی

جاتی ہے۔

سفید پھٹکڑی کو باریک پیس کر تین تین ماشہ کی پڑیاں بنا لیں اور ہر روز بوقت صبح ایک پڑیا گائے کے پاؤ بھر دہی

میں ملا کر پلائیں۔ ایک گھنٹے بعد گائے کا مکھن جس قدر کھا سکے، کھلا دیں۔ کم از کم پاؤ  بھر تو ضرور کھلا دینا

چاہیے۔ اسی طرح سات دن اسی طریق سے پھٹکری کی ساتوں پڑیا پوری کر دیں اور بدستور دہی اور مکھن استعمال

کراتے رہیں۔ ان شاء اللہ ضرور آرام آئے گا۔

پرہیز

لہسن، پیاز، بینگن کھانے، محنت کرنے اور اکیلا رہنے سے پرہیز کریں۔

غذا

جلد ہضم ہونے والی غذا مثلاً خشکہ، کھیر، مونگ کی دال، پھلکا، سبز ترکاریاں وغیرہ دیں۔

پھیپھڑے اور معدے کی بیماریاں

عام لوگ سینے اور پھیپھڑے کی بیماریوں کے لیے گھی وغیرہ کو ایک مہلک زہر خیال کرتے ہیں لیکن اگر اس خیال کو طب کے ترازو میں دال کر تولا جائے تو یہ بالکل ہلکا اور صداقت سے کوسوں دور نظر آتا ہے کیونکہ تجربہ شاہد

ہے کہ بعض حالات میں گھی اور مکھن سینہ کی بیماریوں کے لیے نہ صرف نفع بخش بلکہ آب حیات کے مترادف ہے۔

چنانچہ ذیل میں ان بیماریوں کے لیے گھی کی نفع رسانی کا حال الگ الگ طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

خشک کھانسی

گائے کا مکھن دو تولہ، مغز بادام چھلے ہوئے ۷ عدد، مصری ۵ تولہ، دونوں کو پیس کر چٹائیں۔ خشک کھانسی کے

لیے بڑا ہی پر تاثیر نسخہ ہے۔

گائے کا دودھ آدھ پاؤ، گائے کا گھی ۹ ماشہ، پانی آدھ پاؤ، تمام کو ملا کر آگ پر پکائیں۔ جب پانی جل کر صرف دودھ رہ جائے تو دو تولہ مصری ملا کر بچے کو تھوڑا تھوڑا کئی بار پلائیں۔ ان شاء اللہ آرام ہو گا۔

دمہ

گائے کا خالص گھی دو تولہ لے کر گرم کریں اور اس میں تین ماشہ نمک باریک پیس کر ملا لیں اور مریض کی چھاتی اور گلے پر مالش کریں۔ بفضلہ دورہ وہیں کا وہیں رک جائے گا۔

سل کے لیے آب حیات

جب کسی مریض کے پھیپھڑے کمزور ہو جاتے ہیں تو اس کو بہت جلد مرض سل ہو جانے کا اندیشہ ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر مکھن کو بہترین شے خیال کرتے ہیں۔

قبض

یہ وہ بیماری ہے کہ جس کی تشریح کرنے کی اب ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔ تقریباً ۹۰ فی صد لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ اس کے مریض کو پاخانہ کی تنگی کی وجہ سے تکلیف رہتی ہے بلکہ اس سے بیسیوں بیماریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔

دائمی قبض رفع کرنے کی تدبیر

قبض کا عارضہ عام طور پر آنتوں کے اندر خشکی پیدا ہو جانے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔ اگر آنتوں کی خشکی دور ہو جائے تو پھر قبض کا نام و نشان باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ ہم آنتوں کی خشکی دور کرنے کے لیے ایک تدبیر عرض کرتے ہیں جس سے قبض بآسانی دور ہو جاتی ہے۔

ترکیب

بوقت صبح مکھن حسب دلخواہ ۳ تولہ سے ۱۰ تولہ تک لے کر اس میں مصری برابر وزن ملا کر کھایا کریں۔ اس لذیذ و دل پسند غذا کو چند دن جاری رکھ کر دیکھیں۔ قبض کا نام و نشان نہ رہے گا۔ کیونکہ قبض دور کرنے کے لیے مکھن اور کھانڈ دونوں مفید ہیں۔

دیہات میں زندگی بسر کرنے والے لوگ گھی کو آب حیات خیال کرتے اور اس کو ہر مرض کے لیے تریاق اعظم سمجھتے ہیں۔

چنانچہ دیہاتی باشندے قبض کے ازالہ کے لیے بوقت صبح نہار منہ ۵ تولہ سے ۱۰ تولہ گھی گرم کر کے پیتے ہیں جس سے قبض قطعی دور ہو جاتی ہے۔

گلاب کے پھول کے طبی فائدے

 گلاب کے پھول کے طبی فائدے


گلاب کا پھول محبت کی علامت ہے۔اس کے شوخ رنگ جذبات کے اظہار کا موثر ذریعہ ہیں۔جب گلاب شاعری میں آتا

ہے تو شعراء کرام اسے محبت کی ڈوریوں میں پرو کر اپنی اُلفت کا اظہار کرتے ہیں۔گلاب جب طبیب اور حکماء کے

پاس آتا ہے تو وہ اسے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے اس کے طبی خواص کو کشید کرکے دوائیں تیار کرتے ہیں۔

 غرضکیہ پھولوں میں گلاب کی جو اہمیت ہے وہ اسے بجا طور پر شہنشاہِ گُل کا درجہ دیتی ہے۔

طب کی دنیا میں حکماء جب لفظ " گلاب " استعمال کرتے ہیں تو اس سے مُراد ہمیشہ دیسی گلاب کا پھول ہوتا ہے۔عام

طور پر گلاب کو دو اقسام میں شمار کرتے ہیں ایک کو دیسی گلاب اور دوسری قسم کو ولائتی گلاب یا انگریزی گلاب

کہتے ہیں۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ خوشبو کے لحاظ سے دیسی گلاب بلکل منفرد ہے دیسی گلاب کو بھی مزید دو اقسام

میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔پہلی قسم کو " سیوتی" اور دوسری قسم کو " سندھی " گلاب کہتے ہیں۔سیوتی گلاب کا رنگ

گلابی مائل سرخ اور خوشبو ذرا ہلکی ہوتی ہے،جب کہ سندھی گلاب تیز سرخ بلکہ ہلکا سیاہی مائل ہوتا ہے اور اس

 کی خوشبو زیادہ تیز ہوتی ہے۔گلاب کا عطر اسی گلاب سے بنتا ہے۔

 گلاب مختلف بیماریوں میں فائدہ دیتا ہے لیکن گلاب کا دیسی ہونا ضروری ہے۔

[caption id="attachment_2069" align="aligncenter" width="263"]desiherbal.com-گلاب کے پھول کے طبی فائدے desiherbal.com-گلاب کے پھول کے طبی فائدے[/caption]

 قبض اور گلاب۔


تازہ گلاب میں قبض کو دور کرنے کی صفت موجود ہے۔خشک گلاب قبض پیدا کرتا ہے۔اگر کسی کو قبض کی شکایت ہو

تو تازہ گلاب کی پتیوں کو دودھ میں اُبال لیں پھر چھان کر ٹھنڈا کر لیں اور چینی ملا کر شربت کی طرح گھونٹ لے لے

 کر پی لیں اس سے قبض میں فائدہ ہوتا ہے۔

 گلاب کا سونگھنا۔


گلاب کے فوائد ایسے عظیم الشان ہیں کہ اس کا پینا اور کھانا تو ایک طرف صرف گلاب کو سونگھنے سے ہی دل کی

دھڑکن میں نظم پیدا ہوتا ہے۔اس کو سونگھنے سے دماغ کو بیداری اور قرار حاصل ہوتا ہے۔بے ہوشی کی حالت میں

اگر اصلی اور خالص گلاب کے عطر کو دیگر ادویات کے ساتھ ملا کر حکماء مریض کو سنگھائیں تو متاثرہ شخص کو

 فوراً ہوش آ جاتا ہے۔

 گرمی سے سر میں درد۔


گرمی میں سر کا درد ہو،کنپٹیوں میں ٹیسیں اُٹھتی ہوں سر سے گرمی نکلتی ہو اور دل میں بے چینی ہو رہی ہو تو

ایسے میں عرقِ گلاب کا پینا اور خالص عطرِ گلاب کا بار بار سونگھنا فائدہ دیتا ہے اگر متلی اور چکر آتے ہوں تو وہ

بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

 جسم کی سوزش۔


گلاب کی پتیوں کو پیس کر جس جگہ ورم ہو وہاں پر لگانے سے ورم تحلیل ہو جاتا ہے ۔اس کے علاوہ گلاب کے تازہ

پھولوں کو تھوڑے سے پانی میں جوش دے کر پیس لیں اور ورم کی جگہ لیپ کرتے رہیں اس سے بھی ورم تحلیل ہو

جاتا ہے۔

 پسینہ اور بدبو۔


بعض لوگوں کے جسم پر بدبو دار پسینہ آتا ہے یا بہت پسینہ آتا ہے۔بار بار نہانے کے باوجود بھی تازگی محسوس نہیں

 ہوتی،ایسے افراد اگر گلاب کی پتیاں جسم پر ملیں تو اس سے پسینہ آنا کم ہوجاتا ہے اور بدبو بھی دور ہوجاتی ہے۔

 گرمی سے آنکھوں میں درد۔


 گرمی کی وجہ سے اگر آنکھیں درد کرنے لگیں تو عرقِ گلاب آنکھوں میں ڈالنے سے فائدہ ہوتا ہے۔تازہ گلاب کی

پتیوں کو پیس کر ایک کپڑے میں رکھ کر پوٹلی بنا لیں اس پوٹلی کو پپوٹوں ‌پر رکھنے سے بھی آنکھوں کو سکون

 ملتا ہے آنکھیں تازہ دم ہو جاتی ہیں اس سے آنکھوں میں نہ تو کسی قسم کی خارش ہوتی ہے نہ ہی کوئی سوجن۔

 دانتوں کی کمزوری۔


مسوڑھے کمزور ہوں اور ان کی وجہ سے دانت کمزور ہو جائیں تو تازہ خشک کئے ہوئے گلاب کے پھولوں کو پانی

میں جوش دے کر اس سے بار بار کلیاں کرنی چاہییے۔خشک گلاب کی پتیوں کو باریک پیس کر سفوف بنا کر منجن کی

طرح روزآنہ دوبار دانت برش کرنے سے دانتوں کی کمزوری بھی دور ہوتی ہے اور اگ منہ سے ناگوار مہک آتی ہو تو

 وہ بھی بند ہوجاتی ہے۔

 ہاتھ پاؤں کی جلن۔


بہت سے لوگوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ اُن کے ہاتھ پاؤں سے آگ نکلتی محسوس ہوتی ہے ۔کیسی ہی سخت سے

سخت سردی ہو یہ لوگ پاؤں لحاف سے باہر نکال کر ہی سوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو چاہییے کہ ایک بڑا چمچ عرقِ

 گلاب آدھے گلاس پانی میں حل کرکے چینی ملا کر ٹھنڈا کر کے پی لیں اس سے ان کی یہ شکایت دور ہو جائے گی۔

 پیاس کی شدت میں کمی۔


گرمی کا موسم اور کُھلے ماحول میں کام کاج کرنے کی نوبت آئے تو ایسے میں پیاس کی شدت بڑھ جاتی ہے۔اگر آپ

کو گرمیوں میں پیاس کی شدت ستائے تو خالص عرقِ گلاب تھوڑی مقدار میں‌ پانی اور چینی میں ملا کر شربت بنا لیں

 اور برف ڈال کر پی لیں اس سے سکون ملے گا اور پیاس کی شدت کم ہوجائے گی۔

جلد اور رنگت کا نکھار۔


 اگر گرمی کی شدت سے چہرے کا رنگ سانولا ہو جائے تو اس کے تدارک اور رنگت کے نکھار کے لئے خشک گلاب

کی پتیوں کو پیس لیں اور پھر اس سفوف کو ہم وزن بیسن میں ملا کر رکھ لیں اور استعمال کے وقت تھوڑا سا آمیزہ

لے کر دودھ ملا کر پیسٹ بنا لیں اور چہرے کو اچھی طرح پانی سے دھو کر گلاب کے اس اُبٹن کو چہرے اور گردن

پر لگا لیں اور خشک ہونے دیں خشک ہونے پر پانی سے دھو کر صاف کر لیں اس سے چہرے پر سُرخی آتی ہے اور

رنگت بھی نکھرتی ہے۔

 اگر آپ کیل مُہاسوں سے پریشان ہیں تو اِنہیں دور کرنے کے لئے عرقِ گلاب اور گلیسرین ہم وزن لے کر ملا لیں اور

روٹی کے باسی ٹکرے کی مدد سے اس کو چہرے پر ماسک کی طرح لگا لیں اور سوکھنے پر پانی سے دھو لیں چند

بار کے استعمال سے ہی چہرہ صاف ہو جائے گا۔

 گلاب کی تازہ پتیوں کو پانی میں جوش دے کر ٹھنڈا کرکے نہانے کے پانی میں اس کو ملا کر نہایا جائے تو تازگی کا

احساس ہوتا ہے۔

اسپغول سے جادو اثر ٹرٹکے

 اسپغول سے جادو اثر ٹرٹکے


 آنتوں اور اعصاب کی خشکی دور کرنے اور ان میں قدرتی لچک پیدا کرنے میں اسبغول بے مثل دوا اور غذا ہے آنتوں

اور اعصاب کی خشکی دور کرنے اور ان میں لچک پیدا کر کے ان کی جلن خارش اور اینٹھن (تشنج ) رفع کر کے

دائمی قبض توڑنے کے لئے دنیا بھر کی کوئی دوا بھی شاید ہی اس کا مقابلہ کر سکے ۔ یونانی حکیموں نے صدیوں

 سے اس پر ریسرچ کر کے اسے ہماری گھریلوں دوائی بنا دیا ہوا ہے ۔

 اسپغول سے جادو اثر ٹرٹکے


 آج بھی آپ کو گرم خشک ممالک اور پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں صبح لاکھوں اشخاص دودھ لسی یا شکر

کے شربت کے ساتھ اسبغول کا ناشتہ کرتے نظر آئیں گے جب غذا کی نالی میں خراش اور زخم ہو جائیں تو صبح ایک

 تولہ سے ایک چھٹانک تک اسبغول پاؤ دو پاؤ نیم گرم دودھ میں ملا کر اسے چینی یا شربت انار سے میٹھا کر کے

 گھونٹ گھونٹ پینے سے دو چار روز میں خدا کے فضل سے خراش بند اور نالی صاف ہو جاتی ہے

[caption id="attachment_2066" align="aligncenter" width="234"]desiherbal.com-اسپغول سے جادو اثر ٹرٹکے desiherbal.com-اسپغول سے جادو اثر ٹرٹکے[/caption]

 اسپغول سے جادو اثر ٹرٹکے


جب منہ پک جائے, اور حلق ورم کر جانے سے بولنا, اور غذا کا نگلنا دشوار ہو جائے, تو ایک تولہ اس کے بیج ادھ

 سیر پانی یا مکو کو عرق میں ہلکا جوش دے کر اس سے غرارہ کرنے سے ایک دو دن میں ہی صحت ہو جاتی ہے ۔

 گرمی کے اثر زیادہ گوشت اور تیز مرچ مصالحہ استعمال کم سونے یا سارا دن سگریٹ جائے پیتے رہنے سے ہماری

آنتوں میں خراش اور زخم ہو کر پیچس لہو آؤں اور دست آنے لگتے ہیں ان حالتوں میں روٹی بند کرکے ایک دو روز

اسبغول سوا تولہ سے دس تولے تک بدنی ڈیل ڈول کے مطابق دودھ یا دہی پاؤ میں ملا کر یا دہی کی لسی یا بنفشہ کے

شربت کے ساتھ پھانک لینے سے ایک دو دن میں پیچس دور لہوآؤں بند اور گرمی خشکی سے چھٹکاڑا ہو جاتا ہے

بشرطیکہ روٹی اور گوشت کھانا بند کر دیں ۔ اور صرف اسبغول اور دودھ دہی پر ہی گزارا کریں ایک چھٹانک اسبغول

اور آدھا سیر دودھ یا دہی کھان لینے سے بدن میں اس قدر غذایت ہو جاتی ہے جس قدر کہ ایک وقت پوری غذا سے

ہمیں ملتی ہے

kalwanji ky tibbi fiday

kalwanji ky tibbi fiday


kalwanji کلونجی  


مختلف نام:- (عربی) حبتہ السودا(فارسی)شونز(بنگالی)مگریلا (سندھی) کلوڑی(سنسکرت)کنچی (انگریزی)بلیک کیومن 


پہچان :۔ اس کا پودا سونف کے پودے کی مانند ہوتا ہے لیکن اس کی شاخیں زیادہ باریک ہوتی ہیں اس سے قریبا ۳ انگل لمبی پھلیاں لگتی ہیں۔ جن کے پک جانے پران میں سے تخم پیاز کے مشابہ سہ پہلو تخم نکلتے ہیں۔




[caption id="attachment_2054" align="aligncenter" width="286"]desiherbal.com-kalwanji ky tibbi fiday desiherbal.com-kalwanji ky tibbi fiday[/caption]

رنگ :۔ بیرونی سطح سیاہ مغز سفید مرغن
ذائقہ :۔ پھیکا
مزاج :۔ گرم ۳ خشک ۳
مقدار خوراک :۔ ۱ ماشہ سے ۳ ماشہ
افعال و استمال :- کا سرریاح ، مقوی معدہ مدر بول,  مدر حیض, اور قاتل کرم شکم, ہے اس کو بریاں کرکے کوٹ کر ململ کی پوٹلی میں باندھ کر سردزکام میں بار بار سنگھاتے ہیں۔ نیز زکام ونزلہ میں ا س کی دھونی بھی دیتے ہیں مرگی کے دورہ ے وقت کلونجی گھس کر ناک میں ٹپکاتے ہیں ۔ قولنج ریاحی جلندھر اور کھانسی کو مفید ہے جو شاندہ مردہ جنیں کو پیٹ سے فورا باہر نکال دیتا ہے (غیر سمی)
نوٹ:- بھاؤ پرکاش ، نگھٹو وغیرہ وئیدک کتب میں زیرہ سیاہ, زیرہ سفید, اور کلونجی ,کو زیرہ کی تین اقسام قرار دیا گیا ہے اور تینوں کے اوصاف یکساں بتائے گئے ہں بعض مولفین نے اس کے فارسی نام سیاہ دانہ کی وجہ سے اس کا مشہور نام کا لادانہ لکھا ہے لیکن کالا دانہ در حقیقت الگ چیز ہے۔
 مقام پیدائش :۔ ہندوستان کے اکثر حصوں خصوصا بنگال میں اس کی کھیتی بہت کی جاتی ہے ۔

لیموں قررت کا بہترین تحفہ

لیموں قررت کا بہترین تحفہ


یہ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ لیموں دیکھنے میں ننھا سا نظر آتا ہے۔ لیکن بے شمار فوائد کی وجہ سے یہ تمام پھلوں اور سبزیوں میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ لیموں وٹامن سی کا خزانہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن بی، کیلشیم، فاسفورس اور پوٹاشیم بھی مختلف مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
 لیموں کی کاشت کب اور کیسے ہوئی؟
مسوپوٹیمیا اور بابل کے کھنڈرات سے پتہ چلتا ہے کہ چار ہزار سال قبل مسیح کے لوگ لیموں کا استعمال کیا کرتے تھے۔ پاکستان بھارت جزائر اور جنوبی یورپ کے ملکوں میں لیموں بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اس کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں بہترین قسم کاغذی ہے۔ اس کا چھلکا باریک اور رس زیادہ نکلتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کا استعمال کھانے پینے کی اشیاء میں کیا جاتا ہے۔ چٹنی، سلاد، مشروبات میں اس کا رس شامل کیا جاتا ہے اور کھانے کا مزا دوبالا ہوجاتا ہے۔ گوشت کے


مختلف پکوانوں میں اس کا استعمال عام ہے۔ لیموں کا چھلکا بھی بہت کام کی چیز ہے۔ کیونکہ اس میں سے ایک تیل نکلتا ہے جو پانی کو خوشبودار کرتا ہے۔ لیموں کے چھلکے کا روغن پیٹ کی تکالیف کے لئے مفید ہے۔ یورپ اور امریکہ میں اس چھلکے کا رس انگریزی ادویات میں زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بیج طبی نکتہ نظر سے اسہال پہ قابو پانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا رس انتہائی مفید اور کار آمد شے ہے۔ گرمیوں میں جب لو چل رہی ہو، اس کا استعمال حیات نو کا پیغام ہے۔ اس کا رس ملا ٹھنڈا مشروب گرمی کو دور کرتا ہے۔ اور بدم میں تازگی لاتا ہے۔ شدید پیاس کی حالت میں لیموں کا ٹکڑا چوسنے سے پیاس بجھ جاتی ہے۔ اس میں مختلف بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہیں۔ اس کا سونگھنا دل کو فرحت دیتا ہے۔ مسوڑوں کی بیماریاں اور نزلہ اور زکام میں بہت فائدہ مند ہے۔ لیموں کا اچار بڑھی ہوئی تلی کو کم کرتا ہے اور اس میں خون کا پتلا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جس سے خون میں کولسٹرول کی سطح کو اعتدال میں رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ قے اور متلی کی صورت میں لیموں کے ٹکڑے پر کالی مرچ اور نمک لگا کر منہ کا ذائقہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ اس  کا رس کان کے زخم، کیلوں، پھوڑوں، مہاسوں، دردشقیقہ،زخموں، کیڑے مکوڑوں کے کاٹے اور بالوں کی غیر ضروری چکنائی دور کرنے، ناخنوں کو خوبصورت بنانے میں فائدہ مند ہے۔ بالوں کو خوبصورت اور چمکدار بنانے کے لئے لیموں کا رس استعمال کرنا مفید ہے۔ تیل میں اس کا رس ملا کر لگانے سے بال تیزی سے بڑھتے ہیں۔ سر میں خشکی کی حالت میں لیموں کا رس ہم وزن نیم گرم پانی میں ملا کر بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔ چہرے کی خشکی اور ہاتھ پاؤں کا کھردرا پن دور کرنے کے لئے لیموں کا رس، گلیسرین اور عرق گلاب ملا کر سونے سے پہلے چہرے، ہاتھ پاؤں پر لگائیں۔ دودھ میں لیموں کا رس ملا کر لگانے سے چہرے پر خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔ کہنیوں، گھٹنوں اور ٹخنوں پر پڑنے والی سیاہی لیموں کا رس یا چھلکا ملتے دور ہوجاتی ہے۔ لیموں سے موٹاپے کا شکار لوگ بھی اپنی فالتو چربی اور لٹکی ہوئی توند دور کر سکتے ہیں۔ نہار منہ لیموں کا رس قہوے میں ملا کر پینے سے فالتو چربی زائل ہوجاتی ہے۔ لیموں برتنوں کی صفائی اور کپڑوں کی دھلائی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

kalwanji,tibbe Nabvi aur science

kalwanji,tibbe Nabvi aur science


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے


کلونجی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لئے شفا ہے“


کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خودرو اور چالیس سینٹی میٹر بلند ہوتا ہے۔ پھول زردی مائل، بیجوں کارنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا ہی بیج سمجھتے ہیں۔ کلونجی کے بیجوں کی بو تیز اور شفائی تاثیر سات سال تک قائم رہتی ہے۔ صحیح کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے سفید کاغذ میں‌ لپیٹ کر رکھیں تو اس پر چکنائی کے داغ دھبے لگ جاتے ہیں۔ کلونجی کے بیج خوشبو دار اور ذائقے کے لئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور اچار اور چٹنی میں پڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے تکونے سیاہ بیج کلونجی ہی کے ہوتے ہیں، جو اپنے اندربے شمار فوائد رکھتے ہیں یہ سریع الاثر، یعنی بہت جلد اثر کرتے ہیں۔


kalwanji,tibbe Nabvi aur science


اطبائے قدیم کلونجی اور اس کے بیجوں کے استعمال سے خوب واقف تھے۔ معلوم تاریخ میں رومی ان کا استعمال کرتے تھے قدیم یونانی اور عرب حکماء نے کلونجی کو روم ہی سے حاصل کیا اور پھر یہ پوری دنیا میں کاشت اور استعمال ہونے لگی۔ طبی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم یونانی اطباء کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض، مثلا ریاح,گیس کا ہونا, آنتوں کا درد, کثرت ایام, استسقا, نسیان (یاداشت کی کمی) رعشہ,دماغی کمزوری, فالج ,اور ,افزائش دودھ کے لئے استعمال کراتے رہے ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حوالے سے کتب سیرت میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی شہد کے شربت کے ساتھ کلونجی استعمال فرماتے تھے۔ حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں‌کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ تم ان کالے دانوں کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ ان میں‌موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے“


kalwanji,tibbe Nabvi aur science


کلونجی کی یہ ایک اہم خاصیت ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے، جب کہ اس کی اپنی تاثیر گرم ہے اور سردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے، کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ ریاح، گیس اور بد ہضمی میں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن، گیس یا ریاح بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہو، کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہوگی۔




[caption id="attachment_1998" align="aligncenter" width="168"]desiherbal.com-kalwanji,tibbe Nabvi aur science desiherbal.com-kalwanji,tibbe Nabvi aur science[/caption]

kalwanji,tibbe Nabvi aur science


کلونجی کو سرکے کے ساتھ ملا کر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں سردیوں کے موسم میں جب تھوڑی سی سردی لگنے سے زکام ہونے لگتا ہے تو ایسی صورت میں کلونجی کو بھون کر باریک پیس لیں اور کپڑے کی پوٹلی بنا کر باربار سونگنے سے زکام دور ہوجاتا ہے۔ اگر چھنکیں آرہی ہوں تو کلونجی بھون کر باریک پیس کر روغیِ زیتون میں ملا کر اس کے تین چار قطرے ناک میں ٹپکانے سے چھینکیں جاتی رہیں گی۔ کلونجی مدربول (پیشاب آور) بھی ہے۔ اس کا جوشاندہ شہد میں ملا کر پینے سے گردے اور مثانے کی پتھری بھی خارج ہو جاتی ہے۔


kalwanji,tibbe Nabvi aur science


اگر دانتوں میں‌ٹھنڈا پانی لگنے کی شکایت ہو تو کلونجی کو سرکے میں جوش دے کر کلیاں کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ چہرے کی رنگت میں نکھار اور جلد صاف کرنے کے لئے کلونجی کو باریک پیس کر گھی میں ملا کر چہرے پر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ اگر روغن زیتون میں ملا کر استعمال کیا جائے تو اور زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ آج کل نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں کیل، دانوں اور مہاسوں کی شکایت عام ہے۔ وہ مختلف بازاری کریمیں استعمال کر کے چہرے کی جلد کو مزید خراب کر لیتے ہیں۔ ایسے نوجوان بچے بچیاں کلونجی باریک پیس کر، سرکے میں ملا کر سونے سے پہلے چہرے پر لیپ کریں اور صبح چہرہ دھولیا کریں۔ چند دنوں میں بڑے اچھے اثرات سامنے آئیں گے اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرے کی رنگت صاف و شفاف ہو گی اور مہاسے ختم ہوں گے بلکہ جلد مین نکھار بھی آئے گا۔ جلدی امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کو توے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانے سے نہ صرف زخم مندمل ہو جائیں گے بلکہ نشان دھبے بھی جاتے رہیں گے۔


kalwanji,tibbe Nabvi aur science


جن خواتین کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو اور ان کا بچہ بھوکا رہ جاتا ہو، وہ کلونجی کے چھے سات دانے صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل دودھ کے ساتھ استعمال کر لیا کریں۔ اس سے ان کے دودھ کی مقدار میں اضافہ ہوجائے گا۔ البتہ حاملہ خواتین کو کلونجی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔جن خواتین کو ایام کم یا درد کے ساتھ آتے ہوں یا پیشاب کم یا تکلیف سے آتا ہو، وہ کلونجی کا سفوف تین گرام روزانہ استعمال کر لیا کریں اس شکایت جاتی رہے گی۔


آج کی مشینی زندگی اور جدید لوازمات نے انسان کو اعصابی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور ہر دوسرا انسان اعصابی دباؤ اور تناؤ میں مبتلا ہے۔ ایسے لوگ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کر لیا کریں، چند دنوں میں خود کو بہتر محسوس کریں گے پیٹ اور معدے کے امراض ، پھیپڑوں کی تکالیف اور خصوصادمے کے مرض میں کلونجی بہت مفید ہے۔ کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل ہمراہ شہد استعمال کروایا جاتا ہے۔ یہ پرانی پیچش اور جنس امراض میں بھی مفید ہوتا ہے جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کو سفوف تین گرام، کھانے کے ایک چمچ مکھن میں‌ملا کر استعمال کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔


kalwanji,tibbe Nabvi aur science


ماہرین طب و سائنس کلونجی پر تحقیقی کام کر رہے ہیں اور انہوں نے اسے مختلف امراض میں‌مفید پایا ہے، اس پر مزید تحقیق جاری ہے۔ گزشتہ سال برطانیہ سے کلونجی پر تحقیق کے لئے پاکستان آنے والی ایک خاتون نے بتایا تھا کہ ایک ملٹی نیشنل دوا ساز ادارہ کلونجی سے ایک کریم تیار کرنا چاہتا ہے، کیونکہ کلونجی پر تحقیق کے بعد معلوم کیا گیا ہےکہ اس میں ضروری روغن پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں البیومن، نے نین، رال دارو مادے، گلوکوس، سابپونین اور نامیاتی تیزاب بھی پائے جاتے ہیں جو کئی امراض میں موثر ہیں پاکستان کے ایک ممتاز سائنسدان نے جامعہ کراچی کے شعبئہ کیمیا میں کلونجی پر جو تحقیق کی ہے اس کے مطابق کلونجی کے الکایڈز کسی اور شے سے حاصل نہیں ہوتے۔ حکماء کےمطابق کلونجی پر مشتمل طب یونانی کی معروف مرکب ادویہ میں حب حلتیت، جوارش شونیز اور معجون کلکلانج شامل ہیں۔


کلونجی کے استعمال سے لبلبے کی خصوصی رطوبت، انسولین میں‌اضافہ ہونے سے مرض ذیا بیطس کو فائدہ ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے سات دانے روزانہ صبح نگل لیا کریں۔ طب نبوی کے معروف محقق و معالج ڈاکٹر خالد غزنوی ذیابطس کے مریضوں کو کلونجی کے بیج تین حصے اور کاسنی کے بیج ایک حصہ استعمال کروا کر مفید نتائج حاصل کر چکے ہیں۔


کلونجی سے نکلنے والا تیل دو قسم کا ہوتاہے ایک سیاہ رنگ میں خوشبودار جو ہوا میں اٹھنے سے اڑنے لگتا ہے اور دوسری قسم انٹروی کے تیل جیسا جس کے دوائی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں، یہ تیل بیرونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے جلدی امراض میں مفید ہے۔ یہ تیل بال خورہ کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے ۔ بالخورہ میں بال اڑ جاتے ہیں اور دائرے کی صورت میں نشان بن جاتا ہے پھر دائرہ دن بدن بڑھتا ہے اور عجیب سی ناخوشگواری کا احساس ہوتا ہے۔یہ تیل سر کے گنج کو دور کرنے اور بال اگانے میں بھی مفید ہے ۔ مزید یہ کہ اس تیل کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے اور اس تیل کو مختلف طریقوں سے داد، اگزیما میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اگر جسم کو کوئی حصہ بے حس ہوجائے تو یہ تیل مفید ہے۔ کان کے ورم اور نسیان میں بھی یہ تیل مفید ہے۔ ماہرین طب و سائنس کلونجی پر تحقیقی کام کر رہے ہیں جنھوں نے اسے مختلف امراض میں مفید پاتا اور مزید تحقیق کا عمل جاری ہے۔


kalwanji,tibbe Nabvi aur science


حکماء نے کلونجی کو ہمیشہ موضوعِ تحقیق و علاج بنایا ہے اور اس کو مختلف طریقوں سے مختلف امراض کے علاج میں استعمال کرایا ہے۔ کلونجی کے استعمال سے لبلبہ (پانقراس) کے افرازات( لبلبہ سے خصوصی رطوبت) بڑھ جاتی ہے۔جس سے مرض ذیابیطس میں فائدہ ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے سات دانے روزانہ صبح نگل لیا کریں ۔ کلونجی کو مختلف طریقوں سے زہر کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاگل کتے کے کاٹنے یا بھِڑ کے کاٹنے کے بعد کلونجی کا استعمال مفیدہے۔ کلونجی میں ورموں کو تحلیل کرنے اور گلٹیوں کو گھلانے کی بھی صفت ہے۔ برص بڑا ہٹیلا مرض ہے۔ اس کے سفید داغ جسم کو بدصورت بنا دیتے ہیں۔ اگر برص کے مریض کلونجی اور ہالوں برابر برابر وزن لے کر توے پر بھون کر تھوڑا سرکہ ملا کر مرہم بناکر مسلسل تین چار ماہ برص کے نشانوں پر لگاتے رہیں اور کلونجی اور ہالون کا باریک سفوف شہد کے ساتھ روزانہ نہار منہ استعمال کیا کریں توجلد فائدہ ہوگا۔


کلونجی کی دھونی سے گھر میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔اسی خصوصیت کے سبب کلونجی کو گھروں میں قیمتی کپڑوں میں رکھا جاتا ہے تاہم کلونجی کے استعمال میں یہ امر پیش نظر رہے کہ یہ طویل عرصہ اور زیادہ مقدار میں استعمال نہ کی جائے کیونکہ اس میں کچھ مادے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہوسکتے ہیں۔ البتہ وقفہ دے کر پھر سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ویسے بھی اعتدال مناسب راہ عمل ہے۔


kalwanji,tibbe Nabvi aur science


حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل جو ارشادات فرمائے طب و سائنس آج اس کی تصدیق کررہے ہیں۔ قربان جائیے قدرت کاملہ پر جس نے حضرت انسان کے لیے بہترین نعمتیں پیدا فرمائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال قبل حکمت کے خوب صوت پیرائے میں ہمیں جن معلومات سے آگاہ کیا تھا ، آج کی طب و سائنس نتائج کے حصول کے بعداُن پر تصدیق کی مہر ثبت کررہی ہے ۔


مضمون نگار: حکیم راحت نسیم سوہدروی

کالی مرچ 1000 بیماریوں سے شفاء

کالی مرچ 1000 بیماریوں سے شفاء


کالی مرچ کا نام ذہن میں آتے ہی کھانوں کی ایک الگ سی خوشبو اور ذائقہ ذہن میں آجاتا ہے مگر کھانوں کے ساتھ ساتھ اس کے ایسے طبی فوائد ہیں کہ آپ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنے پر مجبور ہو جائیںاس چھوٹے سے دانے میں کیا کیا فوائد چپھے ہوئے ہیں سب کا ذکر کرنا تو ممکن نہیں چند ایک فوائد حاضر ہیں




[caption id="attachment_1986" align="aligncenter" width="409"]desiherbal.com-کالی مرچ 1000 بیماریوں سے شفاء desiherbal.com-کالی مرچ 1000 بیماریوں سے شفاء[/caption]

 


برصغیر پر ہی کیا موقوف پوری دنیا میں کالی مرچ ذائقہ بڑھانے حتیٰ کہ غذاؤں میں اہم جزو کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مصالحوں کی ملکہ کہا جاتا ہے۔آج یہاں ہم کالی مرچ کے مزید فوائد سے روشناس کروانے جا رہے ہیں۔


نظام انہضام کی بہتری: کالی مرچ معدے کو تحریک دیکر ہائیڈروکلورک نامی ایسڈ میں اضافہ کا باعث بنتی ہے اور یہ ایسڈ پروٹین اور دیگر غذاؤں کو ہضم کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے اور غذائیں مناسب طریقہ سے ہضم ہونے کے باعث آپ کبھی بھی ڈائریا یا قبض کا شکار نہیں ہون گے۔


کینسر سے بچاؤ: مشی گن کینسر سنٹر کی تحقیق کے مطابق کالی مرچ چھاتی کے کینسر کو پیدا ہونے میں مزاحم ہے۔ اس کے علاوہ کالی مرچ جلدی اور بڑی آنت کے کینسر کا جسم میں پھیلاؤ روکنے میں ممدومعاون سمجھتی جاتی ہے۔


دماغی حفاظت: ماہرین کا کہنا ہے کہ کرکومن نامی مرکب کے ساتھ کالی مرچ کا استعمال دماغی خلیوں کی حفاظت کے لئے نہایت مدد گار ہے۔


وزن گھٹانا: کالی مرچ کی اوپر والی تہہ ایسے اجزا سے بھرپور ہوتی ہے، جو چکنائی سے بھرپور خلیوں میں کمی واقع کرنے کا سبب بنتی ہے۔


صاف جلد: رنگ صاف کرنے والی کریم میں پسی ہوئی کالی مرچ ملا کر استعمال کرنے سے جلد کے مردہ خلیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے جس سے جلد صاف اور چمکدار بن جاتی ہے۔


ان کے علاوہ نزلہ و زکام ,کی وجہ سے بند ناک کو کھولنے,ڈپریشن میں کمی, قوت قلب میں اضافہ ,اور اینٹی آکسیڈنٹس میں اضافہ کے لئے بھی کالی مرچ کا استعمال مفید ہے۔

میتھی کے لاجواب فوائد

میتھی کے لاجواب فوائد


 میتھی پاک و ہند کے تقریباً سبھی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے لیکن قصور کی میتھی زیادہ مشہور ہے


اس کے پودے کی اونچائی ایک سے ڈیڑھ فٹ ، پتے کچھ لمبے گول دانہ دار 1/2 سے ایک ڈیڑھ انچ


تک لمبے پھول پیلے پھلی دو سے چودہ انچ لمبی ، جسکے اندر پیلے اور سبز رنگ کے بیج ہوتے ہیں


 جنکو میتھی دانہ کہا جاتا ہے۔میتھی کا سالن خصوصاً پاک و ہند کے تقریباً تمام علاقوں میں بڑے شوق


سے کھایا جاتا ہے۔ مشہور کثیر الا ستعمال سبزی ہے جسکے پتے اور بیج بطور دواء بھی مستعمل ہیں ۔


ہندی ' اُردو 'بنگالی 'گجراتی اور راجستھانی زبانوں میں اسے میتھی ہی کہا جاتا ہے جبکہ عربی میں حلبہ


فارسی میں شملیت پشتو میں ملحوزے اور انگلش میں Fenugreek کہا جاتا ہے لا طینی زبان میں


اسکا نام Trigogella Foelum Graceum Linn ہے ۔میتھی مختلف کھانوں کو خوشبو دار


اور ذائقے دار بنا نے کیلئے استعمال کی جاتی ہے اچار کے مصالحے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں ۔


 اس کے علاوہ یونانی اور آیوویدک دوائوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے اس کا سالن پیشاب لاتا ہے


میتھی موسم سرما کے امراض ' کمر درد 'تلی کے ورم اورگنٹھیا وغیرہ میں نافع ہے ۔ میتھی کے بیج بادی


امراض میں مفید ہیں چہرے کے دغ دھبوں کے دور کرنے کیلئے اکثر اُبٹنوں میں بھی شامل کیے جاتے ہیں


میتھی کے بیجوں کو پانی میں پیس کر ہفتے میں کم ازکم دوبارکم ازکم ایک گھنٹہ تک سر پر لگا کر دھو


نے سے بال لمبے ہو جاتے ہیں اور گرنے بند ہو جاتے ہیں ۔ امراض نسواں میں تخم میتھی کا استعمال کیا


جاتا ہے ۔ بچہ دانی کے ورم' درد اور دیگر گائنی کے امراض میں موثر ہے میتھی پیٹ کے چھوٹے


کیڑوں(چنونوں) کو مارتی ہے ہاضمہ کو درست کرتی ہے بلغمی مزاج والوں کیلئے بہت مفید ہے سردی


 سے محفوظ رکھتی ہے دیہاتوں میں بچے کی پیدائش ہونے کے بعدزچہ کو اس کے لڈو بنا کر کھلائے


جاتے ہیں ۔ آنتوں کی کمزوری سے اگر دائمی قبض ہو تو میتھی کا سفوف گڑ ملا کر صبح و شام پانچ گرام


پانی کے ساتھ کھانے سے کچھ دنوں تک نہ صرف دائمی قبض دور ہو گی بلکہ جگر کو بھی طاقت ملے


گی ۔ میتھی شوگر اور گنٹھیا میں بھی بہت مفید ہے اس کے لئے میتھی کے تازہ پتے 10 گرام پانی میں


پیس کر صبح نہا ر منہ استعمال کریں ۔ذیابطیس (شوگر ) اور میتھی کی کرامات ذیابطیس کے علاج میں


میتھی کو انتہائی موثر پایا گیا ہے راشٹر یہ پوشن انو سندھان حیدر آباد (بھارت )کے ڈاکٹر آرڈی شر ما


ور گھورام اور دیگر ڈاکٹروں پر مشتمل کمیٹی عرصہ دراز سے ذیابطیس (ڈایا بیٹیز )کے علاج کے


سلسلے میں تحقیقات کر رہی تھی انہوں نے ہزاروں مریضوں پر تخم میتھی استعمال کروایا ۔ اس کمیٹی کی


رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیج ذیابطیس اور دل کے امراض میں مفید ہیں میتھی کے بیج روزانہ 20


گرام درد رے پیس کر کھانے سے صرف دس دن کے اندر ہی پیشاب اور خون میں شکر کی مقدار کم ہو


جاتی ہے اگرچہ علامات مرض میںکمی ہونے سے مریض کو خود بھی فائدے کا اندازہ ہو جاتا ہے لیکن


بہتر ہے کہ ہر دس دن بعد شوگر کا باقاعدہ ٹسٹ کر وا لیا جائے شوگر کے تناسب سے میتھی کے بیج کا


استعمال 100 گرام روزانہ تک بھی کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں میتھی کے بیج دال کی طرح یا کسی


سبزی میں ملا کر پکا کے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔ شوگر کے مریضوں کو میتھی کے بیج استعمال


کروانے کا میرا طریقہ یہ ہے کہ میتھی کے بیجوں کو درد را پسو ا لیتا ہوں اور صبح دوپہر شام 20-20


گرام سادہ پانی سے استعمال کرواتا ہوں ۔ شوگر زیادہ ہو تو 30-30 گرام اور اگر کم ہو تو 10-10


گرام بھی صبح دوپہر شام استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔ اس کے استعمال کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں


 مذکورہ بالا کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میتھی کے بیجوں کا استعمال ذیابطیس میں انتہائی مفید ہے اس


دوران چاول ,آلو ، گوبھی, اروی ,کیلا اور دیگر میٹھی اشیاء سے پرہیز ضروری ہے صبح کی سیر بھی


لازمی ہے اور یاد رہے کہ میتھی کے استعمال کے دوران ایلو پیتھک ادویہ استعمال ہو رہی ہو ں تو کوئی


 حرج نہیں ۔

kalwanji aur kalwanji ka oil ky faiday

kalwanji aur kalwanji ka oil ky faiday


 حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے ’’کلونجی ہر بیماری کا علاج ہے‘ سوائے موت کے‘‘ (بخاری و مسلم


کلونجی شوگر کے مریضوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے۔ یہ معدے اور لبلبے کی رطوبت کو اعتدال پر لاتی ہے۔


 شوگر کیلئے نسخہ


کلونجی 50 گرام‘ کڑتما50 گرام‘ تخم سیرس 50 گرام‘ گوند کیکر50 گرام‘ تخم


جامن 50 گرام‘ تخم کاسنی 50 گرام۔ تمام اشیا کو کوٹ چھان کر سفوف بنالیں۔ ایک چمچ صبح و شام


 پانی کے ساتھ استعمال کریں۔


 لاعلاج بیماریوں کیلئے نسخہ


خالص شہد ایک پاؤ‘ کلونجی پانچ گرام‘ کلونجی کو پیس کر شہد میں مکس


کردیں‘ ایک چمچ صبح و شام استعمال کریں۔ گرمیوں میں ایک چمچ ایک گلاس پانی میں گھول کرپئیں۔


 جنسی کمزوری کیلئے


کلونجی 50 گرام‘ عقرقرحا 50 گرام‘ تخم ریحان 50 گرام‘ مصری 50 گرام‘ تخم


ریحان کے علاوہ باقی تمام اشیاء کو کوٹ چھان کر سفوف بنالیں۔ خوراک: چوتھائی چمچ صبح و شام دودھ


یا پانی کے ساتھ استعمال کریں۔


 کینسر اور شوگر کیلئے


کلونجی 25 گرام‘ تخم میتھی 25 گرام‘ گلاب کے


پھول 50 گرام‘ تمام اشیاء کوکوٹ چھان کر سفوف بنائیں۔ خوراک: آدھا چمچ صبح‘ دوپہر‘ شام پانی کے


 ساتھ استعمال کریں۔


[caption id="attachment_1961" align="aligncenter" width="248"]desiherbal.com-kalwanji aur kalwanji ka oil ky faiday2 desiherbal.com-kalwanji aur kalwanji ka oil ky faiday2[/caption]

 حافظہ اور یادداشت اور معدہ کیلئے: حافظہ کو بہترین بنانے کیلئے نہار منہ ایک چٹکی کلونجی


(کم از کم گیارہ دانے) روزانہ کھائیں۔ اسے پیس کر کھانا زیادہ بہتر ہے۔ کلونجی معدے کومضبوط کرتی


ہے۔ کلونجی جسم کے کسی بھی حصے میں واقع رکاوٹ سُدّے کو دور کرتی ہے۔ تبخیری مادے کو باہر


نکالتی ہے‘ اگر اسے پیس کر خالص سرکہ میں ملا کر کھایا جائے تو پیٹ کے کیڑے مار دیتی ہے۔ اس کا


 آدھا چمچ پیس کر پانی کے ساتھ کھانے سے بلغمی دمہ کو جڑ سے ختم کردیتی ہے۔ گیس‘ قبض‘ نزلہ


زکام‘ کھانسی‘ ٹی بی‘ فالج‘ لقوہ‘ سر کا درد‘ حافظہ کی کمزوری کیلئے مفید ہے۔ اگر اسے پیس کر گرم


پانی میں شہد کے شربت کے ساتھ پیا جائے تو گردے اور مثانہ کی پتھری نکال دیتی ہے۔ اس کو پیس کر


دودھ میں ملا کر پینے سے یرقان کو فائدہ ہوتا ہے ‘ اسے تخم کاسنی کے ساتھ ملا کر کھانے سے یرقان


کا جڑ سے خاتمہ کرتی ہے۔ اس کو ابال کر پینے سے بواسیر دور ہوجاتی ہے۔ اس کو مسلسل کھانے سے


فالج اور لقوہ دور ہوجاتا ہے۔ نہار منہ خالص زیتون کے تیل کے ساتھ کھائی جائے تو چہرے کا رنگ گلابی


 ہوجاتا ہے۔ اس کی عام خوراک ایک چٹکی (کم از کم گیارہ دانے) ہے جو پانی کے ساتھ نگل لیں۔ دماغی


کمزوری‘ جسمانی و اعصابی کمزوری میں روغن کلونجی کے پانچ قطرے شہد یا کسی شربت میں ملا کر


پئیں۔


قوت حافظہ کیلئے


پانچ گرام پودینہ ایک پیالی پانی میں ابال کر ایک چمچ شہد اور دس قطرے روغن


                                                 کلونجی ملا کر نیم گرم حالت میں ہر روز اٍستعمال کریں۔


قوت باہ کیلئے: روغن کلونجی 10 قطرے شہد یا شربت کے ہمراہ استعمال کریں۔ سردرد اور چکر آنے کی


صورت میں پانچ قطرے روغن کلونجی دہی کے ساتھ دن میں تین مرتبہ کھائیں اور درد کی جگہ روغن


کلونجی کی مالش کریں۔


 گردن توڑ بخار کیلئے


روغن کلونجی ایک لیموں کے رس کے ساتھ صبح وشام لیں۔


 

یرقان کیلئے


ایک پیالی پانی میں 25 گرام مہندی کے پتے رات کو بھگودیں۔ صبح کو چھان کر حاصل


شدہ پانی میں ایک چمچ شہد اور آدھا چمچ روغن کلونجی ملا کر پینا چاہیے۔ نکسیر کیلئے: ایک صاف


کاغذ کو جلا کر اس کی راکھ میں دو قطرے روغن کلونجی ملا کر ناک میں ڈالیں جس سے نکسیر رک


جائے گی


[caption id="attachment_1960" align="aligncenter" width="250"]desiherbal.com-kalwanji aur kalwanji ka oil ky faiday desiherbal.com-kalwanji aur kalwanji ka oil ky faiday[/caption]

 بخار کیلئے


اجوائن دیسی بارہ گرام ایک گلاس پانی میں رات کو بھگو دیں۔ صبح پانی صافکرکے دس قطرے


روغن کلونجی ڈال کر پی لیں۔ ایک ہفتہ میں افاقہ ہوجائے گا۔


قبض کیلئے


 سناءمکی آدھا چمچ اور روغن کلونجی آدھا چمچ گرم دودھ میں ملا کر رات کو سونے سے پہلے استعمال


کریں۔


  ہیضہ 


سونف ایک چمچ‘ پودینہ ایک چمچ‘ دارچینی ایک چمچ‘ نمک آدھا چمچ‘ چھوٹی الائچی6 عدد لے


کر چائے کی طرح ایک لیٹر پانی میں پکائیں۔ ہر دو گھنٹہ بعد اس کا آدھا گلاس لے کر اس میں پانچ قطرے


روغن کلونجی ملا کر پئیں۔


ہچکی کیلئے


آدھا چمچ روغن کلونجی مکھن میں ملا کر استعمال کریں۔ ریاح اور گیس کیلئے دیسی اجوائن


ساٹھ گرام میں 10 قطرے روغن کلونجی ملا کر لیموں کے رس میں ڈبودیں


پھر اسے دھوپ میں خشک کرکے اس میں دو چمچ کالا نمک ملالیں۔


خوراک: آدھا چمچ صبح و شامکھائیں۔

سبز دھنیا کے انمول فائدے


 ​سبز دھنیا  کے انمول فائدے



 دنیا بھر میں عموماً اور برصغیر پاک و ہند میں خصوصاً دھنیا کچن کا لازمی حصہ ہے۔ یہ کسی بھی ڈش


کے ذائقہ میں صرف اضافہ نہیں کرتا بلکہ انتہائی اشتہا انگیز مہک  رکھتا ہے۔ دھنیا کے بارے میں جتنا


لوگ سوچتے ہیں، اس کے فوائد ان کی سوچ  سے کہیں زیادہ ہیں، یہاں ہم آپ کو دھنیا کے چند اہم ترین


فوائد سے روشناس کروائیں گے۔


  سبز دھنیا  اورذیابیطس


 برصغیر کے دو اہم ملک بھارت اور پاکستان دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کا ہیڈ کوارٹر بنتے جا


رہے ہیں، کیوں کہ یہاں کے لوگ اس مرض سے لڑنے کے نئے طریقوں کی کھوج نہیں کرتے، لیکن ہم آپ


کو بتائیں کہ دھنیا اس ضمن میں آپ کی بھرپور مدد کر سکتا ہے۔ برطانوی جرنل آف نیوٹریشن میں شائع


ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دھنیا کے عرق میں ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں، جو جب خون میں


 شامل ہوتے ہیں تو اس سے انسولین میں اضافہ اور شوگر کی سطح کم ہو جاتی ہے۔


سبز دھنیا اورکولیسٹرول


 اگر آپ اپنے جسم میں کولیسٹرول کی سطح بڑھنے سے پریشان رہتے ہیں تو اس مشکل کا حل


قدرت نے آپ کے لئے دھنیے کے پتوں میں رکھ دیا ہے۔ دھنیا آپ کے جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو


 بڑھنے سے روکے رکھتا ہے۔


[caption id="attachment_1947" align="aligncenter" width="535"]desiherbal.com-dhaniya-ke-faide-benefits-urdu desiherbal.com-dhaniya-ke-faide-benefits-urdu[/caption]

سبز دھنیا اور بلڈ پریشر


 اگرآپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں تو دھنیااستعمال کریں، جو آپ کو نفع پہنچا سکتا ہے۔ دھنیا


کے پتے کولنیرجک نامی مرکب اور کیلشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ دونوں جزو خون کی گردش کو


متناسب بنائے رکھتے ہیں۔


سبز دھنیا  اورنظام انہضام


اگر آپ بدہضمی کا شکار ہےں تو دھنیا آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ مختلف نیوٹرنٹس سے


 بھرپور دھنیا معدے کو تقویت پہنچا کر نظام انہضام کے کارکردگی کو بہتر بنا دیتا ہے۔


سبز دھنیا  اور سوزش


 ایک ڈچ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دھنیا کے پتے قدرتی طور پر جسم کے


کسی بھی حصہ کی انفلیمیشن (سوزش یا جسم کے کسی بھی حصہ کا سرخ ہونا ) کو کم کرنے کا ذریعہ


ہے۔ دھنیا کے تیل، اومیگاتھری اور سکس کا ایک مکسچر بنا کر متاثرہ جگہ پر ملنے سے آپ کو فوری


آرام مل سکتا ہے۔


سبز دھنیا  اینٹی بیکٹریل


دھنیا میں اینٹی بیکٹریل مرکبات بھی شامل ہوتے ہیں، جو کسی بھی طرز کی انفیکشن کے


 علاج میں نہایت معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔


 ان کے علاوہ کینسر کے علاج,قوت مدافعت میں اضافہ, اچھی نیند لانے میں بھی دھنیا میں شامل


 اجزاءاہم کردار ادا کرتے ہیں۔

چنے قدرت کا عظیم تحفہ اور اسکے 100 حیران کن فائدے

چنے قدرت کا عظیم تحفہ اور اسکے 100 حیران کن فائدے


چنے بڑی مفید غذا ہے۔ اسی لیے بحیرہ روم میں ساڑھے سات ہزار سال قبل اِسے بطور اناج بویا گیا۔ یہ دنیا کے قدیم ترین اناجوں میں شامل ہے۔
چنا دالوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی دو بنیادی اقسام ہیں


کالا چنا اور سفید چنا۔


 دونوں وٹامن اور معدنیات سے بھرپور غذا ہیں۔ بھارت، پاکستان، ترکی، آسٹریلیا اور ایران میں چنا کثیر تعداد میں پیدا ہوتا ہے۔
چنا ایک دو نہیں کئی طبی فوائد رکھتا ہے۔ اس میں فولاد, وٹامن بی 6,میگنیشم,پوٹاشیم, کیلشیم کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ فاسفورس، تانبے اور میگنیز کی بھی خامی مقدار ملتی ہے۔


 چنے کے طبی فوائد درج ذیل ہیں۔
 وزن کم کیجیے
چنے میں ریشہ (فائبر) اور پروٹین کثیر مقدار میں ملتے ہیں۔ پھر اس کا گلائسیمک انڈکس بھی کم ہے۔ اسی بنا پر چنا وزن کم کرنے کے سلسلے میں بہترین غذا ہے۔ کیونکہ عموماً ایک پلیٹ چنے کھا کر آدمی سیر ہوجاتا ہے اور پھر اُسے بھوک نہیں لگتی۔
دراصل چنے کا ریشہ دیر تک آنتوں میں رہتا ہے۔ لہٰذا انسان کو بھوک نہیں لگتی۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو مرد و زن دو ماہ تک چنے کو اپنی بنیادی غذا رکھیں، وہ اپنا آٹھ پونڈ وزن کم کرلیتے ہیں۔ یاد رہے، ایک پیالی چنے عموماً پیٹ بھر دیتے ہیں۔
 نظام ہضم کا معاون
چنے میں ریشے کی کثیر مقدار اُسے نظام ہضم کے لیے بھی مفید بناتی ہے۔ یہ ریشہ آنتوں کے جراثیم (بیکٹریا) کو مختلف مفید تیزاب مہیا کرکے انھیں قوی بناتا ہے۔ نتیجتاً وہ آنتوں کو کمزور نہیں ہونے دیتے اور انسان قبض و دیگر تکلیف دہ بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
 ضد تکسیدی مادوں کی فراہمی
انسانی جسم میں آزاد ا اصلیے (مضر صحت آکسیجن سالمے) مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ضد تکسیدی مادے(Antioxidants)انہی سالمات کا توڑ ہیںجو مختلف صحت بخش غذائوں میں ملتے ہیں۔ ان غذائوں میں چنا بھی شامل ہے۔ چنوں میں مختلف ضد تکسیدی مادے مثلاً مائریسٹین(Myricetin)، کیمفوریل، کیفک ایسڈ، وینلک ایسڈ اور کلوروجینک ایسڈ وغیرہ ملتے ہیں۔ ان کے باعث چنا مجموعی انسانی صحت کے لیے بہت عمدہ غذا ہے۔




[caption id="attachment_1923" align="aligncenter" width="800"]dseiherbal.com-چنے قدرت کا عظیم تحفہ اور اسکے 100 حیران کن فائدے dseiherbal.com-چنے قدرت کا عظیم تحفہ اور اسکے 100 حیران کن فائدے[/caption]

 کولیسٹرول میں کمی
جسم میں کولیسٹرول بڑھ جائے،تو امراض قلب میں مبتلا ہونے اور فالج گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چنے اپنے مفید غذائی اجزا کی بدولت فطری انداز میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتے ہیں۔ ایک تجربے میں ماہرین نے ان مرد و زن کو ایک ماہ تک آدھی پیالی چنے کھلائے جن کے بدن میں کولیسٹرول زیادہ تھا۔ ایک ماہ بعد ان کے کولیسٹرول میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
دراصل چنے میں فولیٹ اورمیگنیشم کی خاصی مقدار ملتی ہے۔ یہ وٹامن و معدن خون کی نالیوں کو طاقتور بناتے اور انھیں نقصان پہنچانے والے تیزاب ختم کرتے ہیں۔ نیز حملہ قلب(ہارٹ اٹیک)اِمکان بھی کم ہوجاتا ہے۔
گوشت کا بہترین نعم البدل
چنے میں خاطر خواہ پروٹین ملتا ہے۔ اگر اسے کسی اناج مثلاً ثابت گندم کی روٹی کے ساتھ کھایا جائے، تو انسان کو گوشت یا ڈیری مصنوعات جتنی پروٹین حاصل ہوتی ہے اور بڑا فائدہ یہ ملتا ہے کہ نباتی پروٹین زیادہ حرارے یا سیچوریٹیڈفیٹس نہیں رکھتی۔
 ذیابیطس کی روک تھام
چنے اور دیگر دالیں کھانے والے ذیابیطس قسم 2 کا شکار نہیں ہوتے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ غذائیں زیادہ ریشہ اور کم گلائسیمک انڈکس رکھتی ہیں۔ اسی باعث ان میں موجود کاربوہائیڈریٹ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں۔ اسی عمل کے باعث ہمارے خون میں شکر یک دم اوپر نیچے نہیں ہوتی اور متوازن رہتی ہے۔
یاد رہے، انسان جب کم ریشے والی کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذا کھائے، تو اُس کے خون میں شکر بہت تیزی سے اوپر نیچے ہوتی ہے۔جب یہ عمل معمول بن جائے، تو انسولین نظام گڑبڑا جاتا ہے۔ یوں ذیابیطس قسم 2جنم لیتا ہے۔
توانائی میں اضافہ
چنے میں شامل فولاد، مینگنیز اور دیگر معدن و حیاتین انسانی قوت بڑھاتے ہیں۔ اسی لیے چنا حاملہ خواتین اور بڑھتے ہوئے بچوں کے لیے بڑی مفید غذا ہے۔ یہ انھیں بیشتر مطلوبہ غذائیت فراہم کرتا ہے۔
  مزید برآں چنا ساپونینز نامی فائٹو کیمیکل رکھتا ہے۔ یہ کیمیائی مادے ضد تکسید کا کام دیتے ہوئے خواتین کو  سینے کے سرطان  سے بچاتے۔ نیز ہڈیوں کی بوسیدگی کے مرض سے بھی محفوظ رکھتے ہیں
چنوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اُسے کئی ماہ تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ان کی غذائیت کم نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں بھگونے کے بعد استعمال کیا جائے،تو بہتر ہے۔ یوں وہ جلد ہضم ہوجاتے ہیں۔ چنوں کو چار تا چھ گھنٹے بھگونا کافی ہے۔   بھگونے کے بعد چنے جتنی جلد استعمال کیے جائیں، بہتر ہے۔ چنے بھگوتے ہوئے اُن میں تھوڑا سا نمک اور میٹھا سوڈا ڈال لیا   جائے، تو وہ جلد گل جاتے ہیں۔

BASTARD CEDAR روہنی کے فائدے

BASTARD CEDAR روہنی کے فائدے


BASTARD.CEDAR مختلف نام:- (بنگلہ) روہن (سنسکرت) پڑانگا (انگریزی


 پہچان :- یہ درخت ستر فٹ اونچا ہوتاہے۔ پتے ایک ایک ڈالی میں سات سات عدد لگتے ہیں


رنگ :- سبز


ذائقہ :- تلخ


 مزاج :- گرم تر


 مقدار خوراک :- دو تولہ


[caption id="attachment_1880" align="aligncenter" width="448"]desiherbal.com-BASTARD CEDAR روہنی کے فائدے desiherbal.com-BASTARD CEDAR روہنی کے فائدے[/caption]

افعال و استمال :- اسکے چھال کے جوشاندہ کی کلی کرنا گلے کی بیماریوں کو مفید ہے۔ اندرونی طورپر


اسہال و پیچس ، خفقان اور قلب کی بیماریوں کو مفید ہے۔ نیز باری کا بخار دفع کرتا ہے


 مقام پیدائش:- شمالی مغربی ، دکن ، راجپوتانہ اور سیلون

Powered by Blogger.