صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے

صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے


وہ مصر کا ایک امیر بزنس مین تھا ابھی اس کی عمر صرف پچاس سال کے لگ بھگ تھی کہ ایک دن اس کو دل میں تکلیف کا احساس ہوا، اور جب اس


نے قاہرہ کے سب سے بڑے ہسپتال میںاپنا علاج کرایا تو انہون نے معذرت کرتے ہوئے اسے یورپ جانے کا کہا، یورپ میں تمام ٹیسٹ مکمل کرنے کے


بعد وہاں کے ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ تم صرف چند دن کے مہمان ہو، کیونکہ تمھارا دل کام کرنا چھوڑ رہا ہے۔


وہ شخص بائی پاس کروا کر مصر واپس آگیا اور اپنی زندگی کے باقی دن گن گن کر گزارنے لگا۔


ایک دن وہ ایک دکان سے گوشت خرید رہا تها جب اس نے دیکھا کہ ایک عورت قصائی کے پھينکے ہوئے چربی کے ٹکڑوں کو جمع کر رہی ہے۔ اُس


شخص نے عورت سے پوچھا تم اسے کیوں جمع کر رہی ہو؟


صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے


عورت نے جواب دیا کہ گھر میں بچے گوشت کھانے کی ضد کر رہے تھے، چونکہ میرا شوہر مر چکا ہے اورکمانے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے اس لیے


میں نے بچوں کی ضد کی بدولت مجبور ہوکر یہ قدم اٹھایا ہے، اس پھینکی ہوئی چربی کے ساتھ تھوڑا بہت گوشت بھی آجاتا ہے جسے صاف کر کے پکا


لوں گی۔


صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے


بزنس مین کی انکھوں میں آنسو آگئے اس نے سوچا میری اتنی دولت کا مجھے کیا فائدہ میں تو اب بس چند دن کا مہمان ہوں، میری دولت کسی غریب


کے کام آجائے اس سے اچھا اور کیا۔


اس نے اسی وقت اس عورت کو کافی سارا گوشت خرید کر دیا اور قصائی سے کہا اس عورت کو پہچان لو، یہ جب بھی آئے اور جتنا بھی گوشت مانگے


اسے دے دینا اور پیسے مجھ سے لے لینا۔


اس واقعے کے بعد وہ شخص اپنے روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہوگیا، کچھ دن اسے دل میں کسی تکلیف کا احساس نہ ہوا، تو اس نے قاہرہ میں


موجود لیبارٹری میں دوبارہ ٹیسٹ کرائے، ڈاکٹروں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق آپ کے دل میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن تسلی کیلئے آپ دوبارہ


یورپ میں چیک اپ کروا آئیں۔


صدقہ ہر بلا کو ٹال دیتا ہے


وہ شخص دوبارہ یورپ گیا اور وہاں ٹیسٹ کرائے، رپورٹس کے مطابق اس کے دل میں کوئی خرابی سرے سے تھی ہی نہیں، ڈاکٹر حیران رہ گئے اور


اس سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیا کھایا کہ آپ کی بیماری جڑ سے ختم ہوگئی۔


اُسے وہ گوشت والی بیوہ یاد آئی اور اس نے مسکرا کر کہا، علاج وہاں سے ہوا جس پر تم یقین نہیں رکھتے، بے شک میرے نبی ﷺ نے سچ کہا تھا کہ


صدقہ ہر بلا کو ٹالتا ہے۔

مختلف اقسام کے ساگ کےفوائد

مختلف اقسام کے ساگ کےفوائد


انسان ، سبز پتّوں والی سبزیاں اور ساگ دونوں کا ساتھ بہت پرانا ہے ۔ان کی غذائی اہمیت کے باوجود آج بعض لوگ ساگ کو معمولی درجے کی غذا سمجھتے ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد انہی ساگوں اور سبزیوں پر قائم ہے ۔ قدرت ان ہی کے ذریعے زندگی کی تعمیر کے لیئے ضروری اجزاء تیار کرتی ہے ان کے بغیر زندگی زیادہ دیر تک صحت مند بنیادوں پر استوار نہیں رہ سکتی ہے ۔ دودھ جسے ہم اعلٰی درجے کی غذا سمجھتے ہیں انہی ساگوں اور سبزیوں کا دوسرا روپ ہے ۔ سائنسی اعتبار سے ساگ میں ، کیلشیئم ، سوڈیم ، کلورین ، فاسفورس ، فولاد ، پروٹین ( جسم کو نشونما دینے والے اجزاء ) اور وٹامن اے ، بی اور ای کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ ساگ کے بارے میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ساگ اور دودھ بڑی حد تک ایک دوسرے کا بدل ہو سکتے ہیں اور ساگ جسم میں بڑی حد تک دودھ کی کمی پورا کرسکتے ہیں ۔بچّوں کی نشونما اور پرورش میں بھی ساگ سے بہت مدد ملتی ہے اور اگر بچّوں میں بچپن ہی سے ساگ اور سبزیوں کے کھانے کی رغبت پیدا کی جائے تو یہ عادت زندگی بھر انہیں بہت سی بیماریوں اور مشکلات سے محفوظ رکھ سکتی ہے ۔ ذیل میں ساگ کی کچھ اقسام اور ان کے طبّی اور سائنسی خواص و فوائد سے آگاہ کیا گیا ہے ۔


سرسوں کا ساگ 


طبّی سائنس کی جدید تحیقیق کے مطابق سرسوں کے پتّوں کے ساگ میں حیاتین ب ، کیلشیئم اور لوہے کے علاوہ گندھک بھی پوئی جاتی ہے ۔اس کی غذائیت گوشت کے برابر ہے ۔ یہ ساگ خون کے زہریلےمادّوں کو ختم کرکے خون صاف کرتا ہے ۔ اطباء نے سرسوں کے ساگ ، مکئی کی روٹی اور مکھن کو ایک عمدہ غذا قرار دیا ہے ۔ دار چینی ، بڑی الائچی ، کالا زیرہ پیس کر ساگ کے اوپر چھڑک کر کھانے سے گیس یا پیٹ میں مروڑ کی تکلیف نہیں ہوتی ، حکماء کے مطابق سرسوں کا ساگ اپنی تاثیر کے لحاظ سے گرم خشک ، قبض کشا اور پیشاب آور ہے ۔اس کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے ہلاک ہوجاتے ہیں اور بھوک بڑھ جاتی ہے ۔



بتھوے کا ساگ 


بتھوا مشہور ساگ ہے ۔ اطباء کے مطابق اس کی تاثیر سرد ہے ۔ گرم مزاج والوں کے لیئے خاص طور پر مفید ہے ۔بتھوے میں وہ تمام غذائی اجزء پائے جاتے ہیں جو صحت اور توانائی کے لیئے ناگزیر ہیں ۔یہ قبض کشا ہوتا ہے ، سینے اور حلق کو نرم کرتا ہے ، گرمی کو دور کرتا ہے ، پیاس بجھاتا ہے اور حلق کے ورم کے لیئے بھی مفید ہے ۔اس کے بیج بھی دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور اس کے تمام خواص بتھوا کے ساگ کے مطابق ہیں ۔حکماء اور اطباء کے مطابق برص کے مرض میں روزآنہ دن میں چار یا مرتبہ بتھوے کے پتّوں کا رس سفید دانوں پر لگائیں اور بتھوے کا ساگ یا بجھیا بنا کر کھائیں ۔دو ماہ کے استعمال انشاء اللہ برص کے داغ دور ہو جائیں گے ۔ بتھوے کو اگر چقندر کے ساتھ پکائیں تو اس کی اصلاح ہوجاتی ہے ۔ بتھوے کا ساگ معدے اور آنتوں کو طاقت بخشتا ہے ۔ جگر اور تلّی کے امراض میں مفید ہے ۔ہر قسم کی پتھری اور پیشاب کی جملہ بیماریوں میں اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔



خرفے کا ساگ 


اسے قلفے کا ساگ بھی کہتے ہیں ۔ جتنے بھی ساگ ہیں سب میں حیاتین اور معدنی نمک پائے جاتے ہیں ۔ان کی غذائیت کے پیشِ نظر اپنے اپنے موسم میں سب ہی غذا کے طور پر استعمال کرنے چاہئیں ، خرفہ یا قلفہ نمکین ساگ ہے ۔ معدے اور جگر کی گرمی کو دور کرتا ہے ۔ اس کے استعمال سے پیاس کی شدّت کم ہوتی ہے ۔ اس لیئے ذیابطیس کے مریضوں کے لیئے بے حد مفید ہے ۔ اسے پکانے کے مختلف طریقے ہیں ۔مثلاً اسے گوشت کے ساتھ پکانے سے اس میں دال کے فوائد بھی شامل ہوجاتے ہیں ۔ جن لوگوں کو کھٹائی پسند ہوتی ہے وہ اس میں ٹماٹر یا امچور ڈالتے ہیں ۔ قلفہ روٹی اور چاول دونوں کے ساتھ مزہ دیتا ہے ۔ بعض لوگ اسے باریک کتر کر نمک مرچ ملا کر گندم کے آٹے یا بیسن میں ملا کر روٹی پکا کر کھاتے ہیں ۔ خرفے کے بیج صفرا کو تسکین دیتے ہیں ۔ تپ صفراوی میں پیاس بجھاتے ہیں ۔ معدے کی گرمی اور گرمی کے سر درد کے لیئے مفید ہیں ۔ جگر کی گرمی کو کم کرتے ہیں ۔ خرفے کا ساگ کھانے کے بعد تھوڑا سا گُڑ کھانا مفید ہے ۔



مکو کا ساگ 


مکو کا ساگ اہم طبّی خواص سے مالا مال ہے ۔ اس کے پتّوں کو کوٹ کر ان میں پانی ملا کر جگر ، معدہ ، آنتوں ، گردوں ، پتّے اور رحم کی سوجن دور کرنے کے لیئے صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اطباء کے مطابق جب جگر بڑھ جائے ، پیٹ پھول جائے اور اس سے اپھارہ ہونے لگے تو مکو کا ساگ پکا کر اس میں نمک کی جگہ نوشادر ملا کر چند دن سے چند ہفتوں تک کھانے سے پیشاب کے راستے جسم کا فالتو پانی نکل جاتا ہے ۔ ورم دور ہوجاتا ہے ۔ جگر اور گردوں کی خرابی میں بدن پھول جاتا ہے اور ہاتھ پاؤں پر ورم آجاتا ہے تو ایسے میں چند دن مکو کے ساگ کے استعمال سے یہ تکلیف دور ہوجاتی ہے ۔ خونی بواسیر ، پتھری اور کھانسی میں بھی یہ ساگ صحت بخش ہے قبض کشا اور پیشاب آور ہے ۔ یرقان کے مرض میں اس کا استعمال شفا یابی کا عمدہ نسخہ ہے ، ہچکی اور قے کو روکتا ہے ۔گردوں کے تمام امراض میں خصوصیت سے مفید ہے ۔



سوئے کا ساگ 


سویا سونف کی طرح کاشت کیا جاتا ہے ۔اطباء نے اسے گیس تحلیل کرنے والی سبزی قرار دیا ہے ۔ صدیوں سے یہ اسی غرض سے استعمال ہورہا ہے ۔ بے خوابی کی شکایت میں اس کے سبز پتّے تکیے کے نیچے رکھنے کا رواج عام ہے ۔ اطباء کے مطابق جب پیٹ میں درد رہنے لگے ، معدہ غذا کو پوری طرح ہضم نہ کرسکے ۔ طبعیت بوجھل اور پیٹ خراب ہو تو سویا اور پودینے کے ہم وزن پتّوں کا پانی شکر ملا کر دودھ کے ساتھ پینے سے دودھ بھی ہضم ہو جاتا ہے اور پیٹ بھی ہلکا ہوجاتا ہے ۔گردے اور مثانے کی پتھری اور پیشاب کی تمام بیماریوں میں سویا ایک نعمت اور شفا بخش ہے ۔ سوئے کا ایک آسان استعمال یہ ہے کہ آپ روزآنہ اپنے دسترخوان کے سلاد میں اس کی چند پتیاں شامل کر لیا کریں ۔یہ ہاضمے کے لیئے مفید ثابت ہوگا ۔ سویا جسم میں بادی اور اس سے پیدا ہونے والی متعدد بیماریوں کا بھی موثر علاج ہے ۔



پالک کا ساگ


یہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ساگ ہے ۔اس میں حیاتین الف اور لوہا وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ طبّی سائنس کی جدید تحقیق کی رو سے 100 گرام پکے ہوئے پالک میں 23 حرارے ، 3 گرام پروٹین ، 4 گرام نشاستہ ، اور 2 گرام غذائی ریشہ ہوتا ہے ۔ پالک زود ہضم اور پیشاب آور ہے اور اس کی تاثیر سرد ہے ۔ معدے کی سوزش ، جگر کی گرمی کو دور کرتا ہے ۔ دماغ کی خشکی سے نجات کے لیئے مفید اور آزمودہ ہے ۔ غذائی ریشے کی خاصی مقدار کی وجہ سے قبض کشا بھی ہے ۔ اس کی مضرت کی اصلاح دارچینی سے ہوجاتی ہے ۔جو بچّے مٹی یا کوئلہ کھاتے ہیں ، پیٹ بڑھا ہوا ہوتا ہے اور ضدّی ہوتے ہیں ، انہیں پالک ، میتھی ، بند گوبھی اور شلغم زیادہ کھلائیں ۔ اس سے ان کا نظامِ ہضم درست ہوگا اور جسم میں طاقت آئے گی ۔پالک کے بیج دوا کے طور پر پیشاب لانے اور معدہ کی سوزش کو دور کرنے کے لیئے استعمال ہوتے ہیں پیاس کو بھی تسکین دیتے ہیں ۔ جن لوگوں کو دائمی قبض کی شکایت رہتی ہو انہیں پالک کا باقاعدہ استعمال کرنا چاہیئے ، اطباء کے مطابق پتھری ، یرقان ، مالیخولیا اور گرمی کے بخار میں بھی پالک کا استعمال فائدہ بخش ہے ۔غذائی ماہرین تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چونکہ پالک میں فولاد اور کیلشیئم کی مقدار قدرے زائد ہوتی ہے لہٰذا یہ خون بڑھاتا ہے اور جگر کو تقویت دیتا ہے ۔کیلشیئم ہڈیوں کی ساخت کو مضبوط ، سخت اور پائیدار بناتا ہے ۔جن لوگوں کے جسم میں خون کی کمی ہو وہ اسے ضرور استعمال کریں ۔ مجرب اور بہترین قدرتی نسخہ ہے ۔



میتھی کا ساگ


میتھی میں تمام حیاتین ملی جلی شکل میں کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔یہ غذائیت سے بھرپور ساگ ہے ۔ اس کے زرد رنگ کے بیج میتھی دانہ کہلاتے ہیں ۔اس کا مزاج گرم تر ہے ۔قدرت نے اس کے بیجوں میں حیاتین کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے ۔ بیجوں میں پروٹین گوشت کے برابر مقدار میں شامل ہیں ۔ اطباء کہتے ہیں کہ میتھی موٹاپا پیدا کرتی ہے ۔موٹا ہونے کے خواہشمند افراد کے لیئے حکیم حضرات تجویز کرتے ہیں کہ ایک پاؤ میتھی اور دو پاؤ منقٰی اچھی طرح پیس کر ایک ایک تولے کے لڈو بنا لیں روزآنہ ایک لڈو استعمال کرنے سے خاطر خواہ فائدہ ہوگا ۔ میتھی جسم کے فاسد مادّوں کو خارج کرتی ہے ۔کیونکہ اس کا ذائقہ تلخ ہوتا ہے ، میتھی دانہ کا استعمال تقریباً ہر اچار میں ہوتا ہے ۔یہ خون صاف کرتی ہے ، پھوڑے پھنسیوں سے بچاتی ہے ، چہرے کی رنگت نکھارنے میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے ۔میتھی کا سالن غذائیت کے لحاظ سے ہر طبقے کے افراد کے لیئے بہت مفید ہے ۔



چولائی کا ساگ


چولائی کے ساگ کو خود رو ساگ بھی کہا جاتا ہے ۔اس کی دو اقسام بہت ہی عام ہیں ۔ان میں سے ایک قسم سرخ چولائی اور دوسری سبز چولائی کہلاتی ہے ۔سبز چولائی تو نہایت عام ہے تاہم سرخ چولائی کا استعمال اطباء حضرات مریضوں کے مختلف امراض کا غذاؤں سے علاج کے دوران انہیں یہ کھانے میں تجویز کرتے ہیں ۔یہ ہاضمے اور خون صاف کرنے میں مفید سمجھی جاتی ہے ۔ چولائی کے استعمال کا شہروں میں عام رجحان نہیں ہے ۔تاہم یہ انسان کو صحت مند رکھنے کے لیئے قدرتی علاج بھی ہے ۔
الغرض پتّوں والی سبزیاں اور ساگ انسانی جسم کی نشونما ، صحت اور تندرستی کی بقاء کے لیئے ناگزیر ہیں ، اسی لیئے ہمیں چاہیئے کہ روزمرہ کی غذا میں ان قدرتی غذائی نعمتوں سے بقدر مناسب استفادہ کریں ۔ کسی بھی سبزی کو بطور دوا استعمال کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں

ذکاوت حس اور سرعت انزال کا طلسمی نسخہ

ذکاوت حس اور سرعت انزال کا طلسمی نسخہ


 ذکاوت حس اور سرعت انزال کے مریض اکثر بہت سی دوائیں استعمال کرتے ہیں مگر انہیں فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ بہت سے حکماء بغیر مزاج کی


تشخیص کیئے دوا دے دیتے ہیں یہ جو نسخہ بیان کرنے لگا ہوں ذکاوت حس اور سرعت انزال کے لیئے ہر مزاج اور ہر عمر کے مریضوں کے لیئے بہت


اعلیٰ ہے ۔میرے پاس دواخانے میں ذکاوت حس اور سرعت انزال  کے بے شمار مریضوں کو اللہ پاک نے اس نسخہ سے شفاء دی ذکاوت حس اور سرعت


انزال کا یہ نسخہ ہمارے دوا خانے میں عرصہ 50 سال سے آزمودہ ہے۔ اس نسخہ کو میرے دادا حکیم اللہ دیہ صاحب نے ذکاوت حس اور سرعت انزال


کے مریضوں کوبنا کر اور لکھ کر بھی دیا تاکہ وہ اس کو فی سبیل للہ تقسیم کر سکیں بفضل خدا ذکاوت حس اور سرعت انزال کا ہ نسخہ کبھی خطا نہیں


گیا 


ذکاوت حس اور سرعت انزال کے نسخہ کے اجزائے ترکیبی


ثعلب مصری50گرام ۔ موصلی سفید50 گرام ۔ برنج ساٹھی50 گرام ۔ سنگھاڑہ خشک50گرام


کشتہ قلعی10گرام ۔ مصری200گرام


ذکاوت حس اور سرعت انزال کے نسخہ کی ترکیب استعمال


دس گرام صبح نہار منہ اور دس گرام رات ہمراہ دودھ 21 دن استعمال کریں 


ذکاوت حس اور سرعت انزال  کے نسخہ کے فوائد


بفضل خدا پہلے دس دن میں ہی ذکاوت حس اور سرعت انزال کا خاتمہ ہو کر قدرتی ٹائمنگ بحال ہو جاتی ہے۔اور مرد کو شرمندگی سے نجات مل جاتی ہے


 اگر اللہ پاک آپ کو فائدہ دے تو اس نسخہ کو ضرورت مندوں کو بتا کر صدقہ جاریہ کی لڑی بنائیں


ذکاوت حس اور سرعت انزال کے نسخہ کی احتیاطیں اور طریقہ کار


اس نسخہ کو شروع کرنے سے پہلے اگر قبض یا معدہ خراب ہو تو پہلے اس کا علاج کریں اور دوران علاج صحبت سے پرہیز اور ہر قسم کی جنسی


سرگرمی سے پرہیز اور تیز مصالحہ جات اور بازاری کھانوں سے پرہیز کریں۔


آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ کسی کو اچھی اور میٹھی بات بتانا بھی ضدقہ ہے۔ تو اگر آپ سمجھتے ہیں


اس نسخہ سے کسی کا بھلا ہو سکتا ہے اس کو شیئر ضرور کریں۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں ہم نے یہ جو


نسخہ جات شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اچھا ہے تو آپ ہماری ویب سائیٹ کو چندہ ضرور دیں


تاکہ ہم اس سلسلہ کو جاری و ساری رکھ سکیں شکریہ


والسلام۔۔۔ حکیم عمران کمبوہ 03046539899 یہ نمبر وٹس ایپ پر بھی ہے اور


دوسرا نمبر 03216486707 اور یہ نمبر ایمو پر بھی ہے


ikamboh11سکائیپ آئ ڈی


اور مردانہ طاقت کے مزید نسخوں کے لیئے یہاں کلک کریں


اور کال شام 6 سے رات 10 بجے تک ہی کریں

مباشرت یعنی صحبت سے فارغ ہونے کے بعد کا عمل

مباشرت یعنی صحبت سے فارغ ہونے کے بعد کا عمل


جنسی تعلیم کی کمی کے باعث اکثر مردوعورت کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ جب صحبت سے فارغ ہوں تو کیا کرنا چاہیے اس ویڈیو میں بتایایہ بتایا گیا کہ صحبت  کے بعد کونسا عمل کرنا ہے اس بات پر عمل کر کے اپ ہزاروں بیماریوں سے بچ سکتے ہیں صحبت سے  فراغت کے بعد عموما لوگ لیٹے رہتے ہیں مگرصحبت کے فورا بعد پیشاب کرنا لازمی ہے



Mubashrat Se Faraghat Ke Baad Ka Amal... by desiherbal

مباشرت یعنی صحبت سے فارغ ہونے کے بعد کا عمل کی ویڈیو اگر آپ کو اچھی لگے تو شیئر ضرور کریں


آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ کسی کو اچھی اور میٹھی بات بتانا بھی ضدقہ ہے۔ تو اگر آپ سمجھتے ہیں


اس نسخہ سے کسی کا بھلا ہو سکتا ہے اس کو شیئر ضرور کریں۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں ہم نے یہ جو


نسخہ جات شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اچھا ہے تو آپ ہماری ویب سائیٹ کو چندہ ضرور دیں


تاکہ ہم اس سلسلہ کو جاری و ساری رکھ سکیں شکریہ


والسلام۔۔۔ حکیم عمران کمبوہ 03046539899 یہ نمبر وٹس ایپ پر بھی ہے اور


دوسرا نمبر 03216486707 اور یہ نمبر ایمو پر بھی ہے


ikamboh11سکائیپ آئ ڈی


اور مردانہ طاقت کے مزید نسخوں کے لیئے یہاں کلک کریں

سنکھیا کے طبعی استعمال

سنکھیا کے طبعی استعمال


ARSENIC مختلف نام :- (ہندی ) سنکھیا (فارسی) مرگ موش (عربی) الفار شک (انگریزی


آرسنک ۔ سم الفار


سنکھیا کی پہچان


ایک معدنی زہر ے جوکہ لوہے اور گندھک کے ساتھ ملا ہوا پایا جاتا ہے رنگت کے لحاظ سے


اس کی کئی قسمیں ہیں بلوری، دودھیا وغیرہ دودھیا بہترین قسم سمجھی جاتی ہے بلوری تیس گنا اور


دودھیا قسم اسی گنا میں حل ہوتی ہے۔


 سنکھیا کا رنگ


 زرد ، سفید، سیاہ ، سرخ


سنکھیا کا ذائقہ


پھیکا


 سنکھیا کا مزاج


 گرم وخشک درجہ چہارم


سنکھیا کی مقدار خوراک



چاول تک 1/2 چاول سے1/8


مصلح :- روغن زرد


 سنکھیا کے افعال و استمال 


مقوی بدن ، مقوی باہ ، دافع امراض بلغمی ودبادی مصفی و مقوی خون اور دافع حمیات


ہے مصفی و مقوی خون ہنے کے وجہ سے قلت الدم آتشک برص خدر اور دیگر امراض جلدیہ میں بکثرت


مستعمل ہے دافع امراض بلغمی وریاحی ہونے کے باعث لقوہ ، فالج ، درد کمر ضیق النفس ، بلغمی ، عرق


النسا وغیرہ میں کھلاتے ہیں چنانچہ جو ہر سین ایک چاول منقی میں رکھ کر بلغمی بخاروں اور نوبتی


بخاروں اور معجون وئید الورد کے ہمراہ ملاکر استسقا میں کھلاتے ہیں اس کا کشتہ بھی انہی اغراض کے


لیے مذکورہ میں کھلایا جاتا ہے اکال ہونے کی وجہ سے بواسیری مسوں کو گرانے کےلیے طلاع مستعمل


ہے اور اس کو دیگر ادویہ کے ہمراہ مقوی باہ طلاؤں میں شامل کرتے ہیں سم قاتل اس کا دھواں زہریلا


ہوتا ہے آنکھوں کو بچانا چاہیے

Jima,Humbistari Karne Ka Fitri Or Ghair Fitri Tarika

Jima,Humbistari Karne Ka Fitri Or Ghair Fitri Tarika
Jima ka fitri tarika yehi hai ke aurat neechay ho or mard upar rahay. Chunachay saray hewanat isi fitri tarika par amal karte hein or Surah Aeraaf ki Ayat # 189 mein bhi yehi tarika nihayat lateef isharay mein bayan kiya gaya hai.
Tarjuma: "Jab mard ne aurat ko dhaanp liya to us ko halka sa hamal reh gaya"
Is ki soorat yehi ho sakti hai aurat chit letay or mard is ke upar pat (Ulta) letay to is tarah mard ke jism se aurat ka jisam dhak jaye ga.

Jima,Humbistari Karne Ka Fitri Or Ghair Fitri Tarika
Isi tarika mein ziyada rahat o asani hai. Aurat ko bhi mushaqqat nahi uthana parti nez istaqrar hamal ke lie bhi ye tarika mufeed hai.
Sheikh Al Raees Hakam Bu Ali Seena ne bhi apna kulyat qanoon tib mein isi tarika ko pasandida bataya hai. Sheikh Al Raees ke nazdeek jima ki tamam shaklo mein buri shakal ye hai ke aurat mard ke upar or mard neechay chit leta ho kiyounkay is soorat mein sperm mard ke azu mein baqi reh kar mutaffun hokar aziyat ka bai's hoti hai.

Humbistari Karne Ka Fitri Or Ghair Fitri Tarika... by desiherbal

Jima,Humbistari Karne Ka Fitri Or Ghair Fitri Tarika

Jima Ke Foran Baad Pani penay ka nuqsan

Jima Ke Foran Baad Pani penay ka nuqsan


Jima yani intercourse ke foran baad pani pene se app ka pet barh jata he yani jise toon kehte hain wo nikal aati he.Jima yani sex ke baad body warm ho jati hai.saans aur dil ki darkan taiz chalne lag jati hai.lehaza thodi dair ke baad  saans le kar paani peena chaheiItba ki tehqeeq hai ke jima ke foran baad pani nahi peena chahiye aesa karne se tanaffus yani dama ka marz paida ho jata hai is liye maida pur hone ki halat mein jima karne ko mana kiya gaya hai kiyounkay jab maida pur hota hai to jima ki hararat se khushki paida hoti hai or piyas ka ghalba hota hai.

Jima Ke Foran Baad Pani penay ka nuqsan


 


Jima Ke Foran Baad Pani pena -desiherbal.com by desiherbal

محمدﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا محمدﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا


مفتی اعظم عراق کے فتویٰ پر شاہ عراق نے حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے

مزارات کھول کر سلمان پاک میں منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لیکن تیرہ سو سال گزرنے کے بعد آخر یہ سب کیوں کیا جارہا ہے۔

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ تھی اور تعلق قبیلہ غطفان سے تھا۔ رسول صلی اللہ علیہ

وسلم کے راز دان تھے۔ آپ کے اور آپ کی والدہ دونوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے بخشش کی دعا

کی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کئی غزوات میں شریک رہے۔ عراق فتح ہونے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ رضی

اللہ عنہ کو نواح و جلہ کا افسر مقرر کیا۔ بتیس ہجری میں آپ نے آذربائیجان فتح کیا اور بعد میں مدائن کے حاکم بھی

بنائے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قرآن پاک کی نقلیں کراکر ساری اسلامی سلطنت

میں پھیلانے کا مشورہ دیا تھا۔

حضرت جابر بن عبداللہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برگزیدہ صحابی ہیں۔ عقبہ ثانیہ میں والد سمیت مسلمان

ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر قرض کی ضرورت پڑتی تو آپ ہی سے لیتے۔ متعدد غزوات میں شریک رہے۔

بیعت رضوان اور حجتہ الوداع کے موقع پر بھی موجود تھے۔

٭....٭....٭
بغداد سے چالیس میل دور ایک مقام کا نام مدائن تھا جس کا موجودہ نام سلمان پاک ہے، دائیں طرف تھوڑے فاصلے پر
دریائے دجلہ بہتا ہے۔ یہاں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ،حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ

عنہ کے مزارات ہیں آخر الذکر دو صحابہ کرام کے مزارات آج سے کچھ دہائیاں قبل عراق کے شاہ فیصل اول کے دور

میں دوبارہ تدفین کے بعد بنائے گئے ہیں اس سے قبل یہ دو مزارات سلمان پاک سے تقریباً دو فرلانگ کے فاصلہ پر

تھے۔

ایک رات عراق کے شاہ فیصل اول کے خواب میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے مزار

میں پانی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے مزار میں نمی آنا شروع ہوگئی ہے لہٰذا ہمیں یہاں سے منتقل کرکے

دریائے دجلہ سے ذرا فاصلہ پر دفن کیا جائے۔ دو راتوں تک یہ خواب شاہ عراق کو مسلسل آتا رہا لیکن وہ مصروفیات

کے سبب بھول گئے۔ تیسری رات عراق کے مفتی اعظم کو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خواب میں وہی بات کہی

اور کہا ہم دو راتوں سے بادشاہ سے کہہ رہے ہیں لیکن وہ بھول جاتے ہیں آپ بادشاہ کی توجہ دلائیں۔

مفتی اعظم نے ٹیلی فون پر وزیر اعظم نوری السعید پاشا کو صورتحال سے آگاہ کیا اور پھر وزیر اعظم کے ساتھ

بادشاہ سے ملاقات کی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے حکم پر عمل کرنے پر زور دیا۔ شاہ عراق نے کہا کہ اچھا تو

پھر آپ فتویٰ دیجیے چنانچہ یہ فتویٰ شاہ عراق کے اس فرمان کے ساتھ عید الاضحی کو نماز ظہر کے بعد حضرت

حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے مزارات کھولے جائیں گے۔

اخبارات میں شائع کرادیا گیا۔ فتویٰ اور فرمان کا اخبارات میں شائع ہونا تھا کہ تمام عالم اسلام میں جوش و خروش اور

ہلچل پھیل گئی۔ اس وقت کی مشہور رائٹر نیوز ایجنسی اور دیگر کے ذریعے یہ خبر دنیا بھر میں پھیل گئی۔

یہ حج کا زمانہ تھا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ معظمہ آئی ہوئی تھی، انہوں نے اور دنیا کے دیگر

کئی ممالک نے شاہ عراق سے درخواست کی کہ قبر کشائی عید الاضحی کے کچھ دن بعد کی جائے تاکہ وہ بھی صحابہ

کرام رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شامل ہوسکیں۔

شاہ عراق کے لیے یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ایک طرف عالم اسلام کا اصرار اور دوسری جانب مسلسل آنے والے

خواب میں جلد از جلد منتقلی کی ہدایت۔ آخر دریا کے رخ پر دس فٹ کے فاصلے پر ایک لمبی اور گہری خندق کھدوا کر

اس میںسیمنٹ اور بجری وغیرہ بھروادی گئی اور شاہی فرمان جاری ہوا کہ اب مزارات کی منتقلی عید کے دس روز بعد

کی جائے گی۔

زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا محمدﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا


عراق کی حکومت نے اس موقع پر دوسرے ممالک سے آنے والوں پر کسٹم پاسپورٹ وغیرہ کی تمام شرائط ختم

کردیں۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے وفود عراق آنا شروع ہوگئے۔

آخرہ وہ دن بھی آگیا جب مختلف مذاہب مسالک اور عقائد سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد اسلام کی حقانیت کو

اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے سلمان پاک میں جمع ہوگئے۔ سرکاری وفود مختلف ممالک کے سفرائ، شاہ فیصل

اور مفتی اعظم اور لاکھوں افراد کی موجودگی میں مزارات کو کھولا گیا تو واقعی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی قبر

مبارک میں پانی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک میں نمی آچکی تھی۔ ایک کرین کے ذریعے جس پر

اسٹریچر نصب تھا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی نعش مبارک کو زمین سے اس طرح اٹھایا گیا کہ ان کی نعش

خودبخود کرین پر نصب اسٹریچر پر آگئی۔ اسٹریچر کو کرین سے علیحدہ کیا گیا اور شاہ عراق، مفتی اعظم عراق،

شہزادہ فاروق والی مصر اور ترکی وزیر مختار نے اسٹریچر کو کندھا دیا اور شیشے کے ایک بکس میں رکھ دیا۔ اسی

طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بھی نعش مبارک کو نکالا گیا۔

دونوں صحابہ رضی اللہ عنہ کا کفن حتیٰ کہ ریش ہائے مبارک بالکل صحیح حالت میں تھے اور دیکھ کر ہرگز یہ نہیں

لگتا تھا کہ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہ کی رحلت کو تیرہ سو سال بیت گئے ہیں بلکہ یوں لگتا تھا کہ دو تین گھنٹے

ہوئے ہیں۔

زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا محمدﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا


سب سے حیرت کی بات جو نظر آئی وہ یہ تھی کہ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان میں

ایک پراسرار چمک تھی۔ لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا چاہا لیکن ان کی آنکھیں اس چمک کے

آگے ٹھہرتی نہیں تھیں اور جن آنکھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا ان آنکھوں میں کس کی نظر ٹھہر

سکتی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر عالمی شہرت یافتہ جرمنی کے ماہر امراض چشم نے مفتی اعظم کے ہاتھ پر اسلام قبول

کرلیا۔

صحابہ رضی اللہ عنہ کی لاشیں شیشے کے بکس میں رکھی گئیں۔ رونمائی کی غرض سے چہروں سے کفن ہٹادیا گیا۔

عراقی فوج نے باقاعدہ سلامتی دی۔ مجمع نے نماز جنازہ پڑھا۔ بے شمار لوگوں نے جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت

حاصل کی۔ مزارات کھلنے سے لے کر آخر تک تمام کارروائی ایک جرمن فلم ساز کمپنی نے وہاں موجود لاکھوں افراد

کو تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی اسکرین پر دکھائی، مزید چار بڑی اسکرین لگائی گئیں جس کے سبب تقریباً پانچ

لاکھ افراد نے یہ منظر دیکھا جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ورنہ زیارت کے شوق میں ہزاروں افراد کا

ریل پیل اور بھگڈر کے نتیجے میں جاں بحق ہونے کا خطرہ درپیش تھا۔

اس کے بعد جنازہ کو سلمان پاک کی طرف لے جایا گیا لوگوں نے راستے میں منوں پھول برسائے۔ ہر طرف اللہ اکبر

کے فلک شگاف نعروں کی گونج تھی۔ کئی جگہ راستے میں جنازے رکوائے گئے اور بالآخر دو فرلانگ کا فاصلہ چار

گھنٹے میں طے کرکے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مزار کے پاس پہنچے۔

یہاں مختلف ممالک کے سفراءنے پھول نچھاور کیے، انہی ہستیوں نے جنہوں نے پہلے نعشوں کو کرین سے اتارا تھا۔

پورے ادب و احترام کے ساتھ پہلے سے تیار کی گئی قبروں میں سبحان اللہ اور اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے

درمیان سپرد خاک کیا۔

زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا محمدﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا


بیسویں صدی کے اندر اسلام کی حقانیت کے اس شاندار معجزہ اور واقعہ کو دیکھ کر اتنے لوگ ایمان لائے کہ اندازہ

لگانا مشکل تھا۔

یہ واقعہ بلاشبہ رہتی دنیا تک دین اسلام کی صداقت کو ثابت کرتا رہے گا۔  اور یہ بات ہر جگہ گونجے گی زمیں میلی

نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا محمدﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا ان شاءاللہ

اذخیر ، اراروٹ کے فائدے

اذخیر ، اراروٹ کے فائدے


مختلف نام


ARROW ROOT بنگالی )تیکھر (انگریزی ) ایروروٹ


 اذخیر ، اراروٹ کی پہچان


دو تین قسم کی نباتات (نباتات زرنباہ) دار ہلد وغیرہ) جڑوں سے اراروٹ حاصل کیا جاتاہے۔


بعض لوگ شکر قند سے بھی اراردٹ بناتے ہیں۔


رنگ:- رنگ سفید


ذائقہ:- ذائقہ قدر ے پھیکا


اذخیر ، اراروٹ  کا مزاج :۔ مزاج سرد خشک


اذخیر ، اراروٹ کی مقدار خوراک :- ایک تولہ سو دو تولہ


اذخیر ، اراروٹ کےافعال و استمال


 اذخیر ، اراروٹ مبرد لطف ،معتدی ، ضعف معدہ اسہال ، مثانہ اور امعائ کے زخموں اور قرحہ سوزاک


میں اس کی فیرنی بناکر کھاتے ھیں۔ شیر فروش دودھ کو گاڑھا کرنے اور بالائی بڑھانے کے لیے استعمال


کر تے ھیں ۔ یہ بیماروں کے لیے عمدہ غذا ہے اور آش جو کاقائم مقام ہے۔ ایک درمیانہ چمچہ اراروٹ


تھوڑے سو دودہ میں خوب حل کرکے لئی سی بنالیں۔ پھر ایک پائو دودھ میں تھوڑی سی کھانڈ ڈال کر


جوش دیں۔ جب دودھ ابل رہا ہو تو اسےاراروٹ پر ڈال دیں اور کسی چمچہ سے ہلاتے رہیں بعض اوقات


دودھ کی بجائے پانی میں بھی تیار کیا جاتا ہے۔ (غیر سمی)


مقام پیدائش :- مشرقی بنگال اور سی پی سے لے کر مرراس تک یہ جنگلوں میں بکثرت ہوتا ہے۔ اس کی


تجارت کا کا مرکز مالا بار اور ٹراونکور ہے۔


عضو خاص کی لمبائی اور موٹائی کے لیئے طلاء

عضو خاص کی لمبائی اور موٹائی کے لیئے طلاء


زندگی میں الحمدللہ جب بھی کوئی حکیم یا کوئی بھی شعبہ طب سے تعلق رکھنے والا شخص میرے پاس


نسخہ پوچھنے آیا خدا شاہد ہے اس کو کبھی بھی انکار نہیں کیا مگر ایک دفعہ مجھے پتہ چلا کہ کالی


صوبہ نامی گاوں میں ایک بندہ ہےجس کے پاس ایسا نسخہ ہےجو عضو خاص کی لمبائی اور موٹائی کے


لیئے طلاء کے لیئے بہترین نسخہ ہے۔بڑی تگ و دو کے بعد اس کا ایڈریس پتہ کیا اور اس کے گاوں کالی


صوبہ گئے تو پتہ چلا کہ نواز نامی وہ شخص گاوں یہاں سے چھوڑ کر فیروزوالہ نامی گاوں میں چلا گیا


ایڈریس کا پوچھ کر فیروزوالہ نامی گاوں پہنچ گئے وہاں نواز نامی شخص ملا سلام دعا کے بعد اس نے ہم


سے آنے کا مدعا دریافت کیا ۔جب اس کو میں نے کہا کہ میں نے سنا کہ آپ عضو خاص کی لمبائی اور


موٹائی کے لیئے طلاء بناتے ہیں اس نے کہا بناتا ہوں ۔تو میں نے کہا کہ اس کا نسخہ بتا دیں مہربانی ہو


گی تو نواز نامی شخص نے صاف جواب دے دیا ۔ اور کہا یہ نسخہ میں نے ایک بزرگ کی بہت خدمت سے


حاصل کیا ہے یہ میں کسی کو نہیں بتاوں گا حتی کہ اپنے بیٹے کو بھی نہیں بتاوں گا میں نے اس کو کافی


رقم کی بھی پیش کیش کی مگر اس نے نسخہ بتانے سے انکار کر دیا مایوس ہو کے وہاں چل دئیے اور


اللہ سے دعا کی کہ اس کے دل میں اچھائی آ جائے۔ سات یا آٹھ دن کے بعد وہی نواز نامی شخص دوا


خانے آیا اور چپ کر کے ایک سائیڈ پر بیٹھ گیا جب میں مریضوں سے فارغ ہوا اور اس سے آنے کا


مدعا پوچھا تو اس نے کہا کہ حکیم صاحب آپ اس دن میرے پاس آئے تھے آج میں آپ کے پاس آیا ہوں


مجھے اپنے بیٹے کو بیروں ملک بھیجناہے اور مجھے دس ہزار کی سخت ضرورت ہے آپ مجھے دس


ہزار دے دیں اور نسخہ میں آپ کو بتا دوں گا میں نے کہا کہ آپ دس ہزار لے جاو مگر مجھے نسخہ ن


ہیں چاہیے کیونکہ میرا ایمان ہے اب تم مجبورہو اور ہمارے پیارے نبی پاکﷺ کا فرمان کسی مجبور کی


مجبوری کا فائدی اٹھانا گناہ ہے۔ وہ دس ہزار لے کر چلا گیا 3 ماہ بعد واپس آیا اور مجھے دس ہزار


واپس دئیے اور کہا کہ اب نسخہ نوٹ کریں کیونکہ اب مجبور نہیں ہوں میں نے کہا ہاں اب بتاو اس ن


ے نسخہ بتایا اور کہا کہ یہ نسخہ محنت اور مہارت مانگتا ہے اور اس نے میرے ساتھ ایک دفعہ نسخہ


بھی بنوایا


عضو خاص کی لمبائی اور موٹائی کے لیئے طلاء کا نسخہ اس طرح ہے ۔


سبز چائے عمدہ قسم کی اگر کوالٹی اچھی نہ ہو گی تو فائدہ بھی بہت کم ہو گا 100 گرام لے لیں 1 کلو


پانی میں رات کو بھگو لیں صبح اٹھ کر چولہے پر رکھیں اور اچھی طرح ابالیں جب پانی آدھا رہ جائے تو


اس کو چولہے سے اتار لیں۔ اور سیاہی مائل قہوہ کو اچھی طرح چھان لیں1پاو دیسی باداموں کا تیل جو


خود نکلوایا ہو وہ لے کر کسی ڈھکنے والی دیگچی میں ڈالیں اور اس میں سبز چائے کے قہوے والا پانی


ڈال کر چولہے پر رکھ دیں اور ڈھک دیں اور جب پانی مکمل طور پر جل جائے صرف تیل رہ جائےتو


چولہے سے اتار کر ٹھنڈا کر کے بوتل میں ڈال لیں عضو خاص کی لمبائی اور موٹائی کے لیئے طلاء تیار


ہے روزاںہ رات کو 20 سے 25 قطرے  عضو خاص پر لگائیں اور ملش کریں  کیپ پر اور نیچےنہیں


لگانا ذکاوت حس کے مریض پہلے ذکاوت حس کا علاج کر کے اس کو استعمال کریں باقی ہر عمر اور ہر


مزاج کر لوگ اس استعمال کریں عضو خاص کی لمبائی اور موٹائی میں 3 سے 4 ماہ میں بہت بہتری آ


جائے گی 


آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ کسی کو اچھی اور میٹھی بات بتانا بھی ضدقہ ہے۔ تو اگر آپ سمجھتے ہیں


اس نسخہ سے کسی کا بھلا ہو سکتا ہے اس کو شیئر ضرور کریں۔ اور اگر آپ سمجھتے ہیں ہم نے یہ جو


نسخہ جات شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے اچھا ہے تو آپ ہماری ویب سائیٹ کو چندہ ضرور دیں


تاکہ ہم اس سلسلہ کو جاری و ساری رکھ سکیں شکریہ


والسلام۔۔۔ حکیم عمران کمبوہ 03046539899 یہ نمبر وٹس ایپ پر بھی ہے اور


دوسرا نمبر 03216486707 اور یہ نمبر ایمو پر بھی ہے


ikamboh11سکائیپ آئ ڈی


اور مردانہ طاقت کے مزید نسخوں کے لیئے یہاں کلک کریں


اور کال شام 6 سے رات10 بجے تک ہی کریں


 


 
Powered by Blogger.