Showing posts with label پھلوں کے خواص. Show all posts
Showing posts with label پھلوں کے خواص. Show all posts

jawani ka muhafiz coconut water ناریل کا پانی

jawani ka muhafiz coconut water ناریل کا پانی


 روزانہ ناریل کا پانی پینے سے نہ صرف آ پ خوبصورت نظرآئیں گے بلکہ یہ چاک چوبند رکھنے میں بھی


مددگارثابت ہوتا ہے۔


ناریل کے پانی سے متعلق حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسے افراد جو ناریل کا پانی باقاعدگی سے


استعمال کرتے ہیں ان میں نہ صرف خون کی گردش بہتر ہوتی ہے بلکہ ان کا بلڈ پریشر بھی نارمل رہتا ہے


اور ایسے افراد میں دل کے دورے سمیت دیگر دل کے امراض دوسروں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں یہی


نہیں ناریل کا پانی بلڈ شوگر لیول کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔


[caption id="attachment_1977" align="aligncenter" width="407"]desiherbal.com-jawani ka muhafiz coconut water ناریل کا پانی desiherbal.com-jawani ka muhafiz coconut water ناریل کا پانی[/caption]

 تحقیق سے ثابت ہوا کہ ناریل کا پانی وزن کم کرنے اور قوت مدافعت بڑھانے کے لئے موزوں ہے، اکثر


ڈاکٹرز حاملہ خواتین کو ناریل کا پانی استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جو قبض کی صورت میں حاملہ


خواتین کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے، ناریل کے پانی میں پوٹاشیم اور میگنیشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے


جس کے استعمال سے انسان کے پیشاب کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور خاص طور پر گردوں کے


 مریضوں کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔


 اگرآپ چہرے پر کیل مہاسوں سے پریشان ہیں تو فوری طور پر ناریل کے پانی سے چہرے کا مساج کریں


جو چہرے پر پھنسیوں کے خاتمے کے لئے بھی مفید ہے یہی نہیں ناریل کا پانی ہاتھوں کو نرم اور ناخنوں


 کو خوبصورت رکھنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گاجر سے کینسر کا علاج اس مرض میں مبتلا خاتون کی انتہائی حیرت انگیز کہانی

گاجر سے کینسر کا علاج اس مرض میں مبتلا خاتون کی انتہائی حیرت انگیز کہانی


کینسر جیسے خوفناک مرض کا اول تو کوئی علاج ممکن نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو انتہائی تکلیف دہ


طویل اور مہنگا ہوتا ہے جس کی کامیابی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دوسری طرف بعض اوقات


قدرت کے ایسے کرشمے بھی سامنے آجاتے ہیں جیسے گاجر سے کینسر کا علاج کہ انسان حیرت زدہ رہ


جاتا ہے اور بظاہر موت کے منہ میں جانے والے مریض کسی معمولی سی چیز سے صحت یاب ہوجاتے


ہیں۔


این کیمرون نامی خاتون بھی ایک ایسی ہی مثال ہیں کہ جنہیں 2013میں بتایا گیا کہ وہ بڑی آنت کے


کینسر میں مبتلاءہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں کیمو تھراپی کا مشورہ دیا۔ ان کے ذاتی معالج نے انہیں بتایا کہ


کیمو تھراپی سے صرف یہ ہوگا کہ ان کی موت کچھ عرصہ کیلئے ٹل جائے گی لیکن 2سے3سال بعد بہر


حال وہ دنیا سے رخصت ہوجائیں گی۔ این دل شکستہ تھیں اور سوچ رہی تھیں کہ وہ کیا کریں، پھر انہی


دنوں انہیں پتہ چلا کہگاجر سے کینسر کا علاج ہوسکتا ہے اور گاجروں کا جوس بکثرت پینے سے کینسر


کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتائی گئی مقدار، تقریباً سوا دو کلو، گاجروں کا جوس روزانہ پینا


شروع کردیا۔ یہ تقریباً ایک لیٹر جوس ہوتا جو وہ صبح نکالتیں اور وقفے وقفے سے سارا دن پیتی رہتیں۔


انہوں نے یہ سلسلہ 6ماہ تک جاری رکھا اور 13مہینے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے جسم سے کینسر


ختم ہوچکا تھا۔


این کہتی ہیں کہ شاید آپ کو اس بات پر یقین نہ آئے لیکن وہ تو قدرت کا شکر ادا کرتے تھکتی نہیں ہیں


کہ قدرت نے انہیں گاجر سے کینسر سے شفاء دی گاجروں کے جوس نے انہیں کینسر سے نجات دلوادی


ہے۔ انہوں نے  گاجر سے کینسر سے شفاء کے متعلق ایک کتاب بھی لکھی ہےجس کا نام


 ہے 'Curing cancer with carrots'

BANANA کیلا قدرت کا انمول تحفہ

BANANA کیلا قدرت کا انمول تحفہ


BANANA مختلف نام:- (عربی) موز (بنگالی) کلہ (تامل) کڈالی (سندھی) کیلو (انگریزی) بنانا


پہچان :۔ مشہور عام پھل ہے اس کی کئی قسمیں ہیں لیکن افعال و خواص قریبا ایک جیسے ہیں۔


 رنگ :۔ باہر زرد و سرخ ، اندر سفید


  ذائقہ:۔ شیریں


 مزاج:۔ گرمی سردی میں معتدل اور دوسرے درجہ میں تر


  افعال و استمال 


کثیرا الغذا ہے خون گاڑھا پیدا کرتا ہے بدن کو فربہ کرتا ہے سینہ کو نرم کرتا ہے۔ لہذا خشک کھانسی اور


حلق کی خشونت زائل کرتا ہے۔ یہ پوٹاشیم کا خزانہ ہے، جس سے بچوں کے قد اور جسم کی بہتر نشونما


ہوتی ہے۔گرم مزاج والوں کی باہ کو حرکت دیتا ہے پختہ کیلا نہار منہ کھانا آنتوں پر ملین تاثیر رکھتا ہے ۔


لیکن خام قابض اور دیر ہضم ہوتا ہے ۔ اس کے تنے پتوں اور پھولوں کا پانی حابس الدم ہے اس کی


جڑ کا پانی سہاگہ بریان اور قلمی شورہ ملا کر حبس بول میں اور گھی اور شکر ملا کر سوزاک میں دیا


جاتا ہے۔  دل کو فرحت بخشتا ہے اور خون کی کمی کو دور کرتاہےاور فشار قلب کے مریضوں کے لیے


بہت مفید ہے۔دو کیلے کھانے سے ڈیڑھ گھنٹہ کے لیے توانائی مل سکتی ہے۔ اور اسی وجہ سے  دنیا


بھر کے کھلاڑی اس کو اپنی خوراک کا اہم جزو بنائے رکھتے ہیں۔


اس کے پھولوں کا رس دہی کے ہمراہ کثرت حیض میں کھلاتے ہیں۔ اور ذیابطس میں پھولوں کو پکا کر


کھاتے ہیں۔ اگراس کو مسل کر اس میں ایک بڑا چمچہ جئی کا آٹا ملا یا جائے اور پھر چہرے پر ملا جائے


تو اس سے جلد نکھر جا تی ہے ۔ یورپ کے لوگ  عموماً چتری دار کیلا پسند نہیں کر تے اور ایسے


کیلے کو ترجیح دیتے ہیں جو پوری طر ح پکا نہ ہو ، لیکن جدید تحقیق بتاتی ہے کہ چتری دار کیلا زیا دہ


فائدہ مند ہو تا ہے ۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ خو ب پک جاتا ہےتو اس کا زیا دہ نشاستہ شکر میں


تبدیل ہو کر اسے مزے دار بھی بنا دیتا ہے اورجلد ہضم بھی۔کیمیائی تجزیہ پر اس میں کاربوہائیڈریٹس


۲۳فی صد ، پروٹین ۹ئ فی صد کے علاوہ کیلسیم آئرن ، فاسفورس ، وٹامن اے اور وٹامن سی بھی پائے


جاتے ہیں۔ (غیر سمی)

خوبانی قدرت کا عظیم تحفہ

خوبانی قدرت کا عظیم تحفہ 


مختلف نام (عربی) مشمش (فارسی) زرد آلو ( سندھی) زرد آلو (پہاڑی نام) ہاڑی


APRICOT(انگریزی)


پہچان :۔ مشہور پھل ہے


رنگ :۔ زرد


ذائقہ :۔ شیریں


مزاج :- سرد وتر بدرجہ دوم مغز گرم وتر


مقدار خوراک :- ۵ عدد سے دس عدد تک


افعال و استمال :- ملین مسکن ، تشنگی اور نافع امراض غلیانیہ صفرا ہے۔ جملہ اعضائ کو قوت دیتا ہے۔


اس کا نقوع صفرادی اور خونی پتوں سوزش معدہ اور بواسیر کے لیے نافع ہے۔ مادہ کو معتدل القوام کرنا


ہے۔ پیاس خون جوش خون کو تسکین دیتا ہے صفرا کا مسہل ہے مغز خوبانی مبہی اور بادام کی مانند لذیذ


ہوتا ہے۔ درخت خوبانی کے پتے قاتل کرم شکم ہےتازہ خوبانی میں قدرتی شکر، وٹامن اے، سی ، ای


پوٹاشیم، کیلشیم اور فاسفورس موجود ہوتے ہیں۔ خوبانی سے حاصل ہونے والے بادام میں پروٹین اور


چکنائی ہوتی ہے۔ جبکہ خشک خوبانی میں بھی پروٹین، فروٹوز، معدنی نمکیات، چونے، فاسفوس، فولاد


کے ساتھ کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس بھی ہوتا ہے۔ سرد ملکوں اور عرب ممالک میں سارا سال


خشک خوبانی کا استعمال بہت زیادہ ہے۔


مقام پیدائش:- افغانستان ، بلوچستان ، مغربی ہند اور پاکستان


مزید طبی فائدے


جلدی امراض کا علاج


خون میں حرارت کم کرنے، پھوڑے پھنسیوں سے نجات کے لیے 100 گرام خوبانی، 30 گرام عناب رات


کو 300 ملی لیٹر پانی میں بھگو دیں۔ صبح خوب مل کر چھان لیں اور حسب ضرورت مصری ملا کر نہار


منہ پی لیں۔


پیٹ کے کیڑوں کا علاج


 پچاس گرام خشک خوبانی، سبز چائے نہار منہ استعمال کریں، کچھ دن میں کیڑے خارج ہو جائیں گے۔


بھوک کی کمی کا علاج


 لوگ بھوک کی کمی کی شکایت کرتے ہیں، ان کا معدہ بوجھ محسوس کرتا ہے، پیٹ پھولا رہتا ہے، لہٰذا ان


امراض میں ایک پاؤ خوبانی استعمال کریں اور اس کے ساتھ 20 گرام سونف سبز روزانہ استعمال کریں۔


خوبانی کے دیگر فوائد


- خوبانی جسم میں توانائی پیدا کر تی ہے


- خوبانی کے استعمال سے خون میں حرارت اور حدت پیدا ہوتی ہے


- خوبانی قبض کشا ہوتی ہے اور خوراک کو جلد ہضم کرتی ہے


- خوبانی کا مربہ بنایا جاتا ہے جو مقوی دل، مقوی معدہ اور مقوی جگر ہوتا ہے


- خوبانی کے مغز کے فوائد مغز بادام کے برابر ہوتے ہیں


- خوبانی میں بہترین غذائیت ہوتی ہے۔ جو انسانی جسم کے لیے بہت مفید ہے


-  خوبانی کھا نے سے عمر بڑھتی ہے


خوبانی ڈکا ریں آنے کو روکتی ہے


- خوبانی جوش خون کو فا ئدہ دیتی ہے


- خوبا نی کے درخت کے پتے اگر دو تولہ رگڑ کر پلائے جائیں تو پیٹ کے کیڑے اس سے مر جا تے ہیں


خوبانی سوزش معدہ اور بوا سیر کے لیے مفید ہے


خوبانی جگر کی سختی کو دور کر تی ہے


 خوبانی کھلانے کے بعد گرم پانی شہد ملا کر پلانا قے لاتا ہے اور بخار اتر جاتا ہے


اس کے رس کے چند قطرے کانوں میں ڈالنے سے بہرہ پن دور ہوتا ہے اور کان کے درد سے افا قہ


ہوتا ہے


 نزلہ، زکام ، گلے کی خرا ش اورمنہ کی بد بو دور کرنے کے لیے روزانہ دس دانہ خوبانی ہمراہ گرم


پانی استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔


 سر چکرانے اور صبح اٹھنے کو اگر دل نہ چاہتا ہو تو پندرہ دانے خوبانی ایک پاﺅ دودھ میں رات کو


اُبال کراس میں سونف ایک تولہ ، دانہ بڑی الائچی تین ماشہ ملا کر ابال کر رکھیں اور صبح


نہار منہ استعمال کریں بے حد مفید ہے


یہ انسانی دل کے لیئے انتہائی مفید ہے کیونکہ خوبانی کی یہ خوبی ہے کہ وہ کولیسٹرول کو کم کرتی ہے


اور وزن کم کرتی ہے


چہرے کی خوبصورتی بڑھانے کے لئے خوبانی کا استعمال جلد کے لئے بہت مفید ہے اس کی اسی خوبی


کی بنا پر خوبانی کو بہت سی میک اپ وغیرہ کی پراڈکٹ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے- یہ بہت سی جلدی


بیماریاںبھی ختم کرتی ہے-خوبانی عمر بڑھنے کے ساتھ چہرے پر پیدا ہونے والی جھریاں ختم کرتی


ہیں اور چہرے کو شاداب بناتی ہے



 

 

Apple ky faiday سیب کے فوائد

 Apple ky faiday سیب کے فوائد


APPLE مختلف نام :- (عربی) تفاح (سندھی) سوف (بنگلہ) سٹو(انگریزی) ایپل


پہچان :۔ مشہور پھل ہے


رنگ :۔ زرد سرخ


ذائقہ:- شیریں


مزاج:- گرم ۱ تر۲


مقدار خوراک :- شربت چار تولہ رب ایک تولہ سے ڈیڑھ تولہ


افعال و استمال :- مفرح دل و دماغ ، مقوی دل و جگر اس میں قلیل مقدار فولاد کی ہوتی ہے اس لیے


قدرے قابض ہوتا ہے گرمی کو تسکین دیتا ہے خفقان کو مفید چہرے کے رنگ کو روشن کرتا ہے اس کا


رب غلبہ صفرا اور اسہال صفرادی میں استعمال کیا جاتا ہے مربا اختلاج اور خفقان میں کھلاتے ہیں بھوک


بڑھاتا ہے خون صالح پیدا کرتا ہے اس میں وٹامن اے ۱۹۰ انٹرنیشنل یونٹ اور کیلسیم چار ملی گرام فولاد


 ملی گرام اور فاسفورس ۱۱ ملی گرام فی سو گرام پائے جاتے ہیں۔


پھلوں میں سیب کو سب سے ذیادہ توانائی بخش اور لذیذ ترین پھل قرار دیا گیا ہے۔سیب ایک خوش رنگ


اور خوش ذائقہ پھل ہے۔اسکی بیشمار اقسام ہیں۔غذائیت کے لحاظ سے یہ ذیادہ مقبول ہے۔بوڑھوں بچون


اور نو جوانوں کا سب سے پسندیدہ پھل ہے۔یہ معدہ میں پیپسین کو تیز کرتا ہے جس سے ہاضمہ میں مدد


ملتی ہیاور بھوک لگتی ہے۔جگر کا فعل بھی تیز ہو جاتا ہے۔سیب کھانے سے جسم میں چستی اور صلاحیت


بڑہتی ہے۔سیب فاسفورس کا قدرتی خزانہ ہے اس لیے خون کی کمی کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔


تازہ سیب میں چوراسی فیصد پانی ہوتا ہے۔سیب میں فاسفورس تمام پھلوں اور سبزیوں سے ذیادہ پایا جاتا


ہے۔اسلیے سیب کا چھلکا ذائع نہیں کرنا چاہیے۔روزانہ نہار منہ ایک یا دو سیب کھانے سے صحت قابل


رشک ہو جاتی ہے۔یہ گردوں کی صفائی کے لیے بھی بہترین ٹانک ہے۔


دماغی کام کرنے والوں کے لیے بھی سیب ایک موثر غذائی ٹانک ہے کیونکہ اس سے قوت حافظہ بڑہتی


ہے۔یہ طلبہ اور دماغی کام کرنے والوں کے لیے ایک لا جواب تحفہ ہے۔


سیب کے طبّی فوائد

سیب کے چھلکے سے نہائیت خوشذائقہ چائے تیار کی جاتی ہے جو عام طور پر چائے اور کافی کی طرح


نقصان دہ نہیں ہوتی بلکہ بہت قوت بخش ہے۔اس میں لیمو اور شہد ملانے سے اس کے فوائد دوگنے ہو


جاتے ہیں۔بوڑھے اور کمزور افراد کے لیے اسکا اثر تسلیم شدہ ہے۔سیب کے چھلکے سے تیار شدہ قہوہ


نہائیت لذیذ اور فرحت بخش ہے۔خاص طور سے کمزور اور بوڑھے افراد کے لیے۔یہ چائی پیچش اور بخار


کی کمزوری دور کرنے کے لیے مشہورمقوی مشروب اور ٹانک اووولٹین کا کام دیتی ہے۔


مستقل سر درد کا علاج


ایک یا دو سیب لے کر چاقو سے چھیلیں۔پھر نمک لگا کر صبح خالی پیٹ خوب چبائیںتین چار روز کے


استعمال سے مستقل سر درد کے مریضوں کو آرام آ جائے گا۔


دماغی کمزوری اور زکام کا علاج


آجکل دماغی کمزوری کے مریض عام ہیں بلکہ وہ ذیادہ تر نزلہ زکام میں مبتلاء نظر آتے ہیں۔جو دراصل


دماغی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ طالبعلموں کو اکثر امتحانوں میں نزلہ زکام کی


شکائیت ہو جاتی ہے۔اگر دماغی طاقت کا علاج کر لیا جائے تو نزلہ کود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔یہ نقطہ بہت


کم لوگوں کو معلوم ہے۔ادویات سے اس لیے آرام نہیں آتا کہ نزلے کی اصل وجہ دماغی کمزوری ہوتی ہے۔


تا وقتیکہ دماغ کو تقویت پہنچا کر مضبوط بنایا جائے انہیں شفاء ملنا مشکل ہوتا ہے۔یہاں ایسا غذائی نسخہ


پیش کیا جاتا ہے جس سے دماغ مضبوط ہونا یقینی ہے۔


کھانا کھانے سے دس منٹ پہلے ایک یا دو سیب نہائیت اعلٰی کوالٹی کے چھیل کر کھا لیا کریں۔چند روز


میں دماغی کمزوری کی شکائیت دور ہو جائے گی۔


کھانسی کا علاج


ایک پکا ہوا سیب کوٹ لیں یا اسکا رس نکال لیں۔کوٹے ہوئے سیب کا رس نکال کر مصری ملائیں اور


صبح ناشتے سے پہلے مریض کو پلائیں کھانسی ختم ہو جائے گی۔


قے کا علاج


کچے سیب کا جوس نکال لیںیا کوٹ کر نچوڑ لیں۔اس میں نمک ملا کر پلائیں قے کا فوراً آرام آ جائے گا۔


پیٹ کے کیڑے


رات کے وقت بچوں کو دو سیب کھلائیں۔اس کے بعد پانی بالکل نہ پلائیں۔سات روز ایسا کرنے سے پیٹ کے


کیڑے پا خانے کے راستے نکل جائیں گے اور بچے تندرست و توانا ہو جائیں گے۔


قابل رشک صحت


صبح خالی پیٹ تین چار سیب کھا کر دودھ پئیں۔ایک دو ماہ میں صحت قابل رشک ہو جائے گی۔آزمائش


شرط ہے۔مختصر یہ کہ اسکا مقابلہ کسی بھی قیمتی سے قیمتی دوا سے کیا جا سکتا ہے مگرا ان سے اکثر


یہ اثرات حاصل نہیں ہوتے۔


بھوک نہ لگنا


تازہ سیب کے جوس میں چٹکی بھر سیاہ مرچ سفید زیرہ اور نمک ملا کر پینے سے بھوک میں اضافہ ہوتا


ہے۔معدہ طاقتور ہوتا ہے اور غذا جزو بدن بننے لگتی ہے۔


مربہّ سیب

پانچ سے چھ موٹے سیب لے کر انکے اندر سے بیج نکال دیں۔چاقو سے نکال کر پانی میں ہلکا سا جوش


دیں۔نیم پختہ ہونے پر چینی کی چاشنی ڈال کر تھوڑی دیر کے لیے آگ پر پکائیں۔قوام گاڑھا ہونے پر آگ


سے اتار کر شیشے کی بوتل یا جار میں محفوظ کر لیں۔بطور ناشتہ سنہری ورق میں لپیٹ کر استعمال کرنا


مقویء قلب و دماغ ہے۔


مقام پیدائش:- کشمیر کلو

Angoor ky faiday انگور کے فائدے

Angoor ky faiday انگور کے فائدے


       مختلف نام:۔ 


 (عربی)  عنب (گجراتی) دہراکھ (بنگلہ) دراکھیا (بنگالی) داکھ (انگریزی) گریپ


پہچان :۔   مشہور میوہ ہے چھوٹے انگور کو جسمیں دانہ نہیں ہوتا انگور یا بدانہ کہتے ہیں۔ یہی جب خشک ہو جاتا ہے تو اس کوکِشمِش کہتے ہیں۔


رنگ :۔   زرد اور سیاہ دو قسم


ذائقہ :۔  شیریں چاشنی دار خام ترش


مقدر خوراک :-  بقدر ہضم


مزاج :- پختہ گرم تردرجہ اول۔ خام سرد و خشک درجہ اول


 مصلح  :-  تخم کرفس ، بادیان سکنجبین


اللہ تعالی نے جہاں انسان کیلئے مختلف اقسام کے اجناس، سبزیاں، ترکاریاں اور دیگر مختلف النوع خوردنی نعمتیں پیدا کی ہیں وہاں مختلف قسم کے موسمی پھل بھی پیدا فرمائے ہیں جو نہ صرف ذائقہ و لذت کے اعتبار سے بہترین کیفیات و تاثرات سے بھرے ہوئے ہیں بلکہ قدرت نے ان پھلوں میں حیاتیاتی جو ہر اورامراض سے شفابخشی کے کمالات بھی سمودئیے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ طبی نقطہ نظر سے اکثر و بیشتر پھلوں میں تقویت
بدن کے ایسے ایسے حیران کن جو ہر پوشیدہ ہیں کہ ان کے سامنے بیشتر دوائیں بھی محض رسمی اور عمومی ہو کر رہ جاتی ہیں ایسی ہی نعمتوں میں ایک نعمت انگور ہے جو انتہائی لذیذ اور بے مثال قوت بخش پھل ہے اسے صحت و توانائی فراہم کرنے کے لحاظ سے ایک اچھوتا اور پر کشش پھل تصور کیا جاتا ہے قدرت کے اس کیپسول میں تین بنیادی خصوصیات ایسی ہیں کہ سوائے انار کے دوسرے پھلوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔


Angoor ky faiday انگور کے فائدے


 زرد ہضم اور کثیر الغذا ہے۔ خون صالح بکثرت پیدا کرتا ہے بدن کو فربہ کرتا ہے مصفیٰ  خون بھی ہے سدادی اور احتراتی مواد کودفع کرتا ہے پختہ انگورملین ہوتا ہے ۔ اور امراض اسہال میں مفید ہے۔ دراکشا آسواور مائ اللحم انگوری اس کے مشہور مرکبات ہیں۔ کیمیائی تجزیہ سے اس میں کاربوہائیڈریٹس ۷ ئ سولہ فی صد پروٹین ۸ فی صد کے علاوہ وٹامن اے ۸۰ انٹرنیشنل یونٹ وٹامن سی چار ملی گرام فی سو گرام کیلسیم ۱۹ ملی گرام اور آئرن ۳ئ ملی گرام فئ سو گراموں میں پائے گئے ہیں۔



Angoor ky faiday انگور کے فائدے اور غذائیت


غذائیت اور توانائی کے خزانوں سے بھر پور یہ ایک کثیر الغذا پھل ہے ۔ انگور کے پختہ پھل کا استعمال اچھے سے اچھے گوشت و اعلیٰ ترین پروٹینز اور وٹامنز والی غذاؤں سے بھی بہتر ثابت ہوتا ہے خوش قسمتی سے پاکستان میں کوئٹہ سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں یہ کثرت سے پایا جاتا ہے اور بطور غذا مستعمل ہے۔
 انگوراور نظام انہضام
انگور کی دوسری بڑی خوبی اس کا زو دہضم اور لطیف ہوناہے اس کے استعمال سے نہ توطبیعت بوجھل ہوتی ہے اور نہ ہی معدے میں کسی قسم کی گرانی پیدا ہوتی ہے بلکہ دوسری کھائی ہوئی غذا کو بھی ہضم کرنے کا باعث بنتا ہے۔



Angoor ky faiday انگور کے فائدے اور تازہ خون


انگورجسم میں تازہ اور مصفی خون پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے تمام معالجین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ انسان کی تندرستی کا دارو مدار خون صالح کی پیداوار سے ہے اگر جگر خون پیدا کرنا بند کر دے تو انسانی صحت جواب دے جاتی ہے جسم کمزور ہو جاتا ہے رنگ پیلا پڑ جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جن افراد میں خون کی کمی ہوتی ہے وہ اکثر لاغر اور کمزور ہوتے ہیں نئے خون کی پیداوار کے بغیر جسم سوکھنا شروع ہو جاتا ہے قدرت نے انگور کو یہ خوبی بخشی ہے کہ اس کے استعمال سے صاف خون پیدا ہوتا ہے۔



اقسام


انگور کی کئی اقسام ہیں جو رنگ اور حجم کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔رنگت کے اعتبار سے سفید‘ سرخ اور سیاہ انگور کی تین اقسام پائی جاتی ہیں ان اقسام میں سفید قسم سب سے زیادہ مقبول ہے اور فائدہ مند ہے ۔جبکہ حجم کے اعتبار سے بھی بڑا انگور‘گول جسے بادانہ یا گولا انگور بھی کہا جاتا ہے ‘لمبوترا یا بیضوی جسے سندرخانی انگور بھی کہتے ہیں‘تین اقسام ہیں۔کچاانگور استعمال نہیں کرناچاہئے کیونکہ خام اور کچے انگور میں وہ غذائیت شیرینی اور قوت نہیں ہوتی جو پکے ہوئے انگور میں ہوتی ہے پکا ہوا شیریں انگور قبض کشا ہوتا ہے زیادہ کھانے سے اسہال لاتا ہے اس کے خشک پھل کو کشمش کہتے ہیں مویز منقی بھی ایک قسم کا خشک انگور ہے کم و بیش جو خواص تازہ انگور میں پائے جاتے ہیں وہی کشمش اور مویز منقی میں پائے جاتے ہیں اگر تازہ دستیاب نہ ہوں تو کشمش استعمال کی جا سکتی ہے جو بہت حد تک انگور کا نعم البدل ہے۔



Angoor ky faiday انگور کے فائدے و اجزائے ترکیبی اور طبی فوائد


انگور میں کاربوہائیڈریٹس‘کیلشیم ‘فاسفورس‘فولاد‘وٹامن اے‘بی اور سی پایا جاتا ہے انگور میں سیلولوز شکر اور کچھ تیزاب والے مرکبات ہوتے ہیں جو اس کو قبض کشا بناتے ہیں اس لیے یہ قبض کے مرض میں بہت مفید ہے۔ یہ معدے اور آنتوں کو طاقت بھی دیتا ہے۔معدے کی رطوبت کو مزید ہاضم اور مصفی بنانا ہے بلکہ عمل انہضام کے بعد خون میں شامل ہو کر خون کو صحت مند بناتا ہے۔ بدن کوپرکشش اور فربہی دینے میں بھی دوا کا کام کرتا ہے۔ بچوں کے دانت نکلنے کے دوران اسہال‘ قبض یا تشنجی دورے پڑتے ہیں ان عوارضات کیلئے انگورکا رس بہت ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔ جن بچوں کے منہ اور حلق میں چھوٹے چھوٹے چھالے پڑ جاتے ہیں ان کے لیے بھی انگور کا رس نہایت فائدہ مند ہے۔ بچوں کے لیے اس کی مقدار خوراک ایک چائے کے چمچے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ کمزور اور سوکھے کے مرض کا شکار چھوٹے بچوں کو انگورکا رس روزانہ پلانا چاہئے۔بلغمی امراض میں اعتدال کے ساتھ شیریں انگور کا استعمال مفید ہے۔ انگور کا معتدل استعمال جسم میں فاسد مادوں کے اخراج میں بھی مفید ہے۔ کھانسی زکام وغیرہ کیلئے بھی مفید ہے۔ انگور کا رس درد شقیقہ ‘جسم کی کمزوری‘خون کی کمی اور دیگر امراض کیلئے بہت مفید ہے۔قطرہ قطرہ پیشاب آنے کی صورت میں ایک پاؤ انگور روزانہ کھانامفید ہے‘ ضعف گردہ میں انگور کااستعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔
گردے ومثانے کی پتھری اور جگر و گردے کے دوسرے عوارضات کیلئے انگور کی بیل کے پتوں کا جوشاندہ بہت مفید ہے جس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ دس گرام انگور کی بیل کے پتوں کو 150ملی لیٹریا ایک کپ پانی میں ڈال کر اتنا جوش دیں کہ وہ تیسرا حصہ یعنی پچاس ملی لیٹر رہ جائے پھر اس کو چھان کر اور بقدر ضرورت میٹھا ملاکر یا بغیر میٹھا کئے پی لیا جائے۔
اطبائے قدیم انگور کو قلب سمیت دیگر کئی امراض اور جسمانی صحت کے لیے مفید قرار دیتے چلے آئے ہیں جس کی تصدیق اب جدید تحقیقات نے بھی کر دی ہے۔انگور کھانے سے خون پتلا رہتاہے۔خاص طورپر سیاہ یا سرخ انگوروں کا ایک گلاس رس پینے سے خون میں تھکے بننے کا خطرہ ساٹھ فیصد کم ہوجاتاہے جبکہ ایسپرین کھانے سے یہ خطرہ صرف پچاس فیصد کم ہوتاہے۔امریکہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ انگوروں کا استعمال دل کے امراض سے محفوظ رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انگوروں میں موجود قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس نہ صرف حرکتِ قلب کو ہموار رکھتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر کا توازن بھی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جدیدطبی تحقیقات کے مطابق انگور میں ریزرویراٹول نامی ایک اہم جزو شامل ہے جو ہمارے جسم میں تین اہم کام سرانجام دیتاہے۔
*۔۔۔خلیے میں ’’ڈی این اے‘‘کو تباہی سے بچاتاہے۔
*۔۔۔عام خلیہ اس سے سرطانی خلیہ میں تبدیل نہیں ہوتا۔
*۔۔۔رسولی بنانے والے خلیوں کو پیدا ہونے اور بڑھنے سے روکتاہے۔انگورسرطان کے تحفظ میں موثر ہے کیونکہ اس میں ’’کیٹے چنزمانع تکسیدوافر ہوتے ہیں۔ جوانسانوں میں چھاتی'غذودمثانہ(پروسٹیٹ)اور دیگر کئی قسم کے سرطانوں میں فائدہ مند ہیں جبکہ جانوروں کے بھی کئی قسم کے گومڑوں اور رسولیو ں میں مفید ثابت ہوئے ہیں۔
سبزیوں اور پھلوں کی کینسر کے خلاف مزاحمت کے حوالے سے مسلسل تحقیق جاری ہے اور آئے روز اس حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں ابھی حال ہی میں امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سرطان کے خاتمے کیلئے انگوروں کے بیجوں کا گودا نہایت کارآمد ثابت ہوا ہے۔
طبی ماہرین نے لیبارٹری میں تجربات کرتے ہوئے خون کے سرطان پر انگوروں کے بیجوں کے گودے کو آزمایا اور صرف24گھنٹوں میں سرطان کے خلیوں کی 76فیصد تعداد کو کم ہوتے دیکھا جبکہ خون کے اندر صحت مند خلیے اس سے محفوظ رہے۔طبی ماہرین نے ان تجربات کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح پر اب خون کے سرطان کے علاج کی نئی دوا تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل لیو کیمیا کے مریضوں کو کثرت سے انگور کھانے کی سفارش کی جاتی تھی جس کو بنیاد بناکر نئی تحقیق شروع کی گئی تھی۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ انگوروں کے بیجوں میں جسم سے فاسد مادے خارج کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے اور دل کو مضبوط بنانے کیلئے یہ ایک بہترین ٹانک ثابت ہوتے ہیں۔ماہرین نے مزید کہا ہے کہ ان بیجوں میں جلد‘چھاتی‘ مثانہ‘پھیپھڑوں اور معدے کے سرطان کے خلاف بھی قوت دیکھی گئی ہے۔ چوہوں میں چھاتی اور جلد کے کینسر ٹیومر کا سائز ان بیجوں کے استعمال سے کم ہوگیا تھا۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کینٹیکی کے پروفیسر زینگ لینگ شائی نے مکمل کی ہے۔
فرانسیسی ریسرچرز کے مطابق انگور خاص طور پر بینگنی رنگ کے انگور کے جوس میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدارکافی زیادہ ہو تی ہے جو دل کی تنگ یا بند شریانوں کی بیماریسے ہمیں محفوظ رکھ سکتی ہے ۔ انگور کے جوس اور خود انگور کا تجربہ جن جانوروں پر کیا گیا ان کے جسم میں کو لیسٹرول کی سطح کم ہو گئی تھی ‘جسمانی دباؤبھی کم تھا اور جسم کی اہم ترین شریان آورطہ کے گرد چربی کم مقدار میں دیکھی گئی سبز انگور کے مقابلے میں بینگنی رنگ کے انگور میں یہ حفاظتی صلاحیت زیادہ نوٹ کی گئی ۔ اینٹی آکسیڈنٹس کے فوائد تازہ انگور کے علاوہ انگور کے جوس سے بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔  جولو گ دل کی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں انہیں تازہ انگور اور اس کا جوس زیادہ استعما ل کر نا چاہئے۔
انگور اور اس کے پتوں کے شربت زمانہ قدیم سے طب اسلامی میں مستعمل ہیں ۔



 Angoor ky faiday  انگور کے فائدے عام طبی نسخہ جات


افادہ عام کیلئے ان کے نسخہ جات نذر قارئین ہیں۔
مقوی و مفرح قلب شربت انگور
ہوالشافی:میٹھے انگور آدھ کلو‘پانی آدھ کلو‘چینی سات سو پچاس گرام۔
ترکیب:انگور کا رس نکال لیں ۔ ایک دیگچی میں پانی اور چینی ڈال کر چولہے پر رکھ دیں اور پکنے دیں۔ ایک دو جوش آجائیں تو انگور کا رس اس میں ڈال دیں اور پکنے دیں چاشنی جب ایک تار ہو جائے تو اتار لیں اور ٹھنڈا ہو نے پر صاف اور خشک بوتل میں بھر لیا جائے۔ یہ شربت گرمی کے موسم میں بہت لذیذ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے استعمال سے دل کو سکون اور دماغ کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔مقوی بدن ہے۔
انگور کے پتوں کا شر بت
ہوالشافی :انگور کے پتے 120گرام‘کلتھی ‘گوکھر و‘سونف ‘خر بوزہ کے بیج ہر ایک چالیس گرام‘ پانی تین کلو گرام‘چینی دو کلو گرام۔
ترکیب:کلتھی ‘گوکھر و‘سونف ‘خر بوزہ کے بیج اور انگور کے پتوں کو پانی میں ڈال کر بھگو دیا جائے ۔ بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد آگ پر رکھ کر جوش دیں‘جب پانی آدھا رہ جائے تواتارلیں اورچھان کراس میں دو کلو گرام چینی شامل کرکے دوبارہ آگ پر چڑھائیں ہلکا جوش آنے پر قوام تیار ہوجائے تو اتارلیں‘شر بت تیار ہے۔ یہ شربت گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے میں انتہائی موثر ہے۔علاوہ ازیں پیشاب کی جلن اور سوزش میں بھی مفید ہے۔ 


مقام پیدائش :- علاقہ سرحد، بلوچستان ، کشمیر ، قندھار ، افغانستان ۔


Benefits of grapes in english


 fruits and vegetables of all kinds has long been associated with a reduced risk of heart disease, diabetes, cancer and other conditions. Many studies have shown that increasing consumption of plant foods like grapes decreases the risk ofobesity  and overall mortality. Grapes also have some special components that make them even more essential to our health, giving them "super food" status and reducing the risk of the following conditions:

Cancer: Grapes contain powerful antioxidants known as polyphenols, which may slow or prevent many types of cancer, including esophageal, lung, mouth, pharynx, endometrial, pancreatic, prostate and colon.1

The resveratrol found in red wine famous for heart health is a type of polyphenol found in the skins of red grapes.

Heart Disease: The flavonoid quercetin is a natural anti-inflammatory that appears to reduce the risk of 
atherosclerosis and protect against the damage caused by low-density lipoprotein (LDL)cholestrol  in animal studies. Quercetin may have the additional bonus of anti-cancer effects; however more studies are needed using human subjects before these results can be confirmed.6

The high polyphenol content in grapes may also reduce the risk of cardiovascular disease (CVD) by preventing platelet build-up and reducing blood pressure  via anti-inflammatory mechanisms.

The fiber and potassium in grapes also support heart health. An increase in potassium intake along with a decrease in sodium intake is the most important dietary change that a person can make to reduce their risk of cardiovascular disease, according to Mark Houston, MD, MS, an associate clinical professor of medicine at Vanderbilt Medical School and director of the Hypertension Institute at St Thomas Hospital in Tennessee.5

In one study, those who consumed 4069 mg of potassium per day had a 49% lower risk of death from ischemic heart disease compared with those who consumed less potassium (about 1000 mg per day).5

High potassium intakes are also associated with a reduced risk of stroke, protection against loss of muscle mass, preservation of bone mineral density and reduction in the formation of kidney stone5

High Blood Pressure: As noted above, potassium has many benefits for the body. It may be that a low potassium intake is just as big of a risk factor in developing high blood pressure as a high sodium intake.4 Because of their high potassium content, grapes are recommended to those with high blood pressure to help negate the effects of sodium in the body.

According to the National Health and Nutrition Examination Survey, fewer than 2% of US adults meet the daily 4700 mg recommendation for potassium.5

Also of note, a high potassium intake is associated with a 20% decreased risk of dying from all causes.5

Constipation: Eating foods that are high in water content like grapes, watermelon and cantaloupe can help to keep you hydrated and your bowel movements regular. Grapes also contain fiber, which is essential for minimizing constipation.

Allergies: Because of the anti-inflammatory effects of quercetin, consuming grapes may help to alleviate symptoms of allergies including runny nose, watery eyes . There have been no human studies done to prove this theory.6

and retinopathy: A few studies have shown promise that resveratrol can protect against diabetic neuropathy and retinopathy, conditions caused by poorly controlled diabetes where vision is severely affected. One study in which diabetic rats were treated with resveratrol for two weeks found that it reduced the effects of neural changes and damage associated with diabetic neuropathy.

Researchers have also found resveratrol to be beneficial for treating , relieving hot flashes and mood swings associated with  and improving blood glucose control, however large studies using human subjects are still needed to confirm these findings.

food and health:خوراک بھی اور صحت بھی

food and health   :  خوراک بھی اور صحت بھی


زندگی میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دماغ کو نوجوان رکھا جائے


اس قول کی اہمیت اپنی جگہ مگر انسان جسم کو جوان رکھنے کی تدابیر بھی اختیار کرے‘ یوں دماغی و جسمانی طور پر تندرست رہ کر وہ طویل عمر پا سکتا ہے۔ یہ اندازِ حیات خصوصاً ان انسانوں کو اپنانا چاہیے جو معاشرے میں بامقصد و مفید کام کرتے ہیں۔


جسمانی و دماغی تندرستی پانے کا ایک طریق کار اچھی غذا کھانا ہے۔ اسی باعث مغرب میں ’’غذائیات کی سائنس‘‘ وجود میں آچکی۔ اس شعبہ علم میں بذریعہ تحقیق و تجربات دیکھا جاتا ہے کہ کون سی غذائیں انسان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچاتی ہیں۔ طبی تحقیقات کی روشنی میں درج ذیل بیس غذائیں دوسری اغذیہ سے زیادہ غذائیت بخش ثابت ہوئی ہیں۔ انھیں استعمال کیجیے، صحت پائیے اور آنے والے برسوں میں بھی تندرستی کے ثمرات سے لطف اندوز ہوتے رہیے۔



جو سنت بھی اور صحت بھی


 پیارے نبی کریم کی ہر بات میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔کئی بیماریوں کا علاج نبی کریم جو کا دلیہ اور شہد سے تجویز کیا کرتے تھے۔کئی پاکستانی مرد و زن فربہی کا شکار ہو کر مختلف ٹوٹکے آزماتے ہیں۔ ایک قدرتی طریقہ یہ ہے کہ ناشتے میں سالم جو کھائیے۔ یہ موٹاپا ختم کرنے کی زود اثر غذا ہے۔وجہ یہ کہ جو کے کاربوہائیڈریٹ کم گلائسیمک انڈکس رکھتے ہیں۔ مطلب یہ کہ دیگر کاربوہائیڈریٹ کی نسبت جو والے کاربوہائیڈریٹ خون کی شکر آہستہ آہستہ بلند کرتے ہیں۔ اس باعث انسان کو بھوک زیادہ نہیں لگتی اور اسے سیری کا احساس رہتا ہے۔ سو کم کھانے سے موٹاپا خودبخود ختم ہونے لگتا ہے۔



السی اور کولیسٹرول


یہ بیج اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا خزانہ ہیں۔ یہ مادہ جسمانی سوزش دور کرتا ہے اور شریانوں میں چربی کی گٹھلیاں نہیں بننے دیتا۔ مزیدبرآں یہ دو مادے لائی گینز اور حل  پذیر ریشہ  بھی رکھتے ہیں۔ یہ دونوں انسانی جسم میں برے کولیسٹرول (ایل ڈی ایل) کاخاتمہ کرتے ہیں۔السی کے بیجوں کو کئی اعتبار سے استعمال کرنا ممکن ہے۔ مثلاً بسکٹوں یا کیک میں ڈالیے۔ ملک شیک کا حصہ بنائیے یا کھانوں پر چھڑک کر کھائیے۔


یاد رہے! ہمارے بدن میں ایل ڈی ایل کی مقدار 100 فیصد سے کم ہونی چاہیے۔



گوبھی کینسر سےحفاظت


یہ ایک مشہور سبزی ہے جسے پکا کر یا کچا کھایا جاتا ہے۔ یہ کئی اہم فائٹو نیوٹرنٹ  کی حامل ہے۔ یہ انسان دوست کیمیائی مادے سوزش کم کرتے نیز ہمیں پھیپھڑوں، معدے اور دیگر اعضا کے سرطان سے بچاتے ہیں۔ یہ قدرتی کیمیائی مادے دراصل ان جینز  کو بخوبی اپنا کام نہیں کرنے دیتے جو سرطانی رسولیاں پیدا کرتے ہیں۔ چناںچہ ان کا علاج سہل ہو جاتا ہے۔ سو سرطان سے محفوظ رہنے کی خاطر شاخ گوبھی بطور سلاد کھائیے یا سالن بنائیے۔



انگور اور جلد کی حفاظت


اس پھل کی کئی اقسام ہیں۔ مثلاً سبز، سرخ، سیاہ اور جامنی انگور۔ ان میں سرخ انگور سب سے زیادہ کیمیائی مادہ ریسورٹرول  رکھتے ہیں۔یہ کیمیائی مادہ جلد کو سوزش سے بچاتا ہے۔ سو وہ تروتازہ اور چمکدار رہتی ہے۔ مزیدبرآں ریسورٹرول ہمیں سورج کی شعاعوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ یاد رہے‘ دھوپ کی زیادتی انسان کو جلد کے سرطان میں مبتلا کر سکتی ہے۔



چاکلیٹ ملا دودھ


انسان ورزش کرنے کے بعد عموماً تھکن اور گراوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس سمے وہ ’’انرجی ڈرنک‘‘ پی کر کھوئی توانائی و چستی پانے کی سعی کرتا ہے۔ مگر انرجی ڈرنک سے کہیں بہتر چاکلیٹ ملا دودھ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ مشروب کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین کا بہترین امتزاج ہے۔ سو وہ انسان کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔ مزیدبرآں تجربات سے عیاں ہو چکا کہ جو مرد و زن چاکلیٹ ملا دودھ نوش کریں، انھیں موٹاپا نہیں چمٹتا، بلکہ زیادہ عضلات جنم لیتے ہیں۔ سو مجموعی طورپر ان کی جسمانی ہیئت جاذب نظر رہتی ہے۔



ادرک اور ہماری صحت


جدید طبی تحقیق سے ثابت ہو چکا کہ ادرک درد دور کرنے والے کیمیائی مرکبات رکھتا ہے۔ ایک تجربے میں ڈنمارک کی اوڈینسی یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرشنا سرپوستاوا نے تین ماہ تک ایسے مرد و زن کو ادرک کی تھوڑی سی مقدار روزانہ کھلائی جن کے جسم درد، سوزش اور کھینچائو میں مبتلا تھے۔ سبھی نے درد و تکلیف سے نجات پا لی۔ چناںچہ ادویہ کو خیرباد کہیے اور اس قدرتی غذا سے ناتا جوڑئیے جو کسی قسم کے مضر اثرات بھی نہیں رکھتی۔



پنیر مقوی ہاضمہ


یہ پنیر کی ایک قسم ہے جو دہی اور اس کے پانی کو بار بار نتھارنے سے بنائی جاتی ہے۔ سخت پنیر  کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام پنیروں سے زیادہ کیلشیم ملتا ہے۔ چناںچہ اس کا محض 50گرام ٹکڑا 550ملی گرام کیلشیم رکھتا ہے۔ سخت پنیر کی ایک اور خصوصیت اس کا ہاضم ہونا ہے۔ سو اگر آپ ہڈیوں کی بوسیدگی) یا کمزوری کا شکار ہیں تو اسے باقاعدگی سے کھائیے۔ کھانا جلد ہضم کرنے کی اضافی خوبی بھی تندرستی بخشے گی۔



پالک آئرن کا خزانہ


انسان زیادہ کھانا کھانے لگے یا بڑھاپے میں قدم رکھے تو اس کے عضلات ڈھیلے ہو کر لٹک جاتے ہیں۔ اس خرابی پر پالک کھا کر قابو پائیے۔ وجہ یہ کہ یہ سبزی میگنیشم کا خزانہ ہے۔ چناںچہ صرف ایک پلیٹ پالک کھانے سے انسان کو میگنیشم کی روزانہ ضرورت کا 85فیصد حصہ مل جاتا ہے۔ میگنیشم انسانی جسم میں عضلات اور نسوں کی ہیئت معمول پر رکھتا ہے۔ نیز بلڈپریشر اور خون میں شکر کی سطح بھی متوازن کرتا ہے۔ یاد رہے! پالک پکا کر کھائیے، تبھی میگنیشم جسم میں جذب ہوتا ہے، ابال کر کھانے سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔



سیب کھائیے کولیسٹرول بھگائیے


بچوں بڑوں کا یہ من پسند پھل پیکٹن نامی حل پذیر  ریشہ رکھتا ہے۔ یہ ریشہ خون کی نالیوں میں کولیسٹرول نہیں جمنے دیتا اور یوں ہمیں امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے۔ نیز خلیوں کی دیواروں کو ’’سیمنٹ‘‘ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مضبوط رہیں۔ پیکٹن کی ایک اور خوبی ہاضمہ بخش ہونا ہے۔ نیز یہ جام جیلی کی تیاری میں بھی مستعمل ہے۔ یہ حل پذیر ریشہ سب سے زیادہ سیب میں ملتا ہے۔ مگر اسے حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سیب چھلکوں سمیت کھایا جائے۔ بیشتر پیکٹن اور دیگر صحت بخش اجزا انہی چھلکوں میں ملتے ہیں۔



پھلیاں فولاد کا خزانہ


بعض اوقات انسان کو روزمرہ کام کاج کے دوران تھکن اور سستی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ دراصل اس امر کی نشانی ہے کہ جسم میں فولاد کی کمی جنم لے چکی۔ یہ ایک اہم معدن ہے جو آکسیجن کو خون کے خلیوں سے باندھتا ہے۔ اگر انسانی بدن میں فولاد کی کمی ہو، انسان ارتکاز توجہ کھو بیٹھتا ہے۔ اس پر تھکن طاری رہتی ہے اور وہ اپنا درجہ حرارت منضبط نہیں کر پاتا۔ یہ معدن گوشت میں زیادہ ملتا ہے۔ تاہم گوشت نہ کھانے والے پھلیوں  سے اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ چنوں میں بھی وافر فولاد ملتا ہے۔



پیاز اور معدہ کا السر


دماغ، دل، جگر، گردے اور شکم (یا پیٹ) ہمارے بدن کے پانچ اہم ترین اعضا ہیں۔ سو ان میں کوئی خرابی جنم لے، تو انسان پریشانی و گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ امراض شکم دور کرنے میں پیاز مفید سبزی ثابت ہوئی ہے۔


دراصل ہمارے پیٹ میں رہائش پذیر ایک جرثومہ ’’بیکٹریکا ایچ پائیلوری‘‘ السر، سوزش معدہ اور شکمی سرطان پیدا کرتا ہے۔ مگر پیاز کا باقاعدہ استعمال جرثومے کی افزائش روکتا اور اسے درج بالا بیماریاں پیدا نہیں کرنے دیتا۔
یہ یاد رہے ! لہسن اور چائے بھی بیکٹریکا ایچ پائیلوری کا راستہ روکتے ہیں۔ تاہم پیاز اور لہسن کو تیل میں تلا جائے تو وہ جرثومے کو روکنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔

anardana benefitsاناردانہ کے قہوہ کا فوائد

anardanaاناردانہ benefits


You may never have eaten a pomegranate, but if you’ve had a cocktail containing grenadine  then you’ll have an idea of what they taste like; sour-sweet.
We use the seeds anardanaاناردانہ  in our pakora and chutneys (these are more like thick sauces, than what we call chutney in English-see recipe below) and sometimes cooked in vegetable dishes. Fresh seeds are used to garnish sweet dishes in many cuisines, including Turkish and Greek. The anardanaاناردانہ  juice is refreshing, and here you can buy cordial of pomegranate to dilute.anardanaاناردانہ very refreshing on swelteringly hot days. Theanardanaاناردانہ are usually dried, but if you soak them in water for 15 mins and then crush them they add a piquant flavour to a dish. Try the recipe below.

anardanaاناردانہ کے قہوہ کا فوائد


اللہ تعلیٰ انسان کے لیئے ایسی بیش بہا نعمتیں پیدا کی ہیں جس سے انسان اگر فائدہ اٹھائے تو کسی دوا


کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایک


 گلاس  تازہ انار کا جوس روزانہ خالی پیٹ پی لیں، یا خشک اناردانے کا قہوہ روزانہ صبح خالی پیٹ پی


لیں۔ یہ بھی آپ کے بلڈ


پریشر کو کنٹرول کرے گا، اور بند شریانیں کھولنے میں بھی مدد گار ہوگا۔


anardanaاناردانہ کی چٹنی کےفوائد


سبز پودینہ‘ ادرک یا سونٹھ سبز‘ اناردانہ ہم ملا کر سل وٹے یا گرائینڈر میں خوب رگڑیں


جتنا زیادہ رگڑیں


گے اتنا زیادہ مفید و موثر


ہوگا بعض لوگ اس میں ہم دیسی لہسن بھی ملا دیتے ہیں لیکن میں عموماً یہی 3 اجزاءاستعمال کراتا ہوں


اس میں مزید کوئی نمک


مرچ نہ ڈالیں اکٹھی بھی بنا کر فریج میں رکھ سکتے ہیں روزانہ ڈیڑھ  سے ایک چھوٹا  دن میں تین سے


پانچ بار کھانے کے علاوہ


یا کھانے کے ہمراہ جیسے دل چاہے استعمال کریں۔


پرانی بیماریوں میں مستقل استعمال کریں اور اگر مزید کوئی اور دوائی استعمال کررہے ہیں تو اسے فوراً نہ


چھوڑیں۔ اگر اجزاءتازہ نہ


ملیں تو مجبوراً خشک بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

akhroot ky faiday اخروٹ کے فوائد

          akhroot ky faiday  اخروٹ کے فوائد               


 WALNUT   :    اخروٹ


       مختلف نام:۔   


(عربی)  جوز (فارسی) گردگان (بنگالی)آکروٹ (گجراتی ) آکھوڈ (مرہٹی) آکروڈ(سندھی) اکھروٹ (انگریزی)  


WALNUT


ماھیت:-  ایک بڑے اونچے پھاڑی درخت کا مشھور پھل ہے ۔ پھل گول ان کے اوپر سبز چھال ھوتی ہے۔ اس لیے چھیل ڈالنے سے اندر سے سخت گٹھلی نکلتی ہے۔ جسے اخروٹ کھتے ہیں۔ چھلکا سخت اور کھردرا اس میں روغن اور پروٹین کی مقدار بھت زیادہ ہوتی ہے۔


رنگ:-  سفیدی مائل بھورا مغز سفید


ذائقہ:-   پھیکا مگر لذیذ اور مرغن


مزاج :۔  مزاج گرم دوسرے درجے میں خشک تیسر ے درجے میں


مصلح  :- تر شیاں


مقدار استمال:- دو تولہ تا تین تولہ


افعال و استمال:- لطیف ملین مبہی اور  محلل ھے بد ہضمی کو دفع کرتا ہے۔ ردی مادہ کو تحلیل کر تا ہے باہ زیادہ کرتا ہے مغزاخروٹ کو زیادہ تر مقوی باہ معجونات میں شامل کرکے استعمال کرتے ہی بھنا ھوا مغز سرد کھانسی کو مفید ہے۔ بھلانوہ کا مصلح ہے۔ ہمراہ آب مورد کے خون بواسیر کو روکنے میں مجرب ھے ۔ سر مہ اس کا کھجلی ، آنکھ سو پانی بہنے اور سیل کو مفید ہے۔ اگر چبا کر داد پر لگایا جائے تو داد کانشان مٹ جاتا ہے۔ مغز اخروٹ کو پانی میں پیس کر ضماد کرنا چوٹ کے نشان کو بھی مٹا دیتا ہے۔ اس کا تیل بیرونی ہو رپر ایگزیما بھی لگاتے ھیں۔ سبز پوست اخروٹ دانتوں پر ملنا مسوڑوں اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے۔


مقام پیدائش :-  کو ہ مری اور بلوچستان کا پہاڑی علاقہ، ایران ، افغانستان اور کوہ ہمالیہ پر کشمیر سو منی پور تک پھاڑی علاقے میں بکثرت پیدا ہوتا ہے


                       


 

آلو بخارا کے فوائد





آلو بخارا کے فوائد


آلو بخارا کا مزاج سرد تر ہے اور جسم سے صفراوی مواد خارج کرتا ہے پاکستان کے بیشتر علاقوں میں پایا جاتا ہے اسکے فوائد درج زیل ہیں۔









(1) آلو بخارا طبیعت کو نرم کرتا ہے۔


(2) پیاس کو تسکین دیتا ہے۔


(3) خون کے جوش کو کم کرتا ہے۔ اسلئے بلڈپریشر کے مریضوں کو مفید ہے۔


(4) آلو بخارا مسکن صفراءاور ملین ہوتا ہے۔


(5) متلی میں آلو بخارے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے۔


(6) گرمی کے سر درد میں آلو بخارے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔


(7)زخموں کو جلدی ٹھیک کرتا ہے۔


(8) اگر آلو بخارے کے پتے رگڑ کر ناف کے نیچے لیپ کیا جائے تو آنتوں کے کیڑے خارج ہو جاتے ہیں۔


(9) نزلے کو روکنے کےلئے آلو بخارے کے پتوں کا جو شاندہ بنا کر غرارے کرنا مفید ہوتا ہے۔


(10) آلو بخارے کا مربہ فرحت بخش اور قبض کشا ہوتا ہے۔


(11 ) خشک آلو بخارا رات کو بھگو صبح نہار منہ صرف پانی چھان کر پینا احتلام کےلئے مفید ہوتا ہے۔ اگر اس میں ایک چمچہ چائے والا سونف کے سفوف کا اضافہ کرلیا جائے تو دگنا فائدہ دیتا ہے۔


(12) رات کو سوتے وقت اگر آلو بخارے کے دس دانے کھائے جائیں تو صبح کو اجابت صحیح ہوتی ہے


(13) خارش کو دور کرنے کےلئے آلو بخارے کا مسلسل استعمال بے حد مفید ہوتا ہے


(14) کھانسی میں اس کا استعما ل نقصان دہ نہیں ہوتا۔


(15) منہ اور حلق کی خشکی کو دور کرتا ہے۔


(16) آلو بخارے میں وٹامن اے ، بی ، پی اور سی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔


(17) دماغی کام کرنے والوں کےلئے یہ بہترین غذا ہے۔


(18) پاﺅں کی جلن کو دور کرتا ہے۔
(19) چڑ چڑے مزاج والوں کےلئے یہ بہترین پھل ہے جس سے یہ مرض دور ہو جاتی ہے۔


(20) نیند کی کمی کی مرض میں آلو بخارے کا استعمال بہترین ہوتا ہے۔


(21) یرقان جیسے موذی مرض میں ایک پاﺅ آلو بخارا، زیرہ سفید اور گوکھرو (پھکڑا)ہم وزن کا سفوف بنا کر دو ماشے سفوف ہمراہ مذکورہ بالا آلو بخارا دن میں تین دفعہ استعمال کرنا بے حد مفید ہوتا ہے۔


(22) جلدی بیماریوں میںآلو بخارا کے استعمال کے ساتھ ساتھ ایک دفعہ شربت عناب روزانہ پینا مفید ہوتا ہے۔


(23 ) پتے کی پتھری بننے سے روکنے کےلئے آلو بخارے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے۔ اس سے بعض دفعہ بنی ہوئی پتھریاں پگھل کر پتے سے نکل جاتی ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آلو بخارے کا روزانہ استعمال اس کے موسم میں معمول بنا لیا جائے۔ اگر موسم نہ بھی ہوتو خشک کو بھگو کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔


(24) آلو بخارے کی چٹنی بھی بے حد مفید ہوتی ہے جو کہ ہاضم غذا اور لذیذ ہوتی ہے، اس چٹنی کے بنانے کی ترکیب کچھ یوں ہے۔ آلو بخارا خشک نصف کلو، چینی ایک کلو، رس لیموں ایک پاﺅ، کشمش ایک پاﺅ، چھوہارے ایک پاﺅ، پودینہ نصف کلو، بڑی الائچی پانچ دانے، گری بادام، چھوٹی الائچی ، کالی مرچ، ادرک ، ،لال مرچ اور نمک ہر ایک پانچ تولے۔رات کو آلو بخارا دھو کر بھگو دیں صبح اچھی طرح سے مسل کر پیس لیں۔ ادرک اور پودینہ بھی رگڑ کر چٹنی بنا لیں اور آلو بخارے کو چٹنی کے ہمراہ ابال لیں۔ کشمش اور چھوہارے بھی کترے ہوئے اس میں ڈال دیں، تین چار ابالے دے کر نیچے اتار کر تمام اشیا ءاس میں ملا دیں، بس چٹنی تیار ہے۔


(25) آلو بخارے کا شربت بھی تیار کیا جاتا ہے، جو خشک آلو بخارے ،عرق گلاب اور چینی سے تیار ہوتا ہے۔ قبض ، گرمی ، خارش اور جوش خون کے لئے مفید ہوتا ہے، اسکے علاوہ یرقان، غلبہ پیاس اور درد سر میں بھی فائدہ دیتا ہے۔ (26)آلو بخارے کا رس ایک تولہ گرم کر کے پینا گلے کے ورم اور قے کے لئے مفید ہوتا ہے۔


(27)صفراءکو خارج کرنے کےلئے پندرہ دانے آلو بخارا کے لیں اور رات کو بھگو کر صبح مل چھان کر چینی ملا کر چند روز تک پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔


(28) اگر گردوں میں تکلیف ہو اور پیشاب رک رک کر آتا ہو تو آلو بخارے کا استعمال اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔


(29) خون کے کینسر میں آلو بخارے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے اور ابتدائی کینسر اس سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کےلئے ترش آلو بخارا استعمال کرنا چائیے۔


(30) ذیابیطس (شوگر) کے مریض بھی ترش آلو بخارا استعمال کر کے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں


(31) آلوبخارا بینائی کو طاقت دیتا ہے اور گردہ ومثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے۔


(32) بھوک کی کمی، دماغی خشکی، اپھارہ اوردرد معدہ میں آلو بخارے کے سات دانے ہمراہ املی تین تولہ، رات کو پانی یا عرق سونف میں بھگو دیں صبح اچھی طرح مسل کر چھان کر نمک ملا کر تین دن استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔


(33)پتے میں کنکریاں ہونے کی صورت میں آلو بخارے کے مسلسل استعمال کے ساتھ ساتھ دن میں دو یا تین مرتبہ عرق کاسنی اور عرق کلو دس تولے روزانہ پینا بے حد مفید ہوتا ہے۔ چند روز کے استعمال (تین ہفتے) میں مکمل صحت ہو جاتی ہے، آلو بخارے خشک بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔
آلو بخارے کا استعمال سرد مزاج والے اور اعصابی دردوں والے حضرات بالکل نہ کریں، اسی طرح جنہیں پیچش کی شکایت ہو وہ بھی استعمال نہ کریں



خربوزہ کے فوائد

خربوزہ کےفوائد


خربوزہ پاکستان۔ انڈیا۔ایران اوردنیا کے کئی ممالک میں پایا جاتا ہے ۔مختلف علاقوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس کی اقسام مختلف ہیں لیکن اس کی افادیت کم و بیش ہر قسم میں ایک جیسی ہیں۔ تربوز کی طرح یہ بھی پانی کا وافر جزو رکھنے والا پھل ہے۔ جس کا چھلکا، گودا اور بیج غذائی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ خربوزہ ریتیلے علاقے اور خصوصاً دریا کے کناروں پہ خوب پھلتا پھولتا ہے۔


خربوزے کا ذائقہ، رنگ، شکل و صورت، وزن، گودا، چھلکا، بیج اور پانی کا جزو مختلف اور اس علاقے پر منحضر ہوتا ہے جہاں خربوزہ پیدا ہوتا ہے۔ خربوزے کی سب سے اچھی، مقبول اور خوش ذائقہ قسم میں چھلکا نرم، باہر سے زرد اور اندر سے سفید یا زعفران کے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کے بیج بھی نرم ہوتے ہیں۔ کچھ علاقوں میں لمبوترے خربوزے پائے جاتے ہیں۔ ان میں پانی اور گودا خوب اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔



فوائد


عمدہ خربوزہ ذائقہ میں میٹھا، تاثیر میں سرد، بلغم، صفرا اور ہوا کو قابو میں رکھنے والا، پیشاب آوَر، مصفی بدن، قبض کھولنے والا، خون بنانے والا اور جسم کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھنے والا پھل ہے۔ اس کا استعمال ریاح کو دور کرتا ہے۔ اجابت باقاعدہ بناتا ہے اور پیٹ کے کیڑے خارج کرتا ہے۔ خربوزے کا چھلکا سائے میں خشک کرکے اسے ابال کر جوشاندہ پئیں تو پتھریاں تحلیل ہوجاتی ہیں۔ پیشاب کی تکلیف دور ہوجاتی ہے اور آنتیں صاف ہوجاتی ہیں۔ اس کا بیج خشک کر کے مغز حاصل کرتے ہیں جو متعدد پکوانوں اور مقویات میں استعمال ہوتا ہے۔ خربوزے کا مغز دل و دماغ کے لیے تقویت کا باعث اور یاد داشت تیز کرنے کا سبب بنتا ہے۔ خربوزہ ہمیشہ کھانا کھانے کے ایک گھنٹہ بعد استعمال کرنا چاہیے۔  اس کی معتدل مقدار ہی سود مند ہوتی ہے۔ اضافی مقدار کا استعمال صفرا کی زیادتی کا سبب بنتی ہے۔ بھوک ختم یا بے قاعدہ کردیتی ہے۔ زیادہ مقدار میں خربوزہ کھانے سے پیٹ میں گیس، صفرا اور بخار کی شکایت لاحق ہوجاتی ہے۔ خربوزہ کھانے کے بعد دودھ نہیں پینا چاہیے۔ دودھ کی بجائے چینی کا شربت استعمال کرنا اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ جس طرح آم کھانے کے بعد دودھ کی لسی پینا مفید ہوتا ہے، اسی طرح خربوزے کے بعد شربت پینا نافع ہوتا ہے۔ اعتدال کے ساتھ خربوزے کا استعمال جگر اور اس کی کارکردگی پر اچھا اثر ڈالتا ہے لیکن زیادہ مقدار جگر کو ہی نقصان پہنچاتی ہے۔ مناسب مقدار میں خربوزہ کھانے والے افراد جگر کی خرابی اور یرقان سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کی قوت ہاضمہ بڑھتی ہے، بھوک چمک اٹھتی ہے اور کمزوری کا تدارک ہوتا ہے۔ خوب پکے ہوئے خربوزے کی طرح اس کا جوس بھی موثر اور مفید ہوتا ہے۔ اس کا گودا اتنا رس بھرا ہوتا ہے کہ زیادہ چبانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ خربوزہ ہر عمر کے فرد کے لیے مفید اور مناسب ہے لیکن شرط یہی ہے کہ معتدل مقدار میں کھایا جائے اور کبھی خالی پیٹ نہ استعمال کیا جائے۔


 

زیتون کے فوائد

زیتون کے فوائد
بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ 
قسم الله سبحانه وتعالى بالتين والزيتون
حضرت اسیدالانصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، زیتون کے تیل کو کھاؤ اور اس سے جسم کی مالش کرو کہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “زیتون کا تیل کھاؤاور اسے لگاؤ کیونکہ یہ پاک اور مبارک ہے۔“ (ابن ماجہ۔ حاکم)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ذات الجنب کا علاج قسبط البحری اور زیتون کے تیل سے کریں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ “زیتون کا
تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفا ہے جن میں ایک کوڑھ بھی ہے۔“

زیتون کا درخت تین میٹر کے قریب اونچا ہوتا ہے۔ چمکدار پتوں کے علاوہ اس میں بیر کی شکل کا ایک پھل لگتا ہے جس کا رنگ اودا اور جامنی ذائقہ بظاہر کسیلا اور چمکدار ہوتا ہے۔ مفسرین کی تحقیقات کے مطابق زیتون کا درخت تاریخ کا قدیم ترین پودا ہے۔ طوفان نوح کے اختتام پر پانی اترنے کے بعد زمین پر سب سے پہلی چیز نمایاں ہوئی، وہ زیتون کا درخت تھا۔ اس پس منظر کیبدولت زیتون کا درخت سیاست میں امن اور سلامتی کا نشان بن گیا ہے۔
زیتون کا پھل غذائیت سے بھرپور ہے مگر اپنے ذائقہ کی وجہ سے پھل کی صورت میں زیادہ مقبول نہیں۔ اس کے باوجود مشرق و سطٰی، اٹلی، یونان اور ترکی میں بہت لوگ یہ پھل خالص صورت میں اور یورپ میں اس کا اچار بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ یونان سے زیتون کا اچار سرکہ میں آتا ہے اور مغربی ممالک میں بڑی مقبولیت رکھتا ہے۔ یہ درخت یورپی ممالک، اٹلی، کیلیفورنیا اور آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک سے درآمد ہوتا ہے۔
قرآن مجید نے زیتون اور اس کے تیل کا بار بار ذکر کرکے شہرت دوام عطا کر دی ہے۔
سورہ الانعام، سورہ النحل، سورہ النور، سورہ المومنون، سورہ التین، ان سورتوں میں اللہ تعالٰی نے زیتون کے درخت کو ایک مبارک یعنی برکت والا درخت قرار دیا۔ اس کے پھل کو اہمیت عطا فرمائی۔ پھر لوگوں کو متوجہ کیا کہ زیتون، کھجور، انار اور انگور میں فوائد کے خزانے بھرے پڑے ہیں۔ بشرطیکہ تم ان کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرو۔


زیتون ایک درخت ہے جس کا پھل زیتونہ کہلاتا ہے اُس پھل سے جو تیل حاصل کیا جاتا ہے اُسے روغنِ زیتون کہا جاتا ہے۔زیتون اور روغنِ زیتون کے بےشمار خواص اور فوائد ہیں۔
زیتون اور روغنِ زیتون کے بارے میں کئی احادیث میں بھی ذکر ہے اور بعض حوالوں سے اسے ستر بیماریوں کے لئے شافی قرار دیا گیا ہے۔
روغنِ زیتون سب سے زیادہ پیٹ کے امراض کے لئے مفید اور شافی ہوتا ہے۔یہ بدن کو گرم کرتا ہے،پتھری کو توڑ کر نکالتا ہے اور قبض کشا بھی ہے۔
معدے کے افعال کو درست کرکے روغنِ زیتون بھوک کو بڑھاتا ہے اور آنتوں میں پڑے ہوئے سدے بھی کھول دیتا ہے۔پتے کی پتھری بھی روغنِ زیتون کے استعمال سے ٹوٹ کر خارج ہوجاتی ہے۔
زیتون کا تیل اگر تھوڑی مقدار میں دودھ کے ساتھ ملا کر پیئیں تو اس سے بتدریج السر سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے اور معدے کی تیزابیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
دائمی اور پرانے قبض کو ختم کرنے کے لئے ایک تولہ روغنِ زیتون کو جو کے گرم پانی میں ڈال کر پیئیں تو دو تین دن کے اندر قبض سے نجات مل جاتی ہے۔
پیٹ کے اندر اگر فاسد مادے پیدا ہو چکے ہوں یا پیٹ میں کوئی زہریلی شئے چلی جائے تو اُس کا ا‌ثر زائل کرنے کی خاطر زیتون کا تیل ہی سب سے موثر اور اکسیر تریاق ہوگا۔
زیتون کے تیل کو کسی نہ کسی صورت میں جو لوگ کھاتے رہتے ہیں وہ کبھی آنتوں اور پیٹ کے سرطان کا شکار نہیں ہوسکتے۔
تپِ دق جیسے موذی مرض کا علاج بھی بذریعہ روغنِ زیتون شافی انداز میں کیا جاسکتا ہے۔اس مقصد کے لئے ہر روز تین اونس روغنِ زیتون براہِ راست یا دودھ میں ملا کر پینا ضروری ہوتا ہے۔یہ عمل تقریباً دو ماہ تک جاری رکھیں تو اس مرض سے مستقل طور پر نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کو دمہ کے مرض سے بچنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے لئے شہد اور زیتون کے تیل کو برابر وزن کے ساتھ گرم پانی میں ملا کر پینا چاہیے ۔مستقل استعمال سے دمہ ختم ہو جاتا ہے ۔نزلہ زکام اور کھانسی بھی مستقل طور پر ختم ہوجاتے ہیں۔
زیتون کا تیل پسینہ خارج کرنے کا موجب بنتا ہے۔جسمانی اعضاء کو قوت اور توانائی بخشتا ہے۔
زیتون کے تیل کو جلد کی متعدد بیماریوں کے علاج کے لئے مجرد حالت میں یا مرہم میں شامل کرکے اکسیر بنایا جا سکتا ہے۔یہ جلد کے تمام بیرونی عوارض میں مفید ہوتا ہے۔آگ کے جلنے سے بنے ہوئے زخموں ،پھوڑے پُھنسیوں داد اور عام زخم کے علاج کے لئے بھی زیتون کا تیل لگانا فائدہ مند ہوتا ہے۔زیتون کی مسلسل مالش سے چیچک اور زخم کے داغ دھبے ختم ہوجاتے ہیں۔
آنکھوں کی کئی بیماریوں اور سرخی و سوزش ختم کرنے کے لئے سلائی سے زیتون کا تیل آنکھ میں لگائیں تو افاقہ ہوتا ہے۔
بالوں کو گرنے سے بچانے کے لئے سفید ہونے سے روکنے کی خاطر ہر روز بالوں میں زیتون کا تیل لگانا سب سے بڑا اور موثر نسخہ ہے۔
زیتون کے تیل کی باقاعدہ مالش کرنے سے جوڑوں کا درد اور لنگڑی کا درد ( عرق النساء ) بھی بدستور ختم ہوجاتا ہے۔
خواتین اپنے ہاتھوں ،بازوؤں اور چہرے کو نکھارنے کے لئے اور گداز رکھنے کی خاطر زیتون کے تیل کی مالش کو معمول بنا لیں تو یہ جلد کے لئے نہایت مفید ہوتا ہے۔
بچھو ،شہد کی مکھی یا بِھڑ وغیرہ کے کاٹے پر روغنِ زیتون ملنے سے جلد ہی زہر کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور درد سے نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کا موسمِ سرما میں استعمال کرنے سے بالوں سے خشکی سکری دور ہوجاتی ہے۔
جو لوگ زیتون کے تیل میں کھانا بناتے ہیں وہ لاتعداد عوارض اور بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔
حکماء کا کہنا ہے کہ روغنِ زیتون میں خرگوش کو گوشت پکا کر کھانے سے عورتوں میں بانجھ پن ختم ہوسکتا ہے۔
کلونجی کو بھون کر زیتون کے تیل میں پیس کر مرہم بنا کر اگر پرانی خارش یا فِنگس پر لگائیں تو اس سے چند دنوں میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔


جسم پر مالش کے اثرات اور فوائد
زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے اعضاء کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ پھٹوں کا درد جاتا رہتا ہے۔ بعض طبیب اس کی مالش کو مرگی کے لئے بھی مفید قرار دیتے ہیں۔ وجع المفاصل اور عرق النساء کو دور کرتا ہے۔ چہرے کو بشاشت دیتا ہے۔ اسے مرہم میں شامل کرنے سے زخم بہت جلد بھرتے ہیں۔ ناسور کو مندمل کرنے میں کوئی دوائی زیتون سے بہتر نہیں۔
زیتون کے تیل سے قبض کا علاج
اکیس تولہ جو کے پانی میں روغن زیتون ملا کر پینے سے پرانی قبض جاتی رہے۔ تیل پینے سے معدہ اور آنتوں کے اکثر امراض جاتے رہتے ہیں۔ پیٹ کے کیڑے مارتا ہے۔ گردہ کی پتھری توڑ کر نکال سکتا ہے۔ استسقاء میں بھی مفید ہے۔ جسمانی کمزوری کو رفع کرتا اور پیشاب آور ہے۔
پتہ کی سوزش اور پتھری کا علاج
اطباء نے اسے مرارہ (پتہ) کی پتھری میں مفید قرار دیا ہے۔ پتہ کی سوزش اور پتھری کے مریضوں کو بنیادی طور پر چکنائی سے پرہیز کرایا جاتا ہے مگر روغن زیتون ان کے لئے بھی مفید ہے بلکہ پرانے اطباء نے مریضوں کو 2/1 1 پاؤ تک مریضوں کو روزانہ تیل پلا کر صفراوی نالیوں سے سرے نکالنے کا کام لیا ہے۔ بعض اوقات اسی عمل کے دوران پتھریاں بھی نکل جاتی ہیں۔
امراض تنفس اور زیتون کا تیل
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ذات الجنب میں زیتون کا تیل ارشاد فرمایا۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر سانس کی ہر بیماری کے مبتلا کو زیتون کا تیل ضرور دیا گیا۔ دمہ کے مریضوں کی بیماری میں جب کمی آ جائے تو آئندہ اس قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے زیتون کے تیل سے بہتر دوا میسر نہ آ سکی۔
انفلوئنز اور زکام والوں کو باقاعدہ زیتون کا تیل پینے سے نہ ہی ان کو زکام لگتا ہے اور نہ ہی نمونیا ہوتا ہے۔ اگر ان کو کبھی انفلوئنزا ہو بھی جائے تو ان کا حملہ بڑا معمولی ہوتا ہے۔ زکام اور دمہ کے دوران اضافی فائدے کے لئے ابلے ہوئے پانی میں شہد بھی مفید ہے۔ (طب نبوی اور جدید سائنس)
زیتون کے تیل کے فوائد ایک نظر میں
 زیتون کا تیل زیادہ تر قروح معدہ میں 10 گرام پلاتے ہیں۔ خصوصاً سوتے وقت دودھ کے ساتھ ۔
 درد گردہ اور پتہ کی پتھری میں بےحد فائدہ بخش ہے۔
 حکماء کا قول ہے کہ زیتون سنگ مثانہ کو گلاتا، بلغم کو دور کرتا، پٹھوں کو مضبوط کرتا، تھکن کو دور کرتا اور منہ میں خوشبو پیدا کرتا ہے۔
 یہ نیک لوگوں کی غذا اور سر کا تیل بھی ہے۔
 یہ دونس 50 گرام کی مقدار میں ملین ہے جو متورم بواسیر، قروح معدہ، خونی بواسیر اور قبض میں ایک مفید دوا ہے۔
 تیل مقوی ہے اور امراض جلد میں شفا ہے۔
 پیٹ کی بیماریوں میں مفید ہے۔ تیل پرانا بھی ہو جائے تو مفید رہتا ہے۔
 آنکھ میں لگانے سے آنکھ کی سرخی کٹ جاتی ہے۔
 موتیا کو کم کرنے میں مفید ہے۔
 زہر خوانی میں اس کا تیل دودھ میں ملا کر پلانے سے آرام ہو جاتا ہے اور اجن بچ سکتی ہے۔
 اس کے تیل کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر چیونٹیاں نہیں آتیں اور جب اسے دئیے میں جلایا جائے تو یہ دیگر تیلیوں کی طرح دھواں نہیں دیتا۔
 دست آور ہے، آنتوں کے کیڑوں کو نکالتا ہے۔
 جلد میں نرمی اور ملائمت پیدا کرتا ہے۔
 بالوں کی سفیدی کو روکتا ہے۔
 ایگزیما اور چنبل میں قسط، سناہم وزن پیس کر روغن زیتون کا چار گنا میں پکا کر لگانا مفید ہے۔
مسوڑھوں کا مضبوط بناتا ہے۔
 زیتون کا نمکین پانی آتش زدہ مقام پر آبلے نہیں آنے دیتا۔
 فالج اور اوجاع مفاصل میں بطور مالس استعمال سے فائدہ ہوتا ہے۔
 چنبل جیسے جلدی امراض، جلے ہوئے حصوں پر اور زخموں پر لگانے اور سخت جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
 رکٹس اور بچوں کے دق میں مالش سے کافی فائدہ ہوتا ہے۔
 بلا تکلیف صفراوی پتھریوں کو توڑتا ہے۔ کولیسٹرول جو صفراوی پتھریوں کا جزو اعظم ہے، اس کو روغن زیتون جسمانی حرارت 5۔98 پر تحلیل کرتا ہے اور چند دنوں میں پتے کی پتھری ایک ایسے رفیق محلول میں تبدیل ہو جاتی ہے جو اپنے مقررہ راستوں سے بآسانی گزر جاتی ہے۔ اس لئے درد جگر کے دورے ختم یو جاتے ہیں۔
غرضکیہ زیتون کے روغن میں پکے ہوئے پکوان ،اچار یا مٹھائیاں ذائقے میں منفرد ہوتی ہے اور معدے پر گراں نہیں گزرتی، زیتون کا تیل صحت اور تندرستی پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور معدے کی فعالیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔


انجیر کے فائدے


 Fixcus Carica  انجیر کے فائدے


مختلف نام


 انجیر کو بنگالی میں آنجیر، عربی میں تین،   یمنی میں بلس، سنسکرت، ہندی، مرہٹی، گجراتی میں


پھگوڑی انجیراور پنجابی میں ہنجیر کہتےہیں اس کا نباتاتی نام فیکس کیریکا ہے۔




قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے انجیر کی قسم یاد فرمائی ہے کہ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طور سینا کی (سورۂ والتین)


عام پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہے اور پکنے کے بعد خودبخود ہی گر جاتا ہے اور دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن


نہیں ہوتا۔ فریج میں رکھنے سے یہ شام تک پھٹ جاتا ہے۔ اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے۔ اسے خشک


کرنے کے دوران جراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ


سوکھنے کے بعد نرم و ملائم رہے۔انجیر کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لئے نعمت بیش بہا


ہے۔ انجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے۔ چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطا کرتا ہے۔ انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں


ہوتا ہے۔



 Fixcus Carica  انجیر کے فائدے


انجیر کے اندر پروٹین، معدنی اجزائ، شnews-1405450314-9271کر کیلشیم، فاسفورس پائے جاتے ہیں۔ دونوں انجیر


یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ وٹامن بی اور ڈی قلیل


مقدار میں ہوتے ہیں۔ ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے


اس لئے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا۔


انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہے۔ اس لئے ہر عمر کے لوگوں میں اسے پسند کیا جاتا ہے۔


عرب ممالک میں خاص طور پر اسے پسند کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی بکثرت دستیاب ہے


اور اسے ڈوری میں ہار کی شکل میں پروکر مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر مشرقی


وسطیٰ اور ایشیائے کوچک کا پھل ہے۔ اگرچہ یہ برصغیر پاک و ہندمیں بھی پایہ جاتا ہے۔ مگر اس علاقے میں مسلمانوں کی آمد سے


پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا۔ اس لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کوچک سے منگول اور


مغل اسے یہاں لائے۔



 Fixcus Carica  انجیر کے فائدے


انجیر کھانسی،بلغم،گلے کی خراش اور آنتوں کی کئی بیماریوں کو بھی دور کرتی ہے۔


انجیر دماغی امراض سے بچاتی ہے ۔مزاج اور طبعیت میں نرمی پیدا کرتی ہے۔دل کو فرحت بخشتی اور قلب و جگر کو بجا طور پر ق


وت دیتی ہے۔


انجیر میں ایسے غذائی اجزاء شامل ہیں کہ جو نظامِ انہظام کو قوت بخشتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ صحت پر خوشگوار اثرات


مرتب کرکے موٹاپا لانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔


اگر کسی کی تلی خراب ہو گئی ہو یا تلی پر ورم آ گیا ہو تو ایسی صورت میں چاہیے کہ وہ پانچ یا چھ انجیر ہر روز سرکہ میں بھگو


کر کھائے اس طرح چند روز میں فائدہ ہوگا۔اسی طرح اگر انجیر کے ساتھ بادام یا پستہ بھی کھائیں تو یہ بھی تلی کا ورم ختم کرنے


میں مفید ثابت ہوتا ہے۔


انجیر اگر ہر روز کسی ایک خاص وقت پر کھانے کا معمول بنا لیا جائے تو اس سے فالج جیسے مرض سے بھی نجات مل جاتی ہے ۔


انجیر کو اخروٹ کی گری کے ساتھ کھانے سے بھی فالج ہونے کا خطرہ نہیں رہتا۔


پھوڑے پُھنسیوں اور کینسر جیسے مرض کے علاج کے لئے بھی انجیر کا باقاعدہ کھاتے رہنا اکسیر اور مفید ہوتا ہے۔اگر انجیر اور


دودھ کو ملا کے پیس کر لئی سی بنا کر پھوڑوں اور پُھنسیوں پر لیپ کیا جائے تو وہ جلد پک کر بہہ نکلتے ہیں۔


گردہ ،مثانہ یا پتے میں اگر پتھری ہو اور اکثر درد کا باعث ہوتی ہو تو اس کے لئے بھی انجیر مفید ثابت ہوتی ہے۔اس کے لئے ہر


روز صبح نہار منہ پانچ یا چھ انجیر کلونجی یا کلونجی کے تیل کے ساتھ کھائیں تو پتھری نکل جاتی ہے ( کھانے سے پہلے طبیب


سے مشورہ کرلیں ) انجیر ہر طرح کے پتھروں کو گھول کر کمزور اور کم کرنے کا کام بھی کرتی ہے۔


انجیر کا مسلسل استعمال خون کا گاڑھا پن ختم کرتا ہے ۔نالیوں میں خون کے انجماد کو روکتا ہے اور جسم کی بےجا چربی کو بھی کم


کرتا ہے۔اس حوالے سے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے انجیر ایک شافی دوا ہے۔


انجیر آنتوں کی صفائی کرنے کا فعل بھی سر انجام دیتی ہے اور معدے و آنتوں کی کئی ضرر رساں بیماریوں کو بتدریج ختم کرتی ہے۔


انجیر کو بطور میوہ بھی کھایا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جسم کو فربہ (موٹا) کرتاہے، جلد کو نکھارتا ہے،


قبض کو ختم کرتا ہے، دمہ اور کھانسی میں بلغم کے اخراج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ قابل ہضم ہے اور فضلات کو خارج کرتا ہے۔ مواد کو باہر نکال کر شدت حرارت میں کمی کرتا ہے۔ جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتا ہے۔


ورم تلی کو ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پھوڑوں کو پختہ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔


اگر اس سے مغز اخروٹ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو تقویت قوت باہ کے لئے مفید ہے۔


انجیر کی بہترین قسم سفید ہے۔ یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے۔ زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ حلق


کی سوزش، سینے کا بوجھ اور پھیپھڑوں کی سوجن میں مفید ہے۔ جگر اور تلی کو صاف کرتا ہے۔ بلغم کو پتلا کرکے نکالتا ہے۔


جسم کو بہترین غذا فراہم کرتاہے۔ انجیر کو مغز بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملاکر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ


رکھتا ہے۔ اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتا ہو تو اس کا گودہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہوجاتی


ہے۔ پستانوں کی سوزش میں اس کا استعمال مفید ہے۔ گردہ اور مثانہ کی سوزش کے لئے بھی نہایت مفید ہے۔ اس کو نہار منہ کھانا


بہت سے فوائد کا حامل ہے۔ آنتوں کو محترک کرتاہے۔ پیٹ سے ریح کو خارج کرتا ہے۔ بادام کے ساتھ استعمال کرنے سے پیٹ کی


اکثر تکالیف کا خاتمہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔



کے درج زیل فائدے ہیں Fixcus Carica  انجیر کے فائدے


1۔انجیر کو دودھ میں پکاکر پھوڑوں پر باندھنے سے پھوڑے جلدی پھٹ جاتے ہیں۔


2۔انجیر کو پانی میں بھگو کر رکھیں۔ چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دو بار کھائیں، دائمی قبض دور ہوجاتی ہے۔


3۔ خشک انجیر کو رات بھر پانی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیروں کی طرح پھول جائے گا۔ اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض نہیں پیدا ہوتے۔


4۔ سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیر دی جائے تو ان کی نشوونما کے لئے بے حد مفید ہے۔


5۔ انجیر زود ہضم ہے اور دانتوں کے لئے بہترین ہے۔


6۔کم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے انجیر بہترین تحفہ ہے۔


7۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے کہ انجیر کھانے سے آدمی مرض قولنج سے محفوظ رہتا ہے۔


8۔انجیر کے باقاعدہ استعمال سے بدن فربہ ہوجاتا ہے اور رنگت نکھر آتی ہے۔


9۔کھانے کے بعد چند دانے انجیر کھانے سے غذائیت حاصل ہونے کے علاوہ قبض کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔


10۔کھانسی، دمہ اور بلغم کے لئے بھی مفید ہے۔


11۔انجیر کھانے سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے۔


12۔انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو درازکرتا ہے۔


13۔انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں۔ ایک ہفتہ بعد دو تین انجیر کھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آجاتا ہے۔


14۔انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے رنگت نکھر آتی ہے اور جسم فربہ ہوجاتا ہے۔


15۔تازہ انجیر توڑنے سے جو دودھ نکلتا ہے اس کے دو چار قطرے برص (سفید داغ) پر ملنے سے داغ ختم ہوجاتے ہیں۔


16۔انجیر پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔


17۔جن لوگوں کوپسینہ نہ آتا ہو، ان کے لئے انجیر کا استعمال مفید ہے۔


18۔انجیر خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرکے خون کو صاف کرتا ہے۔


19۔جن لوگوں کو ضعف دماغ (دماغ کی کمزوری) کی شکایت ہو، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں، پھر سات دانے بادام، ایک اخروٹ کا مغز، ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملاکر پی لیں۔


20۔کمر میں درد ہو تو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے  سے درد سے نجات مل جاتی ہے۔


21۔بواسیر کی شکایت ہو تو انجیر کا استعمال نہایت مفید ہے۔ اس کے استعمال سے پرانی سے پرانی بواسیر کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔


22۔میتھی کے بیج اور انجیر کوپانی میں پکا کر شہد میں ملا کر کھانے سے کھانسی کی شدت کم ہوجاتی ہے۔


23۔انجیر تازہ اور نرم لینی چاہئے۔ کالی اور سوکھی انجیر میں بعض اوقات سفید کیڑے نظر آتے ہیں۔ ایسا انجیر بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔



انارسرخ کے فوائد

 انارسرخ


 مختلف نام:۔(عربی)  رمان مرد (فارسی) انار میخوس مشہور عام قندھاری بہتر ہوتا ہے۔   


رنگ:- سُرخ وخوش رنگ اندر اور باہر سے سُرخ


download (4)ذائقہ :۔ چاشنی دار اور خوش مزہ  


مقدر خوراک :- بطور دوا آب انار ۲تولہ ۵ تولہ تک


 مزاج :- سرد تر درجہ پہلا


افعال و استمال :-  تمام افعام و خواص میں انار شیریں سے ملتا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ قوی الاثر ہے۔ صفرادی مزاجوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ اگر اس کا عرق مع پوست کے نچوڑ کر اس میں شکر ملا کر پئیں تو صفرادی خارش اور یرقان کو بے حد مفید ہے۔ ہچکی کو بند اور معدہ کو طاقت دیتا ہے۔ اگر اس کا عرق تانبے کے برتن مین اس قدر جوش دیا جائے کہ گاڑھا ہو جائے تو اس کو آنکھ میں لگانا قوتِ باصرہ کو تقویت دیتا ہے اور نفع بخش ہے۔ اس کا پانی نچوڑ کر شربت اور رُب بنایا جاتا ہے۔  


نوٹ ؛ پوست انار یعنی نسپال مین ۲۲تا ۲۵ فیصد ٹے نین ہوتی ہے پھولوں کو گلنار اور خشک شدہ تخموں کو انار دانہ کہتے ہیں۔

Mango ky faiday آم کے فائدے

 Mango ky faiday آم کے فائدے


 

       مختلف نام:۔   


  Mango(عربی)انبج (فارسی) اَنبہ (انگریزی) مینگو   


پہچان:- مشہور عام پھل ہے ہند میں بکثرت ہوتا ہے اس کی گٹھلی کی گری میں قریبا دس فیصد ٹینک ایسڈ پایا جاتا ہے ۔ قدر ے پکے گدرائے آموں کو اڑوسہ کے پتوں تہوں کے اندر رکھ کر پکایا جاتا ہے۔ اسے پال ڈالنا کہتے ہیں۔


رنگ :۔ سبز ، سرخ اور زرد رنگوں کا ہوتا ہے ۔


ذائقہ:۔  خام ترش ، پختہ شیریں ، چاشنی دار اور خوشبودار


مقدر خوراک :-  بقدر ہضم


اقسام 


سنڈھڑی




  1. mango-pakistanچونسہ

  2. لنگڑا

  3. انور رٹول

  4. الفانسو

  5. بنگن پلی

  6. الماس

  7. لال پری


 


 مزاج :- خام سرد خشک پہلے درجے میں پختہ گرم و تر دوسرے درجے میں پھول اور گٹھلی سرد و خشک پہلے درجے میں


 Mango ky faiday آم کے فائدے


 پختہ آم مولد خون مسمن بدن ارواح ، معدہ گردہ مثانہ آنتوں کو قوت بخشتا ہے۔ مقوی باہ بھی مگر قلمی قسم کا آم ثقیل ہوتا ہے اور دیر سے ہضم ہوتا ہے اس کے خشک پھولوں کا سفوف جریان کے لیے اکسیر ہے اور قابض اور مقوی معدہ ہونے کی وجہ سے خستہ آم بقدر ۳ ماشہ ہمراہ آب تازہ دوستوں کو بندکرنے کے لیے کھلاتے ہیں ۔ آم کو چوس کر کھانا زیادہ مفید ہے۔ اس سے امرس  امچور، اچار اور مربہ بھی بنایا جاتا ہے۔ پکے آموں کو پتھر کی میز چکلا یا ٹاٹ پر نچوڑ کر رس کو سکھالینے سو امرس (ام پاپڑ) تیار ہوجاتا ہے یہ زود ہضم خوش ذائقہ اور مقوی ہے۔ امچور دافع سکروی ہے۔ اور لیموں کے برابر فوائد رکھتا ہے ۔ کچے آم کو اگر آگ پرپکا کر اس کا پانی  نچوڑا جائے اور استعمال کیا جائے تو لو زدگی کا خطرہ نہیں رہتا ۔ آموں کو کھانے سے پہلے خوب دھولینا چاہیئے تاکہ آم کا چیپ یا گوند جو آم کی ڈنڈی کے اردگرد جمی ہوتی ہے۔ دور ہو جائے آم کا چیپ گلے میں خراش  پیدا کرتا ہے آموں کو برف یا سرد آب میں تھوڑی دیر رکھ کر چوسا جائے تو خوش ذائقہ ہو جاتے ہیں اور ان کی مدت کم ہوجاتی ہے آم کھانے کے بعد دودھ کی لسی پینا مفید ہے۔


 Mango ky faiday آم کے فائدے


میٹھے اور تازہ آم کا تھوڑا سا گودا اگر حاملہ کو روزانہ کھلایا جائے تو ایسا کرنے سے بچہ تندرست اور صحت مند پیدا ہوتا ہے۔
آم کا اچار بھوک بڑھاتا ہے۔
آم کا گودا چہرے پر مل کر سوکھنے پر ٹھنڈے پانی سے دھونے سے چہرہ صاف اور ملائم ہوجاتا ہے۔
بینائی کو قوت دیتا ہے بشرطیکہ آم کھانے کے بعدکچی لسی پی جائے۔ ۔آم منہ کی بے مزگی کو دو ر کرتا ہے۔ بدن کا رنگ نکھرتا ہے۔
خفقان کی مرض میں آم بے حد مفید ہے۔
آم بینائی کو قوت دیتا ہے۔ دودھ پلانے والی خواتین کو آم کھلانے سے ان کے دودھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ آم کے پتوں کی چائے پینے سے نزلہ‘ زکام‘ کمزوری دماغ اور ہچکی دور ہوجاتی ہے۔
لولگنے کی صورت میں کچے آم کو آگ میں بھون کر گڑ کے شربت میں اس کا رس ملا کر پلانے سے فوری آرام ہوجاتا ہے۔
آم کا بور اور پتے خشک کرکے باریک پیس لیں۔ چند روز کے استعمال سے بال سیاہ ہوجائیں گے۔ مقدار ایک چمچہ چائے والا سفوف صبح و شام ہمراہ پانی سے۔
جسم کی خشکی‘ بے رونقی‘ زردی اور کمزوری کو دور کرنے کیلئے روزانہ ایک آم کھانا اور بعدازاں ایک گلاس کچی لسی استعمال کرنا بے حد مفید ہے۔
مثانے کی پتھری دور کرنے کیلئے صبح نہار منہ کچے آم دو تین تولے روزانہ کھلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
آم کی گٹھلیاں دو عدد اور تین دانہ سیاہ مرچ کو رگڑ کر سانپ کاٹے والے کو پلانے سے مارگزیدہ کو سردی محسوس ہوگی اور زہر دور ہوجائے گا۔ آم کا تازہ رس پانچ تولہ‘ میٹھا دہی ایک پاؤ اور ادرک کا رس چائے والا ایک چمچہ تمام کو ملا کر پینے سے زرد چہرہ‘ کمزور اور مشکل سے سانس نکلنا کی بیماریوں کیلئے بے حد مفید ہے۔


پختہ آم مولد خون ہے۔ یہ آنتوں کو قوت دیتا ہے۔ آم مقوی باہ ہے۔ یہ معدہ‘ گردہ‘ مثانہ کو طاقت دیتا ہے۔ قدرے دیر ہضم ہوتا ہے۔ تین ماشے آم کا گودا پانی کے ساتھ دینے سے پیچش بند ہوجاتے ہیں۔ چنبل اور بھسم روگ کو دور کرنے کیلئے آم کا رس‘گائے یا بھینس کا دودھ گرم ایک پاؤ‘ گھی ایک پاؤ اور چینی دس تولہ‘ روزانہ استعمال کرنے سے دس دن میں صحت ہوجاتی ہے۔ آم کا مربہ پھیپھڑوں‘ دل اور مثانے کو طاقت دیتا ہے


آم کے پتے' چھال'گوند'پھل اور تخم سب دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ آم کے پرانے اچار کا تیل گنج کے مقام پر لگانے سے بالچر کو فائدہ ہوگا۔ آم کے درخت کی پتلی ڈالی کی لکڑی سے روزانہ مسواک کرنے سے منہ کی بدبو جاتی رہے گی۔ خشک آم کے بور کا سفوف روزانہ نہار منہ چینی کے ساتھ استعمال کرنا مرض جریان میں مفید ہے۔جن لوگوں کو پیشاب رکنے کی شکایت ہو' آم کی جڑ کا چھلکا برگ شیشم دس دس گرام ایک کلو پانی میں جوش دیںجب پانی تیسرا حصہ رہ جائے تو ٹھنڈا کرکے چینی ملا کر پی لیںپیشاب کھل کر آئے گا۔ ذیابیطس کے مرض میں آم کے پتے جو خود بخود جھڑ کرگر جائیں'سائے میں خشک کرکے سفوف بنا لیں۔ صبح و شام دو دو گرام پانی سے استعمال کرنے سے چند دنوں میں فائدہ ہوتا ہے۔ نکسیر کی صورت میں آم کے پھولوں کو سائے میں خشک کرکے سفوف بنا لیں اور بطور نسوار ناک میں لینے سے خون بند ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کے بال سفید ہوں' آم کے پتے اور شاخیں خشک کرکے سفوف بنا لیں۔ روزانہ تین گرام یہ سفوف استعمال کیا کریں۔ کھانسی' دمہ اور سینے کے امراض میں مبتلا لوگ آم کے نرم تازہ پتوں کا جوشاندہ' ارنڈ کے درخت کی چھال سیاہ زیرے کے سفوف کے ساتھ استعمال کریں۔ آم کی چھال قابض ہوتی ہے اور اندرونی جھلیوں پر نمایاں اثر کرتی ہے اس لیے سیلان الرحم(لیکوریا) آنتوں اور رحم کی تکالیف 'پیچش و خونی بواسیر کیلئے بہترین دوا خیال کی جاتی ہے۔ ان امراض میں آم کے درخت کی چھال کا سفوف یا تازہ چھال کا رس نکال کر دیا جاتا ہے۔ آم کی گٹھلی کی گری قابض ہوتی ہے۔ چونکہ اس میں بکثرت گیلک ایسڈ ہوتا ہے اس لئے کثرت حیض' پرانی پیچش' اسہال' بوا سیر اور لیکوریا میں مفید ہے۔


 Mango ky faiday آم کے فائدے


جدید تحقیق اور وزن کی کمی


آسٹریلیا کی کوئینز لینڈ یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آم وزن میں کمی کر کے انسان کو سمارٹ بنا سکتا ہے لیکن اس کے لئے آم کو چھلکوں سمیت کھاناہوگا، تحقیق کے مطابق آم کی جلد پرموجود اجزاء انسان کوموٹا کرنے والے سیلز کو بڑھنے سے روکتے ہیں،تحقیق کے مطابق پھل کی بیرونی جلد پر موجود فائٹو کیمیکلزقدرتی طور پرموٹاپے کوکم کرنے کا کام سرانجام دیتے ہیں

Powered by Blogger.