Showing posts with label انجیر. Show all posts
Showing posts with label انجیر. Show all posts

Constipation cure:قبض کے خاتمہ کے لیے

قبض ۔۔۔ کیا ہے ؟ اسبا ب اور علاج    Constipation cure                        




 قبض ان امراض میں شامل ہے جس کا شکار آج کل بیشتر افراد ہیں اسے تہذیب جدید کا تحفہ قرار دینا مناسب اور صحیح ہو گا ۔ اس مرض کے شکار افراد میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے ۔قبض کو ام الامراض کہا جاتا ہے ۔ یعنی امراض کی ماں ۔ اس سے کئی امراض جنم لیتے ہیں ۔ قبض اجابت کا بروقت نہ ہونا ہے اس کی متعدد اقسام ہیں جن میں وقت پر بافراغت اجابت کا نہ ہونا ، سخت قسم کا براز خارج ہونا ، دو تین دن تک اجابت کا نہ ہونا ۔ اجابت کے وقت دقت ہونا ، وغیرہ شامل ہیں ۔ قبض نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ چوبیس گھنٹے میں ایک بار اجابت بغیر دقت یا ادویہ کے وقت پر ہو جائے ۔

جب ہم غذا کھاتے ہیں تو یہ معدہ میں جاتی ہے جہاں سے نکل کر چھوٹی آنت میں داخل ہوتی ہے تو ہاضمے کا عمل نسبتاً تیز ہو جاتا ہے ۔ چھوٹی آنت اسے مزید قابل ہاضم بناتی ہے اور غذا کا مائع حصہ بڑی آنت میں تکمیل کو پہنچتا ہے ۔ یعنی پانی جذب ہو کر باقی حصہ فضلہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو ہمارے شکم کے بائیں طرف آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہے اور قولون کے ساتھ ساتھ اترنے لگتا ہے ۔ یہ پورا عمل اور فضلات کا اخراج صحت کے لئے بہت ضروری ہے البتہ اس عمل کی رفتار مختلف اجزا میں مختلف ہو سکتی ہے اگر ہضم کا عمل سست ہو تو اجابت خشک اور سخت ہو سکتی ہے ۔ اس کو قبض کہتے ہیں جو بعض صورتوں میں خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ قبض کی صورت میں پیٹ میں گرانی اور طبیعت میں بے چینی ہوتی ہے ، مزاج میں چڑچڑاپن سستی ہوتی ہے ، منہ سے بدبو اور بدبو دار گیس خارج ہوتی ہے ۔

گاہے سر میں درد اور اختلاج قلب ( دل ڈوبنا ) کی شکایت ہوتی ہے ۔ بھوک کم لگتی ہے ۔ بعض لوگوں میں کمر درد بھی ہوتا ہے ، فضلات کے جمع رہنے سے گیس ریاح پیدا ہوتے ہیں اگر یہ خارج نہ ہوں تو تکلیف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ پھر بھوک تو اسی وقت لگے گی جب پہلی غذا خارج ہو گی اور مزید غذا کے داخلے کے لیے جگہ بن جائے گی ۔

قبض ہونے کے کئی اسباب ہیں :
بعض انفرادی ہوتے ہیں یعنی اجابت کو دبانا ، اجابت کی خواہش ہونے پر غفلت کرنا وغیرہ شامل ہےں ۔ شہروں میں رہنے والے لوگ جو کہ ریشہ ( فائبر ) کا استعمال کرتے ہیں فروٹ ، بن ، کباب اور شیر مال کا بکثرت استعمال کرتے ہیں ، پھلوں سبزیوں کے بجائے مرغن تلی ہوئی غذاؤں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں ۔ نقض تفدئیہ کے علاوہ بعض بری عادات بھی قبض کا سبب بنتی ہیں ۔ چنانچہ جذبات بھی ہاضمے میں ایک گونہ اہمیت کے مالک ہیں ۔ غذائی اوقات میں بدنظمی سے بھی اجابت کا نظام متاثر ہوتا ہے ۔ بعض اوقات ادویہ کے استعمال سے اور بکثرت تمباکو نوشی ، چائے نوشی کے استعمال سے بھی قبض رہنے لگتی ہے ۔ اس کے علاوہ آنتوں کی حرکت دودیہ کی سستی ، اخراجی قوت کی کمی ، آنتوں میں رطوبت کی کمی ، ثقیل غذاؤں کا زیادہ استعمال ، آرام طلبی ، ورزش کا فقدان اور پانی کے کم استعمال سے بھی قبض کا مرض لاحق ہو جاتا ہے ۔

قبض کا اصل علاج یہ ہے کہ ابتدائی عمر سے ہی بچوں میں صحت مند عادات کا شعور پیدا کیا جائے یعنی وقت مقرر کر لیا جائے ۔ اس حوالے سے والدین پر اہم ذمہ داری ہے ۔ قبض کشا ادویہ کا اصل مقصد وقتی آرام ہوتا ہے ۔ کیونکہ مریض کو جو ذہنی و جسمانی عوارض لاحق ہوتے ہیں ۔ ان میں وقتی آرام ضروری ہوتا ہے ۔ لوگ آسان طریقہ سمجھ کر ان ادویہ کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ دوسری ادویہ کی طرح ان کے بھی مضر اثرات ہوتے ہیں آنتوں میں بل پڑنے سے اسہال ہو کر جسم میں پانی کم ہو جاتا ہے ۔ اس طرح آنتوں کے ریشوں و عضلات کو نقصان ہوتا ہے ۔ پھر قبض کی ادویہ ہمیشہ معالج کے مشورہ سے لیں ۔ پھر قبض کا علاج سب کے لیے ایک جیسا نہیں ہو سکتا ۔

ابتدا میں اور ہلکی قبض میں حجم بڑھانے والی ادویہ مثلاً آٹے کی بھوسی و بغیر چھنا آٹا کھائیں ، غذا میں پھل سبزیاں ریشہ سمیت ، ساگ پات ، شلجم ، گھیا توری ، ٹینڈا ، کدو ، کریلا کھائیں ۔ اور اسپغول چھلکا دو چمچ نیم گرم دودھ میں ملا کر رات سونے سے قبل استعمال کریں ۔ اگر آنتوں میں حرکت دود یہ سست ہو تو ” ترپھلہ “ اور ہڑڑ سیاہ کا مربہ استعمال مفید ہے ۔ آنتوں کی حرکت چست رکھنے کے لیے روزانہ ریشہ26 گرام غذا میں استعمال کریں اور آٹھ دس گلاس پانی پی لیں ۔

ورزش بھی قبض میں مفید ہے ۔ ورزش سے اعصاب کو طاقت ملتی ہے ، غذا کے اخراج کا عمل تیز ہوتا ہے ۔ اور آنتوں کو حرکت و تحریک ملتی ہے ۔ رات کھانے کے کم از کم دو گھنٹے بعد سوئیں ۔ آنتوں میں خراش پیدا کرنے اور فضلے کو نرم کرنے والی ادویہ کا استعمال ہمیشہ معالج کے مشورے سے کریں ۔ آنتوں کی خشکی کی صورت میں گلقند ، اسپغول ، روغن بادام اور روغن زیتون کا استعمال مفید ہے ۔ طب مشرقی میں ہڑڑ ، سقمونیا ، ہلیلہ کا صدیوں سے قبض کے لیے استعمال ہو رہا ہے ۔ اب تو مغرب میں بھی ان سے ادویہ بن چکی ہیں ۔


 

ہوالشافی

                    

   نسخہ نمبر1                                        Constipation cure no 1

بغیر چھنے آٹے کی روٹی کا استعمال کیجئے ،مرض ختم ہوجائے گا ۔ سونف اور گل قند ملا کر قبض کا خاتمہ

ہوجائے گا

 

  نسخہ نمبر2                                          Constipation cure no 2

 

انجیر گرم دودھ میں ڈال کر پی لیں ۔ یا دودھ میں بھیگی ہوئی انجیر کھائیے قبض دور ہوجائے گا ۔

 

پتہ کی پتھری

پتہ کی پتھری کی وجوہات علامات اور علاج


پتہ میں پتھری کی وجوہات


پتہ میں پتھری اکثر لوگوں کو ہو جاتی ہے لیکن ہر شخص کو ایسی کوئی تکلیف نہیں ہوتی جس سے اسکی موجودگی کا شبہ یا اندازہ ہو سکے کیونکہ علامات کے بغیر دنیا میں کافی لوگ اسکا شکار ہوتے ہیں۔ اسباب جسم میں داخل ہونے کے بعد چکنائیوں اور خاص طور پر حیوانی ذریعہ سے حاصل ہونے والی چیزوں میں کولیسٹرول زیادہ پائی جاتی ہے جو کہ پانی میں حل نہیں ہوتی لیکن صفرا میں شامل ہو جاتی ہے۔ جگر جب صفرا بناتا ہے تو اس میں کولیسٹرول کا ایک حصہ بھی موجود ہوتا ہے جو مرکب کی شکل میں پتہ میں ذخیرہ ہوتا ہے لیکن جگر کی بعض بیماریوں میں صفرا کی پیدائش کا عمل غلط ہو جاتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جگر نے ابتداءہی میں کولیسٹرول کی اتنی زیادہ مقدار پیدا کر دی ہے کہ اسے مرکب میں حل رکھنا ممکن نہ ہو سکا یا مرکب کے دوسرے اجزاءناقص ہونے کی وجہ سے اسے حل پذیر نہ رکھ سکے لیکن پتھری بنانے میں پتہ کا اپنا کردار بھی اہم ہے اگر وہ تندرست ہو تو عام حالات میں وہ پتھری بننے نہیں دیتا۔ پتہ میں اگر کسی وجہ سے سوزش ہو جائے تو پھر سوزش والے مقام پر کولیسٹرول جمنا شروع ہو جاتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سوزش یعنی التہاب مرارہ کے نوےفیصد مریضوں کو صرف سوزش نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ پتہ میں پتھریاں بھی ہوتی ہیں۔ تشخیص پتھریوں میں اگر کیلشیم کی مقدار زیادہ ہو تو ایکسرے میں نظر آجاتی ہیں ورنہ ان کی تشخیص کا بہترین طریقہ الٹرا ساﺅنڈ ہے جس کی مدد سے نہ صرف پتھریوں کا پتہ چل سکتا ہے بلکہ ان کا صحیح سائز بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔



علامات


اکثر مریضوں کو پتہ میں پتھریوں کے باوجود کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور پتھریوں کی موجودگی کا پتہ اتفاقاً چلتا ہے اس لئے زیادہ تر علامات پتھری کی وجہ سے نہیں بلکہ ان سے ہونے والے مسائل سے ہوتی ہیں۔ جیسے کہ (1) نالیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے پتہ میں سوزش (2) نالیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے لبلبہ میں سوزش (3) بڑی عمر کے مریضوں میں پتہ میں کینسر ہو جاتا ہے۔ (4) پتہ اور چھوٹی آنت کے درمیان ایک سوراخ بن کر صفرا کے اخراج کا براہ راست غلط راستہ بن جاتا ہے جس میں بھی کوئی پتھر پھنس کر رکاوٹ یا پھر یرقان اور پیٹ کے اندر دوسرے خطرات اور حوادث کا باعث ہو سکتا ہے۔



علاج


 ایلوپیتھک طریقہ علاج  میں اس حصہ جسم کی کسی بھی بیماری کا شافی علاج موجود نہیں۔ شدید سوزش کے دوران قے، بدہضمی اور معدہ کی سوزش ‘بخار اوردرد کا علامات کے مطابق علاج کیا جاتا ہے جبکہ پتھری اور مزمن سوزش کیلئے درد دور کرنے والی ادویہ کے علاوہ اور کوئیحل موجود نہیں۔ پتہ کی ہر بیماری کا علاج آپریشن ہے جن لوگوں کا پتہ نکالا جا چکا ہے وہ عمر بھر بدہضمی کا شکار رہتے ہیں، وہ چکنائیاں ہضم نہیں کر سکتے۔ پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرحمت کی ہوئی ادویات میں انجیر پتہ کی بیماریوں کے علاج میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ نہار منہ کھانے سے خون کی نالیوں میں اور پتہ کی نالیوں سے پتھریاں اور سدے نکالتی ہے۔ انجیر پتہ کی سوزش اور پتھری کے خلاف سب سے بڑی پیش بندی ہے۔ اسے کھانے سے چکنائیوں کے ہضم کرنے میں کوئی مشکل نہ ہو گی اور نہ ہی کولیسٹرول کی کوئی مقدار جسم میں جاکر خون کی نالیوں میں جم کر دل کے دورے کا باعث بنے گی اور نہ یہ جگر سے نکل کر پتھریاں بنائے گی۔


الحمدللہ مسلم اطباء ابن السیطار اور اکبر ارذانی نے پتے کی پتھری کو توڑنے کے لئے انجیر تجویز کی ہے۔ ان کا یہ نسخہ مرض کی ماہیت کے مطابق درست اور تجربات سے ہمیشہ مفید پایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ کے جملہ امراض کے لئے جو کا دلیہ جس میں دودھ اور شہد ملایا گیا ہو‘ تجویز فرمایا ہے۔ یہ پیٹ کی سوزش کیلئے انتہائی مفید ہے چونکہ اس میں چکنائی نہیں ہوتی اس لئے اسے ہر کیفیت میں ‘خاص طور پر ان مریضوں میں جن کو معدہ میں جلن کی وجہ سے قے ہوتی ہے‘ فائدہ دیتا ہے ۔جو کا دلیہ پیشاب آور ہے پتہ کے مریضوں کے لئے یہ دلیہ از حد مفید ہے یہ خون کی کولیسٹرول کو کم کرتا ہے۔پتہ کی بیماریوں کو پیدا کرنے میں چکنائیوں کا بڑا عمل دخل ہے، بیمار ہونے کے بعد مریض کی غذا میں چکنائی کی موجودگی اس کی بیماری میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے۔ایسے حالات میں کوئی ایسی چیز جو بذات خود چکنائی ہو ‘اس سے بیماری میں اضافہ کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس بنیادی اصول کی صداقت کے باوجود اطباءقدیم نے زیتون کا تیل استعمال کیا ہے۔ حکیم نجم الغنی خان اس کے بہت معترف تھے زیتون کا تیل پتہ کو سکیڑ کر اس کے صفرا کو باہر نکال دیتا ہے اس عمل میں کئی چھوٹی پتھریاں باہر نکل جاتی ہیں۔ حکیم اور دوسرے ماہرین طب پتہ سے پتھری نکالنے کے لئے زیادہ مقدار میں زیتون کا تیل پلانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تقریباً 9اونس زیتون کا تیل مریض کو پلایا جائے تو پتھریاں نکل جاتی ہیں۔ زیتون کا تیل ایک ایسی مفید چکنائی ہے جو دوسری چکنائیوں کو بھی ہضم کرتی ہے۔ اطبائے قدیم نے پتہ کے سدے دور کرنے کے لئے سرکہ کو بہت مفید قرار دیا ہے۔ بو علی سینا کے ایک نسخہ کے مطابق انجیر کو سرکہ میں بھگو کر کھلایا جائے تو پتے کے مسائل جلد حل ہو جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کو ہر بیماری میں شفاءکا مظہر بتلایا ہے۔ اطباءاسے پتے کی پتھری نکالنے والی قرار دیتے ہیں۔ صبح نہار منہ شہد کے شربت کے ساتھ کلونجی 3گرام کھانا پتہ کی بیماریوں میں انتہائی مفید وموثر ہے کیونکہ طب جدید میں پتہ کی بیماریوں کا آپریشن کے علاوہ اور کوئی علاج نہیں ہے۔ 

انجیر کے فائدے


 Fixcus Carica  انجیر کے فائدے


مختلف نام


 انجیر کو بنگالی میں آنجیر، عربی میں تین،   یمنی میں بلس، سنسکرت، ہندی، مرہٹی، گجراتی میں


پھگوڑی انجیراور پنجابی میں ہنجیر کہتےہیں اس کا نباتاتی نام فیکس کیریکا ہے۔




قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے انجیر کی قسم یاد فرمائی ہے کہ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طور سینا کی (سورۂ والتین)


عام پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہے اور پکنے کے بعد خودبخود ہی گر جاتا ہے اور دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن


نہیں ہوتا۔ فریج میں رکھنے سے یہ شام تک پھٹ جاتا ہے۔ اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے۔ اسے خشک


کرنے کے دوران جراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ


سوکھنے کے بعد نرم و ملائم رہے۔انجیر کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے نعمت بیش بہا


ہے۔ انجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے۔ چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطا کرتا ہے۔ انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں


ہوتا ہے۔



 Fixcus Carica  انجیر کے فائدے


انجیر کے اندر پروٹین، معدنی اجزائ، شnews-1405450314-9271کر کیلشیم، فاسفورس پائے جاتے ہیں۔ دونوں انجیر


یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ وٹامن بی اور ڈی قلیل


مقدار میں ہوتے ہیں۔ ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے


اس لئے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا۔


انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہے۔ اس لئے ہر عمر کے لوگوں میں اسے پسند کیا جاتا ہے۔


عرب ممالک میں خاص طور پر اسے پسند کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی بکثرت دستیاب ہے


اور اسے ڈوری میں ہار کی شکل میں پروکر مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر مشرقی


وسطیٰ اور ایشیائے کوچک کا پھل ہے۔ اگرچہ یہ برصغیر پاک و ہندمیں بھی پایہ جاتا ہے۔ مگر اس علاقے میں مسلمانوں کی آمد سے


پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا۔ اس لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کوچک سے منگول اور


مغل اسے یہاں لائے۔



 Fixcus Carica  انجیر کے فائدے


انجیر کھانسی،بلغم،گلے کی خراش اور آنتوں کی کئی بیماریوں کو بھی دور کرتی ہے۔


انجیر دماغی امراض سے بچاتی ہے ۔مزاج اور طبعیت میں نرمی پیدا کرتی ہے۔دل کو فرحت بخشتی اور قلب و جگر کو بجا طور پر ق


وت دیتی ہے۔


انجیر میں ایسے غذائی اجزاء شامل ہیں کہ جو نظامِ انہظام کو قوت بخشتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ صحت پر خوشگوار اثرات


مرتب کرکے موٹاپا لانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔


اگر کسی کی تلی خراب ہو گئی ہو یا تلی پر ورم آ گیا ہو تو ایسی صورت میں چاہیے کہ وہ پانچ یا چھ انجیر ہر روز سرکہ میں بھگو


کر کھائے اس طرح چند روز میں فائدہ ہوگا۔اسی طرح اگر انجیر کے ساتھ بادام یا پستہ بھی کھائیں تو یہ بھی تلی کا ورم ختم کرنے


میں مفید ثابت ہوتا ہے۔


انجیر اگر ہر روز کسی ایک خاص وقت پر کھانے کا معمول بنا لیا جائے تو اس سے فالج جیسے مرض سے بھی نجات مل جاتی ہے ۔


انجیر کو اخروٹ کی گری کے ساتھ کھانے سے بھی فالج ہونے کا خطرہ نہیں رہتا۔


پھوڑے پُھنسیوں اور کینسر جیسے مرض کے علاج کے لئے بھی انجیر کا باقاعدہ کھاتے رہنا اکسیر اور مفید ہوتا ہے۔اگر انجیر اور


دودھ کو ملا کے پیس کر لئی سی بنا کر پھوڑوں اور پُھنسیوں پر لیپ کیا جائے تو وہ جلد پک کر بہہ نکلتے ہیں۔


گردہ ،مثانہ یا پتے میں اگر پتھری ہو اور اکثر درد کا باعث ہوتی ہو تو اس کے لئے بھی انجیر مفید ثابت ہوتی ہے۔اس کے لئے ہر


روز صبح نہار منہ پانچ یا چھ انجیر کلونجی یا کلونجی کے تیل کے ساتھ کھائیں تو پتھری نکل جاتی ہے ( کھانے سے پہلے طبیب


سے مشورہ کرلیں ) انجیر ہر طرح کے پتھروں کو گھول کر کمزور اور کم کرنے کا کام بھی کرتی ہے۔


انجیر کا مسلسل استعمال خون کا گاڑھا پن ختم کرتا ہے ۔نالیوں میں خون کے انجماد کو روکتا ہے اور جسم کی بےجا چربی کو بھی کم


کرتا ہے۔اس حوالے سے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے انجیر ایک شافی دوا ہے۔


انجیر آنتوں کی صفائی کرنے کا فعل بھی سر انجام دیتی ہے اور معدے و آنتوں کی کئی ضرر رساں بیماریوں کو بتدریج ختم کرتی ہے۔


انجیر کو بطور میوہ بھی کھایا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جسم کو فربہ (موٹا) کرتاہے، جلد کو نکھارتا ہے،


قبض کو ختم کرتا ہے، دمہ اور کھانسی میں بلغم کے اخراج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ قابل ہضم ہے اور فضلات کو خارج کرتا ہے۔ مواد کو باہر نکال کر شدت حرارت میں کمی کرتا ہے۔ جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتا ہے۔


ورم تلی کو ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پھوڑوں کو پختہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔


اگر اس سے مغز اخروٹ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو تقویت قوت باہ کے لئے مفید ہے۔


انجیر کی بہترین قسم سفید ہے۔ یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے۔ زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ حلق


کی سوزش، سینے کا بوجھ اور پھیپھڑوں کی سوجن میں مفید ہے۔ جگر اور تلی کو صاف کرتا ہے۔ بلغم کو پتلا کرکے نکالتا ہے۔


جسم کو بہترین غذا فراہم کرتاہے۔ انجیر کو مغز بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملاکر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ


رکھتا ہے۔ اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتا ہو تو اس کا گودہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہوجاتی


ہے۔ پستانوں کی سوزش میں اس کا استعمال مفید ہے۔ گردہ اور مثانہ کی سوزش کے لئے بھی نہایت مفید ہے۔ اس کو نہار منہ کھانا


بہت سے فوائد کا حامل ہے۔ آنتوں کو محترک کرتاہے۔ پیٹ سے ریح کو خارج کرتا ہے۔ بادام کے ساتھ استعمال کرنے سے پیٹ کی


اکثر تکالیف کا خاتمہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔



کے درج زیل فائدے ہیں Fixcus Carica  انجیر کے فائدے


1۔انجیر کو دودھ میں پکاکر پھوڑوں پر باندھنے سے پھوڑے جلدی پھٹ جاتے ہیں۔


2۔انجیر کو پانی میں بھگو کر رکھیں۔ چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دو بار کھائیں، دائمی قبض دور ہوجاتی ہے۔


3۔ خشک انجیر کو رات بھر پانی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیروں کی طرح پھول جائے گا۔ اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض نہیں پیدا ہوتے۔


4۔ سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیر دی جائے تو ان کی نشوونما کے لئے بے حد مفید ہے۔


5۔ انجیر زود ہضم ہے اور دانتوں کے لئے بہترین ہے۔


6۔کم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے انجیر بہترین تحفہ ہے۔


7۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ انجیر کھانے سے آدمی مرض قولنج سے محفوظ رہتا ہے۔


8۔انجیر کے باقاعدہ استعمال سے بدن فربہ ہوجاتا ہے اور رنگت نکھر آتی ہے۔


9۔کھانے کے بعد چند دانے انجیر کھانے سے غذائیت حاصل ہونے کے علاوہ قبض کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔


10۔کھانسی، دمہ اور بلغم کے لئے بھی مفید ہے۔


11۔انجیر کھانے سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے۔


12۔انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو درازکرتا ہے۔


13۔انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں۔ ایک ہفتہ بعد دو تین انجیر کھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آجاتا ہے۔


14۔انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے رنگت نکھر آتی ہے اور جسم فربہ ہوجاتا ہے۔


15۔تازہ انجیر توڑنے سے جو دودھ نکلتا ہے اس کے دو چار قطرے برص (سفید داغ) پر ملنے سے داغ ختم ہوجاتے ہیں۔


16۔انجیر پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔


17۔جن لوگوں کوپسینہ نہ آتا ہو، ان کے لئے انجیر کا استعمال مفید ہے۔


18۔انجیر خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرکے خون کو صاف کرتا ہے۔


19۔جن لوگوں کو ضعف دماغ (دماغ کی کمزوری) کی شکایت ہو، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں، پھر سات دانے بادام، ایک اخروٹ کا مغز، ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملاکر پی لیں۔


20۔کمر میں درد ہو تو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے  سے درد سے نجات مل جاتی ہے۔


21۔بواسیر کی شکایت ہو تو انجیر کا استعمال نہایت مفید ہے۔ اس کے استعمال سے پرانی سے پرانی بواسیر کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔


22۔میتھی کے بیج اور انجیر کوپانی میں پکا کر شہد میں ملا کر کھانے سے کھانسی کی شدت کم ہوجاتی ہے۔


23۔انجیر تازہ اور نرم لینی چاہئے۔ کالی اور سوکھی انجیر میں بعض اوقات سفید کیڑے نظر آتے ہیں۔ ایسا انجیر بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔



Powered by Blogger.