Showing posts with label امراض جلد اور بالوں کی خشکی. Show all posts
Showing posts with label امراض جلد اور بالوں کی خشکی. Show all posts

چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج

 چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج


 گرمیوں میں تربوز اور کھیرے کی بہتات ہوتی ہے۔ دھوپ کی تمازت کم کرنے کیلئے دونوں پھل مفید ہیں اور یہ دونوں پھل معدے کی


گرمی کو دور کرتے ہیں۔
     چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج کھیرا


دھوپ کی تپش سے چہرہ تمتما جائے تو ایک کھیرے کو کدوکش کرکے چہرے پر پھیلا لیں۔ ململ کا ٹکڑا چہرے پر رکھ لیں اور پندرہ منٹ کے بعد چہرہ دھولیں۔
کھیرے کے استعمال کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کے باریک قتلے کاٹ لیں۔ ایک گلاس گرم پانی کسی برتن میں ڈال کر کھیرے کے قتلوں کو بھگودیں۔ ایک گھنٹے بعد کھیرے کے قتلے چھان کر نکال لیں۔ اس محلول میں عرق گلاب ملالیں۔ تقریباً چارپانچ چمچ کے برابر اس محلول کو ششی میں ڈال کر فریج میں محفوظ کرلیں۔ وقت ضرورت روئی کے ٹکڑے کو اس محلول میں بھگو کر چہرے پر لگائیں۔ خاص طور پر ناک اور ٹھوڑی پر۔ روغنی جلد کیلئے آزمودہ نسخہ ہے۔
چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج لیموں


لیموں میں زمانہ قدیم سے خوبصورتی کی افزائش کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیموں سے جلد سکڑجاتی ہے کھلے مسام بند ہوجاتے ہیں اور سانولی رنگت میں نکھار آجاتا ہے۔ خشک جلد کیلئے لیموں کا استعمال مناسب نہیں ہے۔ لیموں چکنی جلد کیلئے اکسیر کاکام دیتا ہے۔ ایک بڑے چمچ عرق گلاب میں ایک چمچ چائے والا لیموں کا رس ملا کر اس محلول سے چہرہ صاف کریں۔ چہرے کے علاوہ کہنیوں پر ملیں۔ سیاہ جلد سفید ہوجائے گی۔




[caption id="attachment_2013" align="aligncenter" width="428"]desiherbal.com-چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج desiherbal.com-چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج[/caption]

چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج سیب


سیب خشکی پیدا کرتا ہے۔ سیب کو کدوکش کرلیں۔ کٹے ہوئے سیب کوچہرے پر پھیلا لیں۔ اس کے لگانے سے جلدکی چکنائی کم ہوجاتی ہے۔ کھلے مسام بند ہوجاتے اور چہرے پر چمک پیدا ہوتی ہے۔ پندرہ منٹ کے بعد چہرہ دھولیں۔
چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج ماسک


آپ کوجان کر حیرت ہوگی کہ بہت سے ماسک پھلوں‘ سبزیوں‘ انڈوں‘ دودھ اور وٹامن سے بھی تیار کیے جاتے ہیں۔ انڈوں کو ماسک کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ انڈے ہر قسم کی جلد کیلئے مفید ہوتے ہیں۔
تازہ پھلوں میں اسٹرابری کو کاٹیے یا اسے اچھی طرح کچل کر چہرے پر ملیے۔ اس طرح کیلے کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیلے میں وٹامن‘ کیلشیم‘فاسفورس اور پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کیلے حساس جلد کیلئے بہت مفید ہیں۔
مکئی ماسک: کارن یعنی بھٹے کے چند دانے لے کر اس کا جوس نکال لیں۔ جوس میں سے نکلنے والا سفید مادہ چہرے اور گردن پر لگا کر سوکھنے دیں۔ پھر چہرہ صاف کرلیں۔
 چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج اور احتیاط 
جلد کی نامکمل صفائی بھی مہاسوں کا سبب بنتی ہے۔ جلد کے معاملے میں بے احتیاطی‘ تھکن‘ نیند پوری نہ ہونا اور غیرمتوازن غذا کے اثرات براہ راست چہرے پر نظر آتے ہیں۔ ذہنی دباؤ بھی مہاسوں کا سبب بن جاتا ہے۔ دراصل ان حالات میں روغنی غدود زیادہ سرگرم ہوکر زائد چکنائی پیدا کرنے لگتے ہیں جو جلد کے مساموں کے ذریعے خارج ہونے لگتے ہیں۔ پہلے یہ چکنائی بلیک ہیڈز بناتی ہے جو جلد کی سطح کی مناسب دیکھ بھال اور صفائی سے ختم ہوجاتے ہیں اگر چہرے کی صفائی پر دھیان نہ دیا جائے تو چہرے پر اس کی مستقل موجودگی مہاسوں کی صورت اختیار کرلیتی ہے کیونکہ جلد کا معمولی انفیکشن بھی نظر اندازہ کیا جائے تو مہاسے اور جلدی پھوڑے میں موجودہ زہریلا مواد بدنما نشانات چھوڑ دیتا ہے۔
مہاسے کے مریض کو عموماً خون اور پیشاب ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ ممکن ہے اس کی وجہ پیٹ کے کیڑے‘ بڑی آنت یا چھوٹی آنت کا کوئی انفیکشن ہو۔ عموماً جلدی امراض کا تعلق پیٹ کی بیماریوں اور نظام ہضم کی خرابی سے ہوتا ہے۔ اگر پیٹ یا نظام ہضم میں کوئی خرابی نہ ہو اور تمام ٹیسٹ بھی کلیئر ہوں تو پھر وٹامن کی گولیوں‘ فریش فروٹ‘ جوس تازہ سبزیوں اور چکنائی کے بغیر کھانوں کے استعمال اور ہلکی ورزش سے آپ اس قسم کے مسائل پر قابو پاسکتی ہیں۔
 چہرے کے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں کا علاج اور اسکیلئے ضروری ہدایات
 بلیک اور وائٹ ہیڈز کی مستقل صفائی۔
 جلد پر موجود زائد چکنائی کو صاف کرنا۔
 مسامات کو بند کرنا اور جلدی انفیکشن کا بروقت علاج۔
 صحت مند جلد کیلئے ضروری چیز پانی بھی ہے۔ روزانہ دو لٹر پانی پینے کی روٹین بنالیں تاکہ جسم صحت مند اور جلد صاف ستھری رہے۔ ریشہ دار خوراک کے استعمال سے آپ کو باقاعدگی کے ساتھ اجابت ہوتی ہے جس کے باعث آپ کی رنگت صاف اور روشن ہوجاتی ہے۔ جلد کے بعض خلیوں کی افزائش و مرمت کیلئے وٹامن اے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے خشکی اور خارش پیدا ہونے کی شکایت ہونے لگتی ہے اور جلد کی لچک کم ہوجاتی ہے۔ یہ وٹامن گاجر‘ گوبھی‘ پالک اور خوبانی میں پایا جاتا ہے جس وٹامن کی جسم میں کمی ہو وٹامن گولیوں کی بجائے خوراک کی شکل میں زیادہ فائدہ مند ہوں گے۔
 وٹامن سی آپ کی جلد کو ٹائٹ یا تنا ہوا رکھتا ہے۔ یہ وٹامن سٹرابری, پھل گوبھی, ٹماٹر , سلاد میں پایا جاتا ہے۔
 چہرے کی کیلیں دور کرنے کا طریقہ
 اگر چہرے پر کیلیں نکل آئیں تو پھٹکڑی پانی میں گھول کر لگانے سے یہ کیلیں ہفتہ دس دن میں ختم ہوجاتی ہیں۔
چہرے کی جھریاں دور کرنے کا طریقہ: کاغذی لیموں کے ایسے ٹکڑے لیں جن کا رس نکال لیا گیا ہو۔ اس کو چہرے پر ملیں۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد چہرہ دھولیں۔
 داغ اور پھنسیاں دور کرنے کیلئے
 سنگترے کے چھلکوں کو سوکھا کر پیس لیں اور تازہ پانی میں ملا کر چہرے پرملیں۔

مختلف بیماریاں اور انکا آسان علاج

مختلف بیماریاں اور انکا آسان علاج


موٹاپا اوراس کا علاج


 وہ لوگ جو موٹے ہیں اور دبلے ہونا چاہتے ہیں وہ اپنے جسم کی فالتو چربی کو تحلیل کردیں اور اس کے لیے سب سے اہم سبزیاں


لیموں اور کھٹی اشیاءکھانا ہے ۔



بینائی تیز کرنے کا نسخہ


سونف برابر مقدار میں شکر کے ہمراہ ملاکر رات کو کھاتے رہنے سے بینائی تیز ہوجاتی ہے ۔



کان کے درد کا آسان علاج


روغن گل اور سرکہ برابر مقدار میںپکاکر کانوںمیں ڈالیں، کان کا درد فوری دور ہوجائے گا ۔


سفید پیاز کا عرق اور مرغی کے انڈے کی سفیدی دونوںہم وزن لے لیں اوران کے چند قطرے کان میں ڈالیں کان کے درد کو بےحد


افاقہ ہوگا ۔


مولی کے پتے لیں اور ان کا تین چھٹانگ پانی نکال لیں دونوںکو اس قدر آگ پر پکائیں کہ وہ جل جائے اسے نیم گرم کان میں


ڈالیں،کان درد اور ورم فوراً ختم ہوجائے گا۔


انڈے کی سفیدی اور روغن گل ہم وزن لے کر ملالیں اور انہیں کان میں ڈالیں ۔ بہرہ پن ختم ہوجائے گا ۔



آواز بیٹھ جائے کا علاج


پرانے جَولیں اورانہیں بھون لیں ، دس گرام کی مقدارمیں یہ چند بار کھائیں ، آپ کی بیٹھی ہوئی آواز کھل جائے گی ۔



بہراپن کا علاج 


ایک گرام نوشادر لیں اور اسے پانی میں ملاکر اس کو کان میں حسب ضرورت ڈالیں ۔ کان کا بہراپن کچھ ہی عرصہ کے مسلسل


استعمال سے ختم ہوجائے گا ۔



بلغمی کھانسی اوردمہ کا علاج


 تمباکو کی جلیٹھی کو دوبارہ آگ پر رکھ کر اس قدر جلائیں کہ اس کا رنگ سفید نکل آئے ۔اسے پان میں دورتی رکھ کر کھاتے رہیں،


بلغمی کھانسی اور دمہ ہمیشہ کے لیے دور ہوجائے گا ۔


4گرام عرق گاؤ زبان لیں ۔ اس میں چینی ملاکر پی لیں ۔ پرانی کھانسی کے لیے مجرب ہے ۔


 منقی اوراس سے دوگنی مقدار میں چینی اور مغز بادام لے کر انہیں باریک پیس لیں ۔ صبح وشام چھ گرام کھاتے رہیں ، ہر قسم کی


کھانسی ختم ہوجائے گی ۔


بیس گرام گندم کو پانی میں جوش دیں اوراس پانی کو چھان لیں، اس میں ایک گرام نمک ملالیں ۔ اسے پینے سے کھانسی کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔



بچوں کے نمونیہکا علاج


موم بتی کے شعلے پر لہسن کے ایک جوے کو جلالیں اوراس کا پانی ماں کے دودھ میں حل کرکے بچے


کو دیں بچے کا نمونیہ ختم ہوجائے گا ۔تین چار ماہ کے بچے کے لیے بےحد مفید ہے ۔



خون تھوکنےکا علاج 


 بیس گرام برگ بانسہ لیں اور اسے ذرا سی چینی میں ملالیں اسے پینے سے خون تھوکنے کا مرض ختم ہوجاتا ہے ۔



بچوں کی سردی کا علاج


بچے کو سینے کا در د سردی کے باعث ہوتوایک دس گرام میتھی تھوڑے سے پانی میں جوش دے لیں،


اسے چھان کر اس میں دس گرام شہد ملالیں ۔ سینہ کے درد کے لیے بے حد مفید دوا ہے ۔



پیٹ کے کیڑوں کا علاج


جست کے پتے لیں اوران کا بیس گرام پانی نچوڑ لیں ، انہیں پینے سے پہلی خوراک میں پیٹ کے کیڑے ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ یاد رہے


یہ بےحد کڑوی دوا ہے ۔ اسے پینے کے بعد کوئی میٹھی چیز کھالینے میں حرج نہیں ہے ۔



پھٹے ہونٹوں کا علاج


تربوز کے کچے بیچ لیں اوراسے مناسب مقدار پانی میں ملاکر پیس لیں۔ رات کو انہیں ہونٹوں پر لیپ کردیں اور صبح اٹھ کر انہیں


گرم پانی سے دھو دیں ۔ بہت جلد پھٹے ہوئے ہونٹ درست ہوجائیں گے ۔



خون صاف کرنے کا نسخہ


بیس گرام شیشم کے تازہ پتے چند دن پانی میں جوش دے کر پیتے رہیں ۔ آپ کے خون کی ہر خرابی ختم ہوجائے گی



برص یعنی پھلبہری کا علاج


السی کو سرکہ میں پیس کر برص کے مقام پر لیپ کرنے سے سفیدی ختم ہونا شروع ہوجاتی ہے اور برص کو مکمل شفا مل جاتی


ہے ۔ 


سرسوں کے بیج باریک پیس لیں اورپھر اسے ایک ہفتہ تک بیس گرام بکری کے دودھ کے ساتھ استعمال کرتے رہیں ۔ دوا کے


استعمال کے دوران غذا کم سے کم کھائیں ۔ بےحد مفید علاج ہے ۔



ماہواری کی خرابی کا علاج


رات کو پانی میں بیس گرام چنا اور تل بھگودیں، صبح اسے جوش دے کر پانی چھان لیں ۔ ایک ہفتہ متواتر پیتے رہیں، وہ عورتیں


جن کی ماہواری بند ہوجاتی ہے ان کو ماہواری باقاعدہ آنے لگے گی ۔



 پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کا علاج


رات کو مٹھی بھر چنے سرکہ میں بھگودیں اور اُسے صبح نہار منہ کھالیں ، کوئی دوسری غذا دوپہر تک نہ کھائیں،پیٹ کے کیڑے


ایک ہی بار کھانے سے ہلاک ہوجائیں گے ۔



کھانسی کا علاج


فلفل کو چلم میں تمباکو کی جگہ رکھ کر حقے میں پینے سے کھانسی کا نشان تک مٹ جاتا ہے ۔



بواسیر کا علاج


مہندی کے پتے خشک کرکے باریک پیس لیں اورپھر اسے گھی میں تر کرکے بواسیر پر لگائیں ۔ بواسیر کے مسے بیٹھ جائیں گے ۔


بے خوابی کا علاج 


آپ بے خوابی کی شکایت رکھتے ہیں تو 20گرام مغزکدو لیں مصری ملاکر رات کو کھائیں تو بے خوابی کا عارضہ ختم ہوجائے گا۔



دانت درد اور کیڑوں کا علاج


دانت میں درد ہے اور دانتوںمیں کیڑے آپ کے لیے پریشانی کا موجب ہیں توآپ ذرا سی ہینگ لیں اور اسے دانت کے دردوالے مقام پر


رکھ دیں ۔ فوری آرام مل جائے گا ۔



گنجے پن کا شرطیہ علاج 


بکری کے کُھر لیں اورانہیں جلاکر سرکہ میں حل کرلیں ، اسے گنج پر ملتے رہنے سے بتدریج بال اُگ آئیںگے ۔


کوّے کے پر لیں اورانہیں جلاکر سرکہ میں ملالیں ، و ہ مقام جہاں سے بال گرگئے ہیں یا سر جہاں سے گنجاپن نمودار ہوچکا ہے


وہاں یہ تیل سا لگائیں چند روزکے استعمال سے وہاں بال اُگ آئیںگے

بالوں کو لمبا کر نے کے لیئے بہترین نسخہ

بالوں  کو لمبا کر نے کے لیئے  بہترین نسخہ


بالوں کو لمبا کرنے کے لئے  بہترین نسخہ یہ ہے کہ ہر 6ہفتوں کے بعد اُن کے کناروں کو تراش لیا جائے۔بالوں کی حفاظت کے لئے


کنڈیشنر کا استعمال بہت اہم ہے۔ اس کے لئے انڈہ اور دہی سے زیادہ بہتر کوئی شئے نہیں۔ ایک انڈہ اور ایک پیالی دہی کو یکجان


کرلیں اور انہیں بالوں میں لگالیں۔2گھنٹوں کے بعد بال دھوئیں۔ اس سے نہ صرف بال خوشنما اور چمک دار دکھائی دیں گے بلکہ ان


کی لمبائی میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگا۔بالوں میں پیدا ہونے والی خشکی بالوں کو لمبا کرنے کے لئے  بہترین نسخہ کی دشمن ہے


لہٰذا بالوں کو خشکی سے پاک رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ بالوں کو لمبا کرنے کے لئے  بہترین نسخہ  ایک یہ بھی ہے کہ


سرسوں کے خالص تیل میں انڈے کی زردی اچھی طرح سے ملائیں اور اسے بالوں میں لگائیں۔ ایک گھنٹے کے بعد بال دھولیں ۔اس


سے بتدریج بالوں کی خشکی دور ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم بالوں کو لمبا کرنے کے لئے بہترین نسخہ یہاں 6 تیلوں کو ملا


کرایک تیل بنانے کی ویڈیو دکھا رہے ہیں امید ہے یہ آپ کے بہت کام آئے گی



6 Oils For Long Hair (Balon Ko Lamba Karne Ka... by desiherbal

بالوں  کو لمبا کر نے کے لیئے  بہترین نسخہ کی ورڈیو اگر آپ کو پسند آئے تو نیچے


شیئر کے بٹن کو دبا کر شئیرضرور کریں

Desi Totkay for Growing Hairبالوں کے گرنے کا علاج

Desi Totkay for Growing Hairبالوں کے گرنے کا علاج


بالوں کے گرنے کا علاج


 ناقص غذا، معاشی و معاشرتی پریشانیوں یا کسی بیماری کے باعث ان کا گرنا آج   عمومی مسئلہ بن چکا ہے۔اوربالوں کے گرنے کا


علاج ایک آسان عمل نہیں۔لیکن طب یونانی نے اس مسئلے کا آسان حل نکال لیا یے۔


بالوں کے گرنے کا علاج  میں بالوں کو گرنے سے روکنے، انہیں نرم و ملائم، بڑھانے اور خوبصورت بنانے کے لئے مارکیٹ میں


طرح طرح کے شیمپو، صابن، کریمیں اور لوشن دستیاب ہیں، جو یا تو غیرمعیاری ہوتے ہیں اور اگر معیاری ہوں تو ان کی قیمت خرید


عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی ہے۔


بالوں کے گرنے کا علاج  کے سلسلہ میں آپ کو مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یہاں بالوں کے گرنے کا علاج کے گھریلو


ٹوٹکوں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے آپ کے بال نہ صرف گھنے، سیاہ، چمکدار اور مضبوط ہو جائیں بلکہ آپ بال


گرنے کی مصیبت سے بھی جان چھڑا لیں گے۔


اجزاء:آملہ،بہیڑے،سیکا کائی,ہموزن لے لیں۔




ترکیب تیاری:دونوں اشیاء کو پیس لیں،اور رات کو پانی میں بهگو دیں،رات سونے سے پہلے سر کے بالوں میں سرسوں کے تیل کا


مساج کریں(تیل کو سر پر رگڑنا نہیں)پهر صبح کے وقت آپ نے جس برتن میں ان اجزاء کو بهگویا تها اس میں ملتانی مٹی اور دہی


حسب ضرورت شامل کر لیں،اور ان تمام اشیاء کو مکس کر کے ان سے سر دهو لیں،جتنی زیادہ دیر تک آپ یہ اجزاء اپنے سر پر لگا


کر رکهیں گے اتنا ہی فائدہ ہو گا،اگر آپ مٹی کے استعمال کو پسند نہیں کرتے تو مٹی نہ شامل کریں،پهر بهی یہ نسخہ اتنا ہی فائدہ


مند ہو گا،چند دن مستقل استعمال کریں



ganjay pan ka ilaj گنجے پن کا شرطیہ علاج

ganjay pan ka ilaj گنجے پن کا شرطیہ علاج


ganjay pan ka ilaj گنجے پن کا شرطیہ علاج  hum nay is web site asan 2 totkay likhy hain


ganjay pan ka ilaj گنجے پن کا شرطیہ علاج yeh illah inthai asan aur takreban muft hy ganjay pan ka ilaj گنجے پن کا شرطیہ علاج AP YEH ILLAJ lazi share karin ta k kisi ka bhala hoo.ganjay pan ka ilaj–ganjay pan ka ilaj: Hair loss or Baldness (balon ka girna) is a common problem from which many people suffer. Every day you can lose about 50-100 hairs, but that’s ok, because they are replaced by new ones. If the loss rate is greater than the loss of reproduction, it is an alarming situation. Hair loss is not only affect our appearance, ganjay pan ka ilaj ,but also affects the way we think about our self.ganjay pan ka ilaj This usually occurs because of poor diet, stress, dandruff, poor circulation, anemia, anxiety, mental stress and sedentary lifestyle. While hair loss is usually related with the natural aging process, this need not be a reason always. There are various cure for “ganjay pan ka ilaj



                                                                          ہوالشافی


بکری کے کُھر لیں اورانہیں جلاکر سرکہ میں حل کرلیں ، اسے گنج پر ملتے رہنے سے بتدریج بال اُگ آئیں گے ۔




کوّے کے پر لیں اورانہیں جلاکر سرکہ میں ملالیں ، و ہ مقام جہاں سے بال گرگئے ہیں یا سر جہاں سے گنجاپن نمودار ہوچکا ہے


وہاں یہ تیل سا لگائیں چند روزکے استعمال سے وہاں بال اُگ آئیں گے


ganjay pan ka ilaj گنجے پن کا شرطیہ علاج   pasand aai to share lazmi karin



rang gora karnay ka totkayرنگ گورا کرنے کے ٹوٹکے

rang gora karnay ka totkayرنگ گورا کرنے کے ٹوٹکے


کیا مرد کیا خاتون ہر کوئی گورا ہونا چاہتا ہےاورکون ہے جس کو گورا رنگ پسند نہیں؟ لیکن بعض لوگ بازاری کریمیں استعمال کر کے اپنا چہرہ خوبصورت بنانے کی بجائے اور بھی زیادہ بھیانک بنا لیتے ہیں۔کیونکہ ہر ایک کی جلد مختلف ہوتی ہے اس لئے ہر ایک کے لئے ایک ہی فارموکہ کارآمد نہیں ہوتا۔ اس لئے ہمیشہ کوئی چیز چہرے پر لگانے سے پہلے کسی ڈاکٹر یا جلد کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ذرور کر لیں۔تاکہ بعد میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔آج میں اسی لئے اس موضوع کو چنا ہے تا کہ آپ لوگ گھر میں ہی پڑی چیزوں کو استعمال میں لاکر اپنے رنگ میں بہتری لا سکیں۔


آج میں نے آپ کے لئے چند گھریلو آزمودہ ٹوٹکے لیکر آیا ہوں ویسے تو میں روزانہ ہی اپنی ویب سائیٹ اور فیس بک پیج پر ٹوٹکے لگاتا رہتا ہوں ۔آپ بھی اگر ان ٹوٹکوں سے مستفید ہونا چاہتے ہیں تو میرا فیس بک پیج


 Herbalجڑی بوٹیاں


ویب سائیٹ وزٹ کریں


www.desiherbal.com


لائیک بھی کریں جس کے لئے میں آپکا شکر گزار ہوں گا


قارئین! اب ہم رنگ گورا کرنے والے گھریلو ٹوٹکوں کو پہلے دیکھتے ہیں۔



گھریلو ٹوٹکے


کسی برتن میں آلو کا رس نکال لیں اور اس کو اپنے چہرے پر ایسے لگائیں جیسے آپ بلیچ لگاتی ہیں۔پندرہ منٹ سے آدھا گھنٹہ تک لگا رہنے دیں پھر منہ دھو لیں ۔یہ تقریباً روزانہ ایسے ہی عمل کرنا ہے ۔چند دنوں میں رنگ گورا ہونا شروع ہو جائے گا۔
دوسری چیز بھی گھر میں موجود ہوتی ہے یعنی ٹماٹر بمہ گودا لے کر اپنے چہرے پر لیپ کریں۔یہ بھی چہرہ کا رنگ گورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
لیموں کا رس اور شہد برابر مقدار میں لیکر مکس کر لیں اور اسکو اپنے چہرے پر اپلائی کریں۔اس سے بھی رنگ گورا ہونے میں مدد ملے گی۔
اگر آپ کی جلد چکنی ہے تو پھر آپ کھیرے کا رس لیں اور اس میں لیموں کا رس ملا کر چہرے پر لیپ کریں۔ایسا کرنے سے آپ کا رنگ گورا یوگا۔
اگر آپکے چہرے پر چکن پاکس کے داغ ہوں تو اس کے لئے آپ کوکونٹ کا پانی لیکر اس سے چہرہ صاف کریں۔
ایک چمچ خشک دودھ،لیمن کا جوس ،بادام کا آئل لیکر ملا لیں اور چہرہ پر لگائیں ۔پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں پھر منہ پانی صاف کر لیں۔ اس سے آپ کا رنگ گورا ہوگا۔
لیمن کے جوس میں ہلدی ملا کر پیسٹ بنا لیں اور اس کو چہرہ پر لگائیں ۔اس سے بھی رنگت نکھر تی ہے۔دس منٹ لگا رہنے دیں پھر پانی سے منہ دھو لیں۔اس سے آپ کا رنگ گورا ہوگا
اس کے علاوہ شہد میں بلائی ملا کر رات کو سوتے وقت لگائیں کچھ دیر بعد ہلکا مساج کر کے اتار لیں۔اس سے نہ صرف رنگت اچھی ہو گی بلکہ دانوں اور داغ دھبوں میں بھی فرق پڑ جائے گا۔اس سے آپ کا رنگ گورا ہوگا
آجکل گاجر کا موسم ہے تو جناب روزانہ گاجر کھائیں یا پھر گاجر کا جوس نکال کر پئیں۔یہ بھی رنگ گورا کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔
پودینے کی پتیاں پانی میں ڈال کر ابال لیں اور ان کو نہار منہ پی لیں ۔یہ بھی رنگت بہتر کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔اس سے آپ کا رنگ گورا ہوگا
آخر میں ایک اور طریقہ جس آپ کی جلد کے تمام مسام صاف ہو جاتے ہیں ۔ایک دیگچی میں پانی لی کر ابال لیں اب اس سے چہرہ پر بھاپ لیں یاد رکھیں پانی زیادہ گرم نہ ہو۔اس سے آپ کا رنگ گورا ہوگا



ہومیو پیتھک ادویات


آئیوڈیم 1ایم کے دو قطرے پانی میں ڈال کر دن میں صرف ایک بار15 دن میں ایک مرتبہ ہی پینے ہیں۔اس دوا کے دو قطرے ہر پندرہ دن کے بعد لینے ہیں۔۔کم از کم چار ماہ تک یہ عمل کرنا ہے۔اس سے آپ کا رنگ گورا ہوگا
فیرم فاس 30 روزانہ تین بارچار قطرے پانی میں ملا کر لیں کم از کم دو ماہ تک مسلسل استعمال کریں۔اس سے آپ کا رنگ گورا ہوگا

خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے

خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے



 میک اپ چاہے کتنی ہی محنت سے کیا گیا ہو اگر بال چہرے کی مناسبت سے نہ سنوارے جائیں تو ساری محنت بے کا ہے لیکن بالوں کو سنوارنے کا لطف تب ہی آتا ہے جب وہ ملائم ، چمکدار اور صحت مند ہوں۔


خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے


1نسخہ نمبر


اگر آپ چاہتے ہیں کہ بال دھونے کے بعد الگ الگ نظر آئیں تو بالوں کی جڑوں میں دودھ کا ہلکا سا مساج کرنا چاہیے ا سکے بعد نیم گرم پانی میں لیموں کا رس نچوڑ کر بالوں میں ڈال دیا جائے تو بال جھڑنے بند ہو جائیں گے اور الگ الگ نظر آئیں گے۔


لیموں کے رس میں پانی ملا کر سر دھوئیں چند دنوں میں خشکی دور ہو جائے گی۔


خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے


2نسخہ نمبر



بالوں میں چمک پیدا کرنے کے لئے سرکے کا استعمال بہت مفید ہے۔ سفید سرکہ ہلکے رنگ کے بالوں اور رنگ دار سرکہ سیاہ اور  گھنے بالوں کے لئے بہتر ہے، اگرچہ سرکہ قدرتی اور اصل پھلوں کا بنا ہو۔


خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے


3نسخہ نمبر



سیکا کائی اور آملہ کے پانی کے ساتھ دھونے سے بال چکنے اور ملائم ہوتے ہیں۔ اور سفید بال کالے ہونے لگتے ہیں۔ دھونے کے بعد اگر آپ بالوں پر ناریل کا تیل لگا دیں تو آپ کودوگنا فائدہ ہو گا۔۔


خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے


4نسخہ نمبر




ماش کی دال بھگو کر پیس لیں اور اس کا پیسٹ سر پر لگائیں ایک گھنٹے کے بعد سادہ پانی سے سر دھو لیں، یہ بالوں کو لمبا کرنے کے عمل کو تیزی سے بڑھاتا ہے۔


خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے


5نسخہ نمبر



 بال مظبوط کرنے کے لئے کدو کو گرائنڈ کر کے عرق نکال لیں اور بالوں پر اس طرح لگائیں کہ تمام بال اس عرق میں تر ہو جائیں، آدھے گھنٹے تک لگا رہنے دیں،خشک ہو جائے تو دھولیں۔


خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے


6نسخہ نمبر



 آملہ خشک بارہ گرام پیس کر ایک انڈے کی سفیدی میں اچھی طرح حل کر لیں، چھ ملی لیڑ سرسوں کے تیل کو ایک سو گرام دہی میں پھینٹ کے انڈے کی سفیدی کا مرکب اس میں شامل کر کے رات کو سوتے وقت بالوں میں لگائیں اور صبح نیم گرم پانی سے سر دھو لیں، دو ہفتوں میں بہتری نظر آئے گی ۔


خوبصورت بالوں کے لیئے قدرتی ٹوٹکے


7نسخہ نمبر



تازہ آملے کا عرق اور لیموں کا رس ملا کر لگانے سے بال لمبے ہوتے ہیں۔

 

گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج

natural cure for hair fall     گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج 


‘گھنے اور لمبے بال خوبصورتی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ بال لمبے ہوں یا چھوٹے اُن کی حفاظت بہت ضروری ہے ‘جھڑتے ہوئے بال شخصیت کو متاثرکردیتے ہیں۔بال اگر موروثی یا طویل عمری کی وجہ سے گررہے ہوں تو لاعلاج تصور کئے جاتے ہیں لیکن اگر بیماری کی وجہ سے یہ صورت پیش ہو تو اس کا علاج ممکن ہے کیوں کہ مرض اور کمزوری دور ہونے پر بال دوبارہ نکل سکتے ہیں ۔


بالوں کا گرنا موجودہ دور کے لوگوں کا ایک عام مسئلہ ہے، آج کے عہد میں بالوں کے گرنے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسا کہ ہمارا مصروف ترین شیڈول ہمیں بالوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد نہیں فراہم کرتا، اسی طرح ہمارا مضرصحت طرز زندگی اور خراب غذائی عادات بھی اس مسئلے کی شدت کو بڑھا دیتی ہیں۔


تاہم فکرمند مت ہوں ایسی کئی جڑی بوٹیوں کے تیل موجود ہیں جن کا روزانہ یا ہفتہ وار استعمال بالوں کے گرنے کی رفتار کو سست یا کم کردیتا ہے۔



گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج کا نسخہ نمبر 1


زیتون کے گرم تیل کی مالش اپنے سر پر کم از کم ایک یا دو گھنٹوں تک کرنے سے آپ کی زلفوں میں نمی برقرار رہتی ہیں کیونکہ یہ تیل بالوں کی جڑوں کو بھر دیتا ہے اور انہیں بھرپور غذائیت فراہم کرتا ہے۔



2گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج کا نسخہ نمبر


بادام کا تیل وٹامن ڈی اور ای کے حصول کے لیے اہم ہے جو کہ ہمارے بالوں کو قدرتی نمی فراہم کرکے انہٰں خشک، روکھے اور خم دار ہونے سے بچاتا ہے، رات کو سر دھونے سے قبل بالوں پر اس تیل کی مالش آپ کو صحت مند، گھنے اور مضبوط بالوں کا مالک بناتی ہے



3گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج کا نسخہ نمبر


 ناریل کے تیل کو اپنے بالوں کی جڑوں میں اپنی انگلیوں کی مدد سے لگا سکتا ہے، اس سے بالوں کو ہونے والے نقصانات اور بالوں کے سروں کے دو حصے ہوجانے وغیرہ کی مرمت ہوتی ہے، ناریل کے تیل کو گرم کرکے سر پر استعمال کریں اس سے خون کی روانی میں بہتری کے ساتھ بالوں کو ضروری آکسیجن کی فراہمی بھی ہوگی۔



4گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج کا نسخہ نمبر


آملہبالوں کی حفاظت کے طور بالوں کی نگہداشت کے لیے ضروری جڑی بوٹی ہے، آملہ پاﺅڈر کے پیسٹ کو ناریل کے تیل میں ملا کر استعمال کرنے سے نہ صرف بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ یہ بالوں کی نشوونما کو بھی بڑھاتا ہے، یہ خشکی کو روک کر قبل از وقت بالوں کو سفید ہونے سے بھی روکتا ہے۔



5گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج کا نسخہ نمبر


ایلوویرا جراثیم کش ہوتا ہے اور اس میں ایسی خوبیاں ہوتی ہیں جو خشکی کو کنٹرول میں رکھتی ہیں، اس کے جیل کو ناریل کے تیل میں ملا کر سر پر تیس منٹ تک مالش کی جائے اور پھر دھولیا جائے تو اس سے سر میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور یہ بال گرنے کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔



6گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج کا نسخہ نمبر


روزمیری بالوں کی نشوونما بڑھا دیتی ہے، اس کا ہربل عرق جب ناریل کے تیل میں ملا کر سر پر لگایا جاتا ہے تو یہ بالوں کی چمک بڑھا دیتا ہے اور قبل از وقت گنج پن سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔



7گرتے بالوں کی حفاظت و قدرتی علاج کا نسخہ نمبر


کیسٹر آئل آپ کے بالوں کے تمام مسائل کا بہترین حل ثابت ہوتا ہے، اس تیل کا اپنے سر پر استعمال معمول بنا لینے سے خون کی روانی بڑھتی ہے اور ضروری آکسیجن ملتی ہے جبکہ اس سے بالوں کی نشوونما میں بھی بہتری آتی ہے، اس کے علاوہ یہ وٹامن ای اور اومیگا سکس فیٹی ایسڈز سے بھی بھرپور ہوتا ہے جو بالوں کی نمی برقرار رکھ کر انہیں ٹوٹنے سے روکتا ہے۔

Pimples cure:کیل مہاسوں کا علاج

 Pimples cure     :    کیل مہاسوں کا علاج


سب سے پہلے ہمیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ یہ گرمی سے ہیں یا خشکی سے ہیں یا پھر تری سے، اور تب علاج کی طرف آئیں۔



گرمی


یہ گرمی سے ہیں تو صبح نہار منہ ایک سرد گلاس باسی پانی اور لیموں کا شربت پیجئے اور دن بھر زیادہ سے زیادہ پانی پیجئے۔ مصالحہ دار اشیاء ہرگز استعمال نہ کریں



خشکی


 اگر کیل مہاسے خشکی کے باعث ہوں تو رات سونے سے قبل چہرے پر دودھ کی بالائی ملیں



تری


 اگر کیل مہاسے تری سے ہوں تو پھٹکری پانی میں بھگو کر رکھ لیجئے اور دن میں تین چار بار اس کا پانی منہ پر لگائیے۔ کیل مہاسے اس عمل سے ختم ہوجاتے ہیں اور سرخ و سفید رنگت نکل آتی ہے۔

what is the Pimples and its cure :کیل مہاسے کیا ہیں اور ان کا علاج

what is the Pimples and its cure:کیل مہاسے کیا ہیں اور ان کا علاج


پمپل یا کیل یا مہاسے عام طور پر سے لڑکوں اور لڑکیوں کے چہروں پر نکلتے ہیں انہیں جوانی یا شباب کیآمد کا اعلان سمجھ لیجئے ۔ یہ کیل اور مہاسے عام طور پر ہمارے جسم پر چکنائی پیدا کرنے والے غدود کی بیماری ہے ۔ مہاسے اور کیل زیادہ تر جسم کے اس حصے پر نکلتے ہیں جہاں چکنائی پیدا کرنے والے غدود زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں ۔ چہرے، ماتھے، رخسار، گردن، سینے، کے بالائی حصیاور کاندھوں پر زیادہ چکنائی کے یہ غدود اندرونی تہوں میں موجود ہوتے ہیںاور چھوٹی چھوٹی باریک نالیوں کے ذریعے ہمارے جسم سے پسینہ بھی خارج ہوتا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی نالیاں باریک باریک مساموں اور سوراخوں کی شکل میں جلد پر ظاہر ہوتی ہیں اور صرف خورد بین کے ذریعے یہ انسان کے جسم پر دیکھی جا سکتی ہیں ان سوراخوں کے ذریعے انسان کے جسم کے بال بھی بیرونی سطح پر ظاہر ہوتے ہیں ۔


جن غدودوںکی نالیوں سے باقاعدگی سے چکنائی اور پسینے کا اخراج ہوتا رہتا ہے وہاں پر چکنائی کی نالیاں اپنا کام کسی رکاوٹ کے بغیر سر انجام دیتی رہتی ہیں مگر جہاں پر چکنائی کی کثرت یا صفائی کی کمی کی وجہ سے نالیاں بند ہو جاتی ہیں وہاں ان نالیوں میں لیس دار مادے کے جمع ہونے کی وجہ سے جلد کے اوپر کیل یا مہاسے بننا شروع ہوجاتے ہیں مگر جہاں جہاں بال ہوتے ہیں وہ ان نالیوں کو کھولے رکھتا ہے اور چکنائی جمع نہیں ہو پاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ بالوں والے حصوں مثلاْ داڑھی مونچھوں وغیرہ کی جگہ پر کیل اور مہاسے کم نکلتے ہیں اور جن حصوں پر بال کم ہوں مثلاْ رخسار ، ناک اور ماتھے وغیرہ وہاں ان کی اکثریت ہوتی desiherbal.com-pimple cureہے ۔


یہ بات سب کے مشاہدے میں آئی ہوگی کہ نو جوان لڑکے اور لڑکیوں کے چہرے پر مختلف سائز کے سرخ اور گلابی رنگ کے دانے نکلتے ہیں یہ عموماْ سخت اور گول ہوتے ہیں لیکن صفائی کی کمی یا جرثوموں کے حملے کی وجہ سے انفیکشن کا شکار ہو جاتے ہیں تو ان میں پیپ پڑ جاتا ہے اور ان کی رنگت پیلی ہو جاتی ہے تب یہ ایک پھنسی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔ بعض اوقات اندر سے کچھ مہاسوں کی نالیاں مل جاتی ہیں اور جلد کے اوپر ایک پھوڑا بن جاتا ہے جس میں ہر وقت رطوبت بھری رہتی ہے جن مہاسوں کی جڑیں جلد کے اندر گہری رہتی ہیں وہ ٹھیک ہونے کے باوجود چہرے پر دھبے چھوڑ جاتے ہیں بعض اوقات چہرے پر یہ نشان مستقل دھبوں کی شکل میں موجود رہتے ہیں جبکہ چھوٹے کیل اور مہاسے جن کی جڑیں جلد کے قریب ہوں یا نالیاں ہوں تو ایسے مہاسے ٹھیک ہو کر چہرے پر داغ نہیں چھوڑتے اگر ان کے نشان بنیں تو وقت کے ساتھ چہرے سے صاف ہو جاتے ہیں ۔



اقسام


چہروں پر نکلنے والے مہاسوں کی بہت سی اقسام ہیں ہر شخص میں ان کے نکلنے کی عمر اور وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں اور ایک جیسی بھی ۔ سب سے زیادہ اور عام طور پر نکلنے والے مہاسے جنہیں عرف عام میں ''ایک نی ولگارس''کہتے ہیں عموماْ دس سال کی عمر کے بعد دوسری دہائی میں چہرے پر نکلنا شروع ہو جاتے ہیں اور پندرہ سال کی عمر میں زیادہ ہو جاتے ہیں مگر عورتوں میں دوسری دہائی کے آخر میں یا بیس سال کی عمر میں یا بعض اوقات تیس یا پینتیس سال کی عمر تک بھی رہتے ہیں اگر مردوں کے چہروں پر مہاسے تیسری دہائی میں بھی موجود ہوں تو پھر یی کسی اور وجہ سے ہوتے ہیں اس قسم کے مہاسوں سے ان کا تعلق کم ہوتا ہے ۔ ان تشریحات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ دوسری اور تیسری دہائی میں انسان کے جسم میں بلوغت کی کیلوں کے ظاہر ہونے والی تبدیلیاں عموماْ چار وجہ کی ہوتی ہیں ۔ مثلاْ سب سے اول اور اہم تبدیلی یہ ہوتی ہے کہ زنانہ اور مردانہ صفات کے ہارمونز دوسری دہائی کے شروع میں یا دوسری دہائی میں کسی بھی وقت غدود سے خارج ہو کر خون میں شامل ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ چونکہ چکنائی خارج نہیں ہو سکتی اس لئے غدود کے باہر سخت مہاسے یا دانے بن جاتے ہیں ان مہاسوں اور دانوں کے سروں پر کالا دھبہ بھی دکھائی دیتا ہے ۔ اگر اس دھبہ کو دبا کر مہاسے میں سے چکنائی خارج کریں تو ایک تل نما چیز نکل آتی ہے اسی نسبت سے مہاسوں کو عرف عام میں کیل بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کیل کے نکلنے کی وجہ سے مہاسے ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔دوسری اہم تبدیلی یہ ہوتی ہے کہ ایک خاص قسم کے جراثیم دوسری دہائی میں دس سال کی عمر کے نو جوانوں اور لڑکیوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں ۔ بیس سال کی عمر کے بعد جسم میں یہ جراثیم بہت کم رہ جاتے ہیں ان جراثیم کی جسم میں موجودگی کی وجہ سے جلد میں ایک خاص قسم کے تیزاب کا تناسب بڑھ جاتا ہے ۔ اس تیزاب کے بڑھنے سے چکنائی کے غدود کو تحریک ملتی ہے اور وہ زیادہ چکنائی پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ یوں جلد کے اندر چکنائی کی نالیاں لیس دار مادے کی وجہ سے بند ہو جاتی ہیں اور جلد کے بیرونی سطح پر سخت گول مہاسے بننا شروع ہو جاتے ہیں ۔


تیسری اہم تبدیلی یہ ہوتی ہے کہ اس عمر میں انسان کے احساسات اور جذبات کو تحریک ملنا شروع ہو جاتی ہے ۔ وہ بچپن کی معصوم حد سے نکل کر جوانی کی امنگوں اور یخلیاتی جذبات کی حدود میں قدم رکھتا ہے ۔



وجوہات


سائنس دانوں نے مشاہدات سے اندازہ لگایا ہے کہ اس عمر میں انسان کے جذبات میں گھٹن ہو اور وہ ذہنی طور پر آزادانہ ہو اور اپنے آپ کو دبائو میں محسوس کرے تو بھی مہاسوں کے نکلنے کی شرح تناسب بڑھ جاتی ہے ۔ سائنس دان بیان کرتے ہیں کہ جن گھروں میں والدین کی چپقلش ، گھریلو ناچاقی ذہنی سکون نہ ہو تو ان لوگوں کے چہروں پر کیل مہاسے زیادہ پیدا ہوتے ہیں چونکہ بعض او قات اس قسم کے نو جوان جذباتی انداز میں اپنے کیلوں کو ہاتھ لگاتے رہتے ہیں اور ان کو چھیڑتے رہتے ہیں اس لئے مہاسے زخمی ہو جاتے ہیں اور کیل جلد کے اندر رہ جاتی ہے لہٰذا ان کے چہروں پر مہاسوں کے داغ رہ جاتے ہیں اگر ایسے مہاسوں کو نہ چھیڑا جائے تو یہ وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی انسان کی قوت مدافعت کے زیر اثر ختم ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور کوئی داغ چھوڑے بغیر چہرے سے صاف ہو جاتے ہیں لیکن اگر مناسب صفائی کی کمی یا مہاسوں کو بار بار چھیڑنے کی وجہ سے ان مہاسوں میں انفیکشن پیدا ہو جائے تو پھر یہ چہرے پر بد نما داغ بھی پیدا کر دیتے ہیں جو بعض اوقات کافی عرصے تک چہرے پر رہتے ہیں ۔


بعض اوقات وقت کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر اور بعض او قات نصف حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں مگر بعض اوقات ایک پھوڑے کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں اور پانی جیسی رطوبت بھی خارج کرتے رہتے ہیں کچھ عرصے کے بعد جسم کے مدا فعتی نظام کی وجہ سے ٹھیک ہو جاتے ہیں اور عموماْ چہرے پر کوئی داگ نہیں چھوڑتے مگر کسی کسی کیس میں یہ سوئی کی طرح یا چچک کے نشان کی طرح کے دھبے چھوڑ دیتے ہیں ۔


یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں جب بھی کسی کے چہرے پر مہاسے نکلتے ہیں تو وہ اپنی کم علمی کی وجہ سے ان مہاسوں کے نکلنے کی عجیب و غریب تاویلیں پیش کرنے لگ جاتا ہے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان مہاسوں کا جسم کی گرمی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہر انسان کے جسم کا درجہ حرارت 98.4کے قریب رہنا چاہئے اس سے کم یا زیادہ درجہ حرارت فطری نہیں ہوتا بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جوانی کے زیادہ آنے کی وجہ سے بھی چہرے پر کیل نکلتی ہیں ۔ یہ بات بھی درست نہیں مہاسے جوانی یا شباب ناپنے کا پیمانہ نہیں ہوتے سب کو جوانی ایک بار آتی ہے البتہ کچھ لوگ اپنی کم علمی اور جہالت کی وجہ سے ایسی الٹی سیدھی تاویلات پیش کرتے رہتے ہیں اور نو جوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ نو جوانوں کو چاہئے کہ وہ بیس سال کی عمر تک نکلنے والے مہاسوں سے خوفزدہ نہ ہوں اور انہیں جسم کی گرمائش یا جوانی کی کمی و بیشی پر محمول نہ کریں بیس سال تک کی عمر مہاسوں کے لئے سازگار ہوتی ہے ۔


مہاسوں کے ضمن میں سائنس دانوں نے اس بات کا بھی مشاہدہ کیا ہے کہ یہ خاندانی طور پر بھی نکلتے ہیں اور اولاد کے چہرے کو بھی متاثر کرتے ہیں مگر ایسے لوگ بھی بعض او قات اپنی کم علمی کی وجہ سے ان مہاسوں کے نکلنے کے بارے میں عجیب و غریب تاویلیں پیش کرتے ہیں اور اشیائے خورد ونوش کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں مثلاْ بعض خواتین یہ شکایات لے کر آتی ہیں کہ انہوں نے جون جولائی کی گرمیوں میں انڈے کھائے جن کی وجہ سے جسم کی گرمی مہاسوں کی شکل میں نکل رہی ہے۔ بعض خواتین اور نو جوان یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ہوٹلوں یا کسی پارٹی میں زیادہ مصالوں والا کھانا کھایا جس کی وجہ سے ان کو گرمی ہو گئی ان کے چہروں پر کیل نکلنا شروع ہو گئے اسی طرح کچھ مریض بڑا گوشت کھانے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چند دن انہوں نے بڑا گوشت کھایا اور ان کا چہرہ مہاسوں کی زد میں آ گیا در اصل یہ تمام باتیں لغو اور جاہلیت پر مبنی ہوتی ہیں ۔ مہاسے جسم کی گرمی یا سردی دسے نہیں نکلتے اور نہ ان کا تعلق کھائی جانے والی اشیاء کے گرم یا ٹھنڈا ہونے پر منحصر ہوتا ہے البتہ گرم چیزوں سے پر ہیز کرنے سے کسی حد تک مہاسوں کو بچایا جا سکتا ہے ۔ خواتین میک اپ اور چکنی چیزیں کھانے سے پر ہیز کریں تو کیلوں کی شدت میں کمی کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔



علاج


جو خواتین پانچ وقت نماز کے لئے منہ دھوتی ہیں ان میں بھی مہاسوں کی شدت میں کمی کا مشاہدہ کیا گیا ہے ۔ یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ جو لوگ مہاسوں کو چھیڑتے ہیں اور ان کو دبا کر کیل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بعض اوقات اپنے چہرے کی جلد کو خراب کر لیتے ہیں اور پھر جلد پر دھبے اور نشانات پڑ جاتے ہیں لہٰذا یہ ضروری ہے کہ جب کسی کو مہاسوں کی شدت کا سامنا کرنا ہو تو اپنے فیملی ڈاکٹر سے رجوع کریں اور غلط قسم کی کریموں اور لوشنوں کے چکر میں پڑ کر اپنے چہرے کو تباہ نہ کریں رنگت خدا کی دین ہے اسے غلط قسم کی کریموں سے نکھارنے کے چکر میں پڑ کر مزید خراب نہ کریں ورنہ رنگت کے نکھرنے کے بجائے مہاسوں کا سامنا کرنا پڑیگا ۔


مہاسوں کا علاج ذرا طویل مدت کا ہوتا ہے عموماْ چھ ماہ سے ایک سال کا عرصہ ان مہاسوں کو درست ہونے میں لگ جاتا ہے علاج کو مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ جراثیم کش اینٹی بائیوٹک دوائیں اس وقت موثر ہوتی ہیں جب مہاسوں میں انفیکشن ہو چکی ہو ۔ عورتوں میں مخصوص ہارمونز کے استعمال سے تیسری دہائی میں نکلنے والے مہاسے کی صورت میں سیٹرائیڈز بھی مدد گار ہوتے ہیں ان کے چونکہ مضر اثرات ہوتے ہیں اس لئے انہیں زیادہ استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ وٹامنز کا استعمال خاص طور پر مہاسوں کے علاج میں بہت موثر ثابت ہوتا ہے جب دوسرے تمام اقدام ناکام ہو گئے ہوں ۔ مہاسے خشک ہو یا کم سرخ ان میں پیپ ہو یا نہ ہو ایسی صورتحال میں وٹامنز کا استعمال بہت کارگر ہوتا ہے ۔



1نسخہ نمبر


ایلوویرا کا مسلسل استعمال بھی ایسی جلد کے لیے بہترین ہے۔ اس سے جلد کی بیرونی سطح پر موجود مسام بند ہوجاتے ہیں جس سے کیل مہاسوں اور دانوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور اس کا مسلسل استعمال جاری رکھنے سے داغ دھبے بھی ختم ہو جاتے ہیں



2نسخہ نمبر


مہاسوں کو دور کرنے کے لیے مسور کی دال کا ابٹن گائے کے دودھ میں ملا کر دن میں دو بار لگانا مفید ہے۔ اس سے نہ صرف مہاسے دور ہوتے ہیں بلکہ چہرے کی رونق بھی بڑھتی ہے۔



3نسخہ نمبر


روغنِ زیتون اور روغنِ کدّو ہم وزن ملا کر لگانے سے چہرے پر دانوں اور مساموں کی وجہ سے پڑنے والے گڑھے ٹھیک ہو جاتے ہیں بلکہ یہ روغن چہرے پر چیچک کے داغ بھی دور کرتا ہے۔ اس کے مسلسل چھ ماہ کے استعمال سے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔



4نسخہ نمبر


 صبح شام اپنے منہ کو بیسن سے دھوئیں۔ یہ چہرے کی نہ صرف مناسب صفائی کرتا ہے بلکہ کیل مہاسوں کا سبب بننے والی چکنائی کی اضافی مقدار کو بھی کم کرتا ہے اور یوں کیل مہاسوں اور دانوں کا سلسلہ تھمنے لگتا ہے۔



5نسخہ نمبر


پمپل سے فوری جان چھڑانے کے لیے ایک برتن میں نمک ملا نیم گرم پانی لیں اور روئی کو اس میں نچوڑ کر کیل مہاسے یا دانے والی جگہ پر رکھ کر دبائیں اور تین چار دفعہ یہی عمل دہرائیں اور ہر بار کے لیے الگ الگ روئی کا استعمال کریں۔ یہ طریقہ تھوڑا تکلیف دہ ہے لیکن اس سے پمپل ختم ہو جائیں گے۔



6نسخہ نمبر


سنگترے کے چھلکے سُکھا کر باریک پیس لیں۔ اس سفوف کو پانی میں یا خشک جلد والے، دودھ میں حل کر کے چہرے پر ملیں۔ اس سے چہرے کے داغ دھبے اور پھنسیاں دور ہو جائیں گی۔



7نسخہ نمبر


کیل مہاسوں پر قابو پانے کے لیے کڑوے بادام پیس کر اور دودھ میں ملا کر لگائیں۔



8نسخہ نمبر


شکر کا مشروب یا شربت عناب پینے سے بھی کیل مہاسے ختم ہو جاتے ہیں۔



9نسخہ نمبر


مولی کا پانی چہرے پر لگانے سے کیل مہاسے ختم ہو جاتے ہیں۔



10نسخہ نمبر


کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے کالی مرچ کو مٹی کے گھڑے پر رگڑ کر لگائیں۔



11نسخہ نمبر


نیم کی کونپلیں پیس کر چہرے پر لیپ کر لیجیے اور 30 منٹ بعد چہرہ دھو ڈالیے۔ اس کے مسلسل استعمال سے چہرے کے داغ دھبے، کیل مہاسے وغیرہ دور ہوں گے، رنگت میں نکھار آئیگا اور گرمی دانے اور پھنسیاں وغیرہ بھی نہیں نکلیں گی۔



12نسخہ نمبر


مہاسوں اور پس بھرے دانوں کے لیے لہسن بھی بہترین اینٹی بائیوٹک کا کام کرتا ہے۔ دن میں چار سے پانچ بار اس کو مہاسوں پر رگڑیں۔



Leprosy cure جذام یا کوڑھ کا علاج

Leprosy cure   :   جذام یا کوڑھ کا علاج


تعارف


یہ ایک متعدی مرض ہے جس میں مریض کے ہاتھ پاؤں اور انگلیوں وغیرہ کے جوڑوں میں ورم آکر پیپ پڑجاتی ہے اور بعض اوقات ہاتھ پاؤں اور انگلیوں کے پور جھڑ کر مریض لنگڑا لُولا ہوجاتا ہے اور مریض کی شکل بڑی گھناؤنی ہوجاتی ہے۔ اس مرض کا باعث بھی ایک خاص قسم کا کیڑا ہے جسے "بیسی لس لیپریسی" یعنی جذام یا کوڑھ کا کیڑا کہتے ہیں۔ یہ کیڑا مریض کے زخموں میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوت کا مرض ہے۔ آتشک بھی اس کا ایک سبب ہے۔ غریب لوگ جو غلاظت اور گندگی میں رہتے ہیں اس بیماری میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ مریض کے جسم پر سرخ دھبے یا داغ پڑجاتے ہیں ابروؤں‘ پلکوں اور مونچھوں کے بال جھڑ جاتے ہیں، ناک کی ہڈی گل کر ناک بیٹھ جاتی ہے، گلے میں زخم کی وجہ سے کھانا پینا، بات کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ آخر میں مریض نمونیہ کھانسی میں مبتلا ہوکر انتقال کرجاتا ہے۔



علاج


1نسخہ نمبر


 بسفائج کو کوٹ کر باریک سفوف بنالیں اور نو ماشہ کی مقدار میں روزانہ ایک بار پانی کے ساتھ استعمال کریں یا اسی مقدار میں پانی میں جوش دے کر چھان کر پیئیں کچھ روز کے استعمال سے مرض جذام میں نمایاں فائدہ ہوتا ہے۔



2نسخہ نمبر


 ہلیلہ سیاہ کو باریک کرلیں اور ہر پانچ دن پر ایک بار ڈیڑھ تولہ کی مقدار میں کھائیں اسی طرح پچاس دنوں میں دس بار استعمال کریں مرض کی ابتدا و انتہا دونوں حالتوں میں مفید ہے۔



3نسخہ نمبر


 نگند باری ایک تولہ کو رات کے وقت تھوڑے پانی میں بھگو دیں، صبح کو اس کا پانی چھان کر دو تولہ شہد خالص ملا کر پیئیں کچھ روز تک استعمال کریں ابتدائے جذام میں مفید ہے۔



4نسخہ نمبر


 درخت نیم کی مستی کو جذام کے زخموں پر لگانا بہت مفید ہے۔



5نسخہ نمبر


 ہرن کھر بوٹی کو سفوف بناکر اس کے برابر وزن شکر سفید ملا کر رکھ لیں نو ماشہ کی مقدار میں روزانہ استعمال کریں یا اتنی ہی مقدار میں رات کو پانی میں بھگودیں اور صبح کو چھان کر مصری ملا کر پیئیں مرض جذام میں مفید ہے۔



6نسخہ نمبر


 سرس کے پتے ایک یا دو ماشہ، سیاہ مرچ دو ماشہ، دونوں کو پانی میں پیس کر روزانہ چالیس یوم تک پینا شفائی اثر رکھتا ہے۔
 اگر جذامی کی سانس میں تنگی ہو تو تازہ دودھ پینا مفید ہوتا ہے۔



7نسخہ نمبر


 ببول کی چھال ساڑھے تین تولہ کو نیم کوب کرکے رات کو تھوڑے پانی میں بھگو دیں اور صبح کو پانی چھان کر پیئیں۔



8نسخہ نمبر


 مہندی کی خشک پتی ساڑھے تین تولہ لے کر ڈیڑھ پاؤ پانی میں رات کو بھگو دیں اور صبح کو اتنا جوش دیں کہ آدھا پانی باقی رہے پھر اسے چھان کر بیس ماشہ شہد ڈال کر پیئیں چالیس روز تک مسلسل استعمال کرنا بہت مفید ہے۔



9نسخہ نمبر


 چال موگرا، باپچی دونوں برابر وزن لے کر علیحدہ علیحدہ باریک کرکے ملالیں اور تین ماشہ کی مقدار میں استعمال کریں۔



10نسخہ نمبر


 نیم کے پتے ایک تولہ، کالی مرچ پانچ عدد، دونوں کو پانی میں پیس کر روزانہ پیئیں اور جسم پر نیم کا تیل لگائیں۔



11نسخہ نمبر


 چال موگرے کا تیل پانچ قطرے تھوڑے دودھ میں ڈال کر پیئیں اور اس تیل میں نیم کاتیل ملا کر جذام کے داغوں پر لگائیں۔



12نسخہ نمبر


شنگرف رومی ایک تولہ کو کاغذی لیموں کے پانی میں حل کریں یہاں تک کہ ایک سو ایک لیموں کا پانی ختم ہوجائے پھر اسے محفوظ کرلیں ایک چاول کی مقدار میں پان میں رکھ کر کھانا مرض جذام میں مفید ہے کچھ دنوں تک استعمال کریں اور مضر چیزوں سے پرہیز کریں۔



leucoderma cure پھلبہری کا علاج کے گیارہ نسخے

leucoderma cure    :    پھلبہری کا علاج


ہوالشافی



             1نسخہ نمبر


سرس کے بیج کا تیل، سفید داغوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوا ہے۔


   نسخہ نمبر
 رائی اور سہاگہ دونوں برابر وزن لے کر سرکہ میں پیس کر لیپ کرنے سے داد اور برص کو فائدہ ہوتا ہے۔



       2نسخہ نمبر


 تخم کتان (السی) کو سرکہ میں پیس کر برص کے مقام پر لیپ کرنے سے داد اور برص کو فائدہ ہوتا ہے۔



        3نسخہ نمبر


 سرسوں کے بیج کو باریک کرکے سات ماشہ کی مقدار میں بکری کے دووھ ایک پاؤ کے ساتھ روزانہ تین ہفتے تک استعمال کرنا برص کے لئے مفید ہے دوران استعمال میں غذا کم کردیں۔



        4نسخہ نمبر


 سانپ کی کینچلی جلا کر اس کے برابر نوشادر ملا کر باریک کرلیں پھر تھوڑے سرکہ میں حل کرکے برص کے مقام پر لیپ کرنا بہت نافع ہے۔



        5نسخہ نمبر


 بچھ تین ماشہ کی مقدار میں لے کر دو چھٹانک پانی میں جوش دے کر صبح و شام پیئیں، برص میں مفید ہے۔



        6نسخہ نمبر


 شیطرج (چیتہ) کو خوب باریک کرکے سرکہ میں ملا کر برص کے مقام پر لگائیں۔



        7نسخہ نمبر


 کٹکی سفید کو سرکہ میں پیس کر لیپ کرنا برص میں بہت مفید ہے۔



       8نسخہ نمبر


 چھوٹی ہرڑ کو باریک کرکے رکھ لیں آٹھ ماشہ کی مقدار میں روزانہ نہار منہ ایک مہینہ تک کھائیں برص میں مفید ہے۔



        9نسخہ نمبر


* ریٹھہ کو پانی میں پیس کر برص کے مقام پر لگائیں۔



       10 نسخہ نمبر


 خراطین (کیچوہ) چند عدد لے کر ایک برتن میں بند کرکے ایک مہینہ تک چھوڑدیں اس مدت میں تمام کیچوے راکھ ہوجائیں گے اس میں پانی ملا کر برص کے مقام پر لیپ کریں۔



        11نسخہ نمبر


 اجمود چار تولہ، گیرو دو تولہ دونوں کو باریک کرکے رکھ لیں دو ماشہ کی مقدار میں پانی کیساتھ روزانہ کھائیں اور بے نمک کی غذا استعمال کریں۔

Powered by Blogger.