روزہ اور گرمی
رمضان کے اس مہینے میں ایک شربت سے متعارف کراتا ہوں جس کا تعلق دور نبوی ﷺ کے معمولات سے ہے احادیث کی کتابوں میں نبوی غذاؤں کا جب مطالعہ کرتے ہیں تو نبیذ ایک ایسی اصطلاح ملتی ہے جس کا استعمال اہل عرب اب بھی کرتے ہیں لیکن عجم میں اس کا استعمال ختم ہوگیا ہے۔
کھجور کا استعمال گرمی اور تری دکھاتا ہے لیکن اگر اسی کھجور کو پانی میں بھگو کر اور اس کا شربت بنایا جائے تو اس سے زیادہ پرتاثیر اور تسکین سے بھرپور شاید کوئی شربت ہوگا۔ ویسے بھی اس وقت پوری دنیا میں دل کے امراض‘ انجائنا‘ ہارٹ اٹیک کیلئے کھجور کا استعمال بہت تیزی سے رواج پکڑ رہا ہے کیونکہ دنیا واپس فطرت کی طرف پلٹ رہی ہے اور کھجور فطرت ہے۔ آئیں! ہم ذرا کھجور کا شربت آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں کہ رمضان میں اس سے بھرپور لطف اٹھائیں۔
ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ رمضان کا مہینہ آرہا گرمی کا مہینہ ہے‘ پیاس‘ لو‘ حدت‘ اور حبس مجھ سے ویسے ہی برداشت نہیں ہوتی پھر روزے کے ساتھ کیسے برداشت ہوگی؟ میں نے کہا بالکل آسان ہے‘ آپ ایسا کریں روزہ رکھنے کے بعد دو بڑے چمچ گلاب کے پھولوں کا گلقند کھاکر اوپر سے ایک گلاس پانی پی لیں یا پھر اس سے بہتر ہے کہ گلاب کے پھولوں کے دو چمچ کھاکر اوپر سے کھجور کا شربت پی لیں اسی طرح افطار کے وقت کھجور سے افطار کرکے چسکی چسکی کھجور کا شربت پئیں‘ گھونٹ گھونٹ نہ پئیں‘ پیاس گرمی‘ حدت‘ جلن سارے جسم کی نڈھالی پل بھر میں ختم ہوجائے گی۔
ویسے بھی سحری کے بعد گلقند کھانے والا اور کھجور کے گلاس کا ایک شربت پینے والا سارا دن ایسے تروتازہ رہے گا کہ احساس تک نہیں رہتا کہ اسے روز ہے کہ نہیں ہے۔ جتنا بھی پرمشقت کام کرے اور جتنی زیادہ گرمی اور لو میں دن کا جتنا وقت گزارے اسے زیادہ سے زیادہ یہی احساس ہوگا کہ میرا روزہ ہے اس سے