Showing posts with label عرق النساء. Show all posts
Showing posts with label عرق النساء. Show all posts

sciatica pain :(شیاٹیکا (عرق النساء

sciatica pain  :(شیاٹیکا (عرق النساء


درد کی مختلف اقسام ہوتی ہیں مثلاً سردرد‘ کمر درد‘ گھٹیا کا درد‘ عرق النساءکا درد‘ ہڈیوں کا درد وغیرہ وغیرہ۔یہ معالج کا کام ہے کہ وہ مریض کی تمام علامات ‘ حرکات و سکنات اور مشاہدات کے بعد جسم میں ہونے والے درد کی درجہ بندی کرے اور اسے ایک مخصوص مرض کے زمرے میں رکھے۔
ہم یہاں جس درد کا ذکر کریں گے وہ شاٹیکا (عرق النساء) کہلاتا ہے۔


دورجدید میں شیاٹیکا (عرق النساء) کا درد عام ہو چکا۔اس درد میں زیادہ تر خواتین مبتلا ہوتی ہیں، اسی لیے اسے عرق النسا کہا جانے لگا۔ اسی نام کی وجہ سے لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیل گئی کہ مرد اس تکلیف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ ایسا نہیں ہے، مرد بھی اس درد کا شکار ہوتے ہیں مگر خواتین کی نسبت ان کی تعداد کم ہے۔ یہ درد پیڑو کے سِروں سے شروع ہو کر ٹانگ کے پچھلے حصے سے ہوتا ہوا بیرونی ٹخنے میں محسوس ہوتا ہے۔ در حقیقت یہ ایک عصبی مرض ہے۔یہ ایک عصبی درد ہے کیونکہ یہ پیٹرو سے شروع ہونے والی ایک عصب  شیاٹیکا میں جنم لیتا ہے۔ یہ انسانی جسم میں پائی جانے والی سب سے لمبی عصب ہے۔ یہ ریڑھ کی ہڈی سے نکل کر پیر کی ایڑی تک جاتی ہے۔



علامات


عرق النساءکا درد آہستہ آہستہ شروع ہو کر شدید ہوتا چلا جاتا ہے اور کبھی کبھی اچانک بھی شروع ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات متاثرہ ٹانگ بھاری ہو جاتی ہے اور مریض کے لئے اس پر وزن یا بوجھ ڈالنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔



تشخیص


عموماً مریض کو متاثرہ ٹانگ پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت پڑے‘ تو وہ پاﺅں کے اگلے حصے پر بوجھ ڈال کر ایڑی کو اونچا رکھتا ہے تاکہ شیاٹیکا نرو پر کسی قسم کا کھنچاﺅ نہ پڑے۔ اس مرض کی صورت میں مریض ٹانگ کو ڈھیلا رکھنا چاہتا ہے۔ پاﺅں کو گھسیٹ کر چلتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل (کڑل) پڑ جاتے ہیں اور نسیں کھنچ جاتی ہیں۔ مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور گھٹنے کو دبایا جائے تو مریض کو سخت درد محسوس ہوتا ہے۔ مریض ٹانگ کو جلدی جلدی اور باآسانی پیٹ کی طرف موڑ یا پھیلا نہیں سکتا کیونکہ کھنچاﺅ سے تکلیف ہوتی ہے اور ذرا سی ٹھنڈک بھی مریض کے درد کو بڑھا دیتی ہے۔



وجوہ


عرق النساءکا مرض عموماً قبض کے سبب زیادہ دیر تک پانی میں بھیگنے‘ نمدار جگہ پر بیٹھنے یا سونے‘ بہت زیادہ بوجھ (وزن) اٹھانے‘ شدید جھٹکا لگنے‘ ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل جانے‘ اعصابی تناﺅ‘ پریشانی‘ مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹنے‘ کئی گھنٹوں تک مسلسل بیٹھے رہنے‘ غلط قدموں سے چلنے اور ایکسیڈنٹ وغیرہ کے باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان تما م صورتوں میں شیاٹیکا نرو میں کھنچاﺅ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مرطوب مقامات پر رہنے والوں میں بھی یہ مرض عام ہے۔


درد عموماً ایک ٹانگ میں ہوتا ہے اور اس کی شدت کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ تکلیف میں مبتلا مریض مسلسل بے چینی کا شکار رہتا ہے۔ بعض اوقات متاثرہ ٹانگ بھاری ہو جاتی ہے اور مریض کے لیے اس پر بوجھ ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ اکثر ٹانگ سن ہو جاتی ہے۔ بیٹھنے اور کھڑے رہنے سے بھی درد کی شدت بڑھتی ہے۔


اس درد کا خطرہ عموماً درمیانی عمر میں زیادہ ہوتا ہے۔ امریکن اکیڈمی آف آرتھوپیڈک سرجنز کے مطابق تیس سے پچاس برس کی عمر میں مریض اس کا زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔ شیاٹیکا کی تکلیف مختلف وجوہ کی بنا پر جنم لیتی ہے۔ لہٰذا علاج سے قبل تشخیص بے حد ضروری ہے۔


کمر کو شدید جھٹکا لگنے، ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل جانے، مہروں کے درمیان خلا کم یا زیادہ ہونے، کولھے کے پٹھوں کی سوزش، قبض، زیادہ دیر نمدار جگہ پر بیٹھنے، بہت زیادہ بوجھ اٹھانے، اعصابی تنائو، مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹے رہنے، غلط طریقوں سے چلنے، بیٹھنے، اٹھنے، کسی حادثے کے باعث، غرض وہ تمام عوامل جو شیاٹیکا عصب پر بوجھ ڈالیں اور تنائو کا باعث بنیں، وجہ درد بن سکتے ہیں۔ عمر کے ساتھ ہونے والی جسمانی توڑ پھوڑ بھی اس میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ نیز اونچی ایڑی پہننے والی خواتین، نرم گدوں پر سونے والے اور فربہ لوگ بھی اس درد کا شکار آسانی سے ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی شیاٹیکا عصب پہ مسلسل دبائو پڑتا رہتا ہے۔


شیاٹیکا کا مریض عموماً ٹانگ گھسیٹ کر چلتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل بھی پڑ جاتا ہے اور نسیں اکڑ جاتی ہیں۔ مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور گھٹنے کو دبایا جائے تو اُسے ناقابل برداشت درد محسوس ہوتا ہے۔ بچاراٹانگ کو بآسانی پیٹ کی طرف موڑ نہیں سکتا کیونکہ کھچائو سے مزید تکلیف ہوتی ہے۔ ذرا سی بھی ٹھنڈک درد بڑھا دیتی ہے۔



علاج


اس مرض کا علاج نہایت احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔اس مرض کیلئے بہترین نسخہ درج ذیل ہے۔



ہوالشافی


اسگندھ‘بکھڑا‘ سنڈھ‘ مٹھا سوڈا‘ سرنجان شیریں‘ ان تمام ادویات کا کو ہم وزن کوٹ پیس لیں۔
طریقہ استعمال:اور ایک چمچ ٹیبل اسپون صبح دوپہر شام ہمراہ تازہ پانی استعمال کریں۔ تی استعمالن ہفتے مستقل استعمال سے اس مرض کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا۔ انشاءاللہ



پرہیز اور احتیاط


عرق النساءکے درد میں جس قدر دوا کی ضرورت ہوتی ہے‘ اسی قدر پرہیز اور احتیاط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً٭ مریض کو ٹھنڈک سے ہر ممکن بچاﺅ کی کوشش کرنی چاہیے۔٭ مرطوب‘ تنگ و تاریک جگہوں پر رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔٭ مریض کو بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی پوزیشن بدلتے رہنا چاہیے۔٭ مریض کو پانی میں رہنے سے احتیاط برتنی چاہیے۔٭ مریض کو قبض سے بچنا چاہیے کیوں کہ اس سے شاٹیکا عصب میں کھنچاﺅ پڑ سکتا ہے۔٭مریض کو چاہیے کہ وہ غسل‘ صبح گیارہ بجے کے بعد اور دوپہر‘ تین بجے سے قبل کر لیا کرے اور اس کے بعد ہوا لگنے سے بچنا چاہیے۔٭ مریض کو وزن نہیں اٹھانا چاہیے اور نہ ہی بہت زیادہ مشقت والا کام کرنا چاہیے۔ ٭مریض کو چاہیے کہ وہ فرش پر یا کسی سخت جگہ پر ہلکا گدا بچھا کر سوئے۔٭ بہت زیادہ ذہنی دباﺅ اور ذہنی پریشانی سے اپنے آپ کو بچائے۔


عرق النسا کے درد میں جس قدر دوا کی ضرورت ہوتی ہے، اتنا ہی پرہیز اور احتیاط بھی درکار ہے۔ دوا، پرہیز اور احتیاط سے عموماً چھے ہفتوں میں مریض صحت یاب ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو مریض کو اپنے اٹھنے، بیٹھنے، چلنے اور سونے کے طریقے بدلنے چاہئیں۔ مثال کے طور پر وہ بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی پوزیشن بدلتا رہے۔ زیادہ دیر کھڑے ہونے اور زیادہ دیر بیٹھنے سے گریز کرے۔ سیدھا سوتے وقت تکیہ اپنے گھٹنوں کے نیچے رکھے۔ کروٹ لے کر لیٹے‘ تو ٹانگیں ذرا موڑ کر گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھ کے سوئے۔ اس سے ریڑھ کی ہڈی اور اعصاب پر کم دبائو پڑتا ہے۔ بیٹھتے وقت کرسی کے پیچھے تکیہ اور کشن وغیرہ رکھے تاکہ کمر کو سہارا ملتا رہے۔


عرق النسا سے چھٹکارا پانے میں غذا کا کردار بہت اہم ہے۔ مریض ایسی غذا کھائے جو غذائیت سے بھرپور ہو اورخصوصاً اُسے قبض سے بچائے۔ اس بیماری کے باعث شیاٹیکا عصب پر مزید دبائو پڑتا ہے۔ کیلشیم و وٹامن سے بھرپور غذا اعصاب اور پٹھوں کو تقویت بخشتی اور درد سے بچاتی ہے۔ پوٹاشیم بھی پٹھوں میں لچک پیدا کرنے میں معاون بنتا ہے۔ چناںچہ دہی، دلیہ، مغزیات، پھل اور تازہ سبزیاں اپنی غذا میں شامل رکھیے۔ گاجر اور چقندر کا رس نوش کیجیے۔ یہ شیاٹیکا سے جلد نجات دلانے میں مدد کرے گا۔ پانی خوب پیجیے۔ ادرک، لہسن، ہلدی کو اپنی غذا میں شامل رکھیے۔ یہ جڑی بوٹیاں سوزش کم کر کے درد سے آرام دیتی ہیں۔ تلسی، روز میری، بابونہ وغیرہ کی چائے بھی اس مرض میں مفید ہے۔


شیاٹیکا کا علاج بس لیٹے رہنےمیں نہیں بلکہ خود کو متحرک رکھنے میں مضمر ہے۔ کیونکہ اس سے اعصاب اور پٹھوں کو خون اور غذائی اجزا کی فراہمی بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔ روزانہ ۲۰ سے ۴۰منٹ تک پیدل ضرور چلیے۔ ورزش بھی آرام دینے میں معاون ہوتی ہے۔ بشرطیکہ ماہر ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ باقاعدہ تشخیص کے بعد اسے تجویز کرے۔ اس مرض میں غلط ورزش درد بڑھا دیتی ہے۔ لہٰذا احتیاط بہت ضروری ہے۔


مساج یا مالش بھی شیاٹیکا کا ایک مستند علاج ہے۔ اگر فزیو تھراپسٹ یا کسی ماہر سے کرایا جائے تو چند دن میں درد جاتا رہتا ہے۔ زیتون کے تیل کی مالش بہتر ہے۔ ایک مفید نسخہ یہ ہے کہ سرسوں کے تیل میں چند لہسن کے جوئے جلا لیجیے۔ پھر اس تیل سے مالش کیجیے۔ مزیدبرآں روزانہ نہار منہ لہسن کے دو جوئے گرم دودھ کے ساتھ کھائیے۔
وزن اٹھانے، مشقت والا کام کرنے اور نم آلود اور ٹھنڈی جگہوں پر بیٹھنے سے پرہیز کیجیے۔ سب سے بڑھ کر ذہنی دبائو اور پریشانی سے خود کو بچائیے تو آپ جلد اس درد سے نجات حاصل کر لیں گے۔

زیتون کے فوائد

زیتون کے فوائد
بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ 
قسم الله سبحانه وتعالى بالتين والزيتون
حضرت اسیدالانصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، زیتون کے تیل کو کھاؤ اور اس سے جسم کی مالش کرو کہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “زیتون کا تیل کھاؤاور اسے لگاؤ کیونکہ یہ پاک اور مبارک ہے۔“ (ابن ماجہ۔ حاکم)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ذات الجنب کا علاج قسبط البحری اور زیتون کے تیل سے کریں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ “زیتون کا
تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفا ہے جن میں ایک کوڑھ بھی ہے۔“

زیتون کا درخت تین میٹر کے قریب اونچا ہوتا ہے۔ چمکدار پتوں کے علاوہ اس میں بیر کی شکل کا ایک پھل لگتا ہے جس کا رنگ اودا اور جامنی ذائقہ بظاہر کسیلا اور چمکدار ہوتا ہے۔ مفسرین کی تحقیقات کے مطابق زیتون کا درخت تاریخ کا قدیم ترین پودا ہے۔ طوفان نوح کے اختتام پر پانی اترنے کے بعد زمین پر سب سے پہلی چیز نمایاں ہوئی، وہ زیتون کا درخت تھا۔ اس پس منظر کیبدولت زیتون کا درخت سیاست میں امن اور سلامتی کا نشان بن گیا ہے۔
زیتون کا پھل غذائیت سے بھرپور ہے مگر اپنے ذائقہ کی وجہ سے پھل کی صورت میں زیادہ مقبول نہیں۔ اس کے باوجود مشرق و سطٰی، اٹلی، یونان اور ترکی میں بہت لوگ یہ پھل خالص صورت میں اور یورپ میں اس کا اچار بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ یونان سے زیتون کا اچار سرکہ میں آتا ہے اور مغربی ممالک میں بڑی مقبولیت رکھتا ہے۔ یہ درخت یورپی ممالک، اٹلی، کیلیفورنیا اور آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک سے درآمد ہوتا ہے۔
قرآن مجید نے زیتون اور اس کے تیل کا بار بار ذکر کرکے شہرت دوام عطا کر دی ہے۔
سورہ الانعام، سورہ النحل، سورہ النور، سورہ المومنون، سورہ التین، ان سورتوں میں اللہ تعالٰی نے زیتون کے درخت کو ایک مبارک یعنی برکت والا درخت قرار دیا۔ اس کے پھل کو اہمیت عطا فرمائی۔ پھر لوگوں کو متوجہ کیا کہ زیتون، کھجور، انار اور انگور میں فوائد کے خزانے بھرے پڑے ہیں۔ بشرطیکہ تم ان کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرو۔


زیتون ایک درخت ہے جس کا پھل زیتونہ کہلاتا ہے اُس پھل سے جو تیل حاصل کیا جاتا ہے اُسے روغنِ زیتون کہا جاتا ہے۔زیتون اور روغنِ زیتون کے بےشمار خواص اور فوائد ہیں۔
زیتون اور روغنِ زیتون کے بارے میں کئی احادیث میں بھی ذکر ہے اور بعض حوالوں سے اسے ستر بیماریوں کے لئے شافی قرار دیا گیا ہے۔
روغنِ زیتون سب سے زیادہ پیٹ کے امراض کے لئے مفید اور شافی ہوتا ہے۔یہ بدن کو گرم کرتا ہے،پتھری کو توڑ کر نکالتا ہے اور قبض کشا بھی ہے۔
معدے کے افعال کو درست کرکے روغنِ زیتون بھوک کو بڑھاتا ہے اور آنتوں میں پڑے ہوئے سدے بھی کھول دیتا ہے۔پتے کی پتھری بھی روغنِ زیتون کے استعمال سے ٹوٹ کر خارج ہوجاتی ہے۔
زیتون کا تیل اگر تھوڑی مقدار میں دودھ کے ساتھ ملا کر پیئیں تو اس سے بتدریج السر سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے اور معدے کی تیزابیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
دائمی اور پرانے قبض کو ختم کرنے کے لئے ایک تولہ روغنِ زیتون کو جو کے گرم پانی میں ڈال کر پیئیں تو دو تین دن کے اندر قبض سے نجات مل جاتی ہے۔
پیٹ کے اندر اگر فاسد مادے پیدا ہو چکے ہوں یا پیٹ میں کوئی زہریلی شئے چلی جائے تو اُس کا ا‌ثر زائل کرنے کی خاطر زیتون کا تیل ہی سب سے موثر اور اکسیر تریاق ہوگا۔
زیتون کے تیل کو کسی نہ کسی صورت میں جو لوگ کھاتے رہتے ہیں وہ کبھی آنتوں اور پیٹ کے سرطان کا شکار نہیں ہوسکتے۔
تپِ دق جیسے موذی مرض کا علاج بھی بذریعہ روغنِ زیتون شافی انداز میں کیا جاسکتا ہے۔اس مقصد کے لئے ہر روز تین اونس روغنِ زیتون براہِ راست یا دودھ میں ملا کر پینا ضروری ہوتا ہے۔یہ عمل تقریباً دو ماہ تک جاری رکھیں تو اس مرض سے مستقل طور پر نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کو دمہ کے مرض سے بچنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے لئے شہد اور زیتون کے تیل کو برابر وزن کے ساتھ گرم پانی میں ملا کر پینا چاہیے ۔مستقل استعمال سے دمہ ختم ہو جاتا ہے ۔نزلہ زکام اور کھانسی بھی مستقل طور پر ختم ہوجاتے ہیں۔
زیتون کا تیل پسینہ خارج کرنے کا موجب بنتا ہے۔جسمانی اعضاء کو قوت اور توانائی بخشتا ہے۔
زیتون کے تیل کو جلد کی متعدد بیماریوں کے علاج کے لئے مجرد حالت میں یا مرہم میں شامل کرکے اکسیر بنایا جا سکتا ہے۔یہ جلد کے تمام بیرونی عوارض میں مفید ہوتا ہے۔آگ کے جلنے سے بنے ہوئے زخموں ،پھوڑے پُھنسیوں داد اور عام زخم کے علاج کے لئے بھی زیتون کا تیل لگانا فائدہ مند ہوتا ہے۔زیتون کی مسلسل مالش سے چیچک اور زخم کے داغ دھبے ختم ہوجاتے ہیں۔
آنکھوں کی کئی بیماریوں اور سرخی و سوزش ختم کرنے کے لئے سلائی سے زیتون کا تیل آنکھ میں لگائیں تو افاقہ ہوتا ہے۔
بالوں کو گرنے سے بچانے کے لئے سفید ہونے سے روکنے کی خاطر ہر روز بالوں میں زیتون کا تیل لگانا سب سے بڑا اور موثر نسخہ ہے۔
زیتون کے تیل کی باقاعدہ مالش کرنے سے جوڑوں کا درد اور لنگڑی کا درد ( عرق النساء ) بھی بدستور ختم ہوجاتا ہے۔
خواتین اپنے ہاتھوں ،بازوؤں اور چہرے کو نکھارنے کے لئے اور گداز رکھنے کی خاطر زیتون کے تیل کی مالش کو معمول بنا لیں تو یہ جلد کے لئے نہایت مفید ہوتا ہے۔
بچھو ،شہد کی مکھی یا بِھڑ وغیرہ کے کاٹے پر روغنِ زیتون ملنے سے جلد ہی زہر کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور درد سے نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کا موسمِ سرما میں استعمال کرنے سے بالوں سے خشکی سکری دور ہوجاتی ہے۔
جو لوگ زیتون کے تیل میں کھانا بناتے ہیں وہ لاتعداد عوارض اور بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔
حکماء کا کہنا ہے کہ روغنِ زیتون میں خرگوش کو گوشت پکا کر کھانے سے عورتوں میں بانجھ پن ختم ہوسکتا ہے۔
کلونجی کو بھون کر زیتون کے تیل میں پیس کر مرہم بنا کر اگر پرانی خارش یا فِنگس پر لگائیں تو اس سے چند دنوں میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔


جسم پر مالش کے اثرات اور فوائد
زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے اعضاء کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ پھٹوں کا درد جاتا رہتا ہے۔ بعض طبیب اس کی مالش کو مرگی کے لئے بھی مفید قرار دیتے ہیں۔ وجع المفاصل اور عرق النساء کو دور کرتا ہے۔ چہرے کو بشاشت دیتا ہے۔ اسے مرہم میں شامل کرنے سے زخم بہت جلد بھرتے ہیں۔ ناسور کو مندمل کرنے میں کوئی دوائی زیتون سے بہتر نہیں۔
زیتون کے تیل سے قبض کا علاج
اکیس تولہ جو کے پانی میں روغن زیتون ملا کر پینے سے پرانی قبض جاتی رہے۔ تیل پینے سے معدہ اور آنتوں کے اکثر امراض جاتے رہتے ہیں۔ پیٹ کے کیڑے مارتا ہے۔ گردہ کی پتھری توڑ کر نکال سکتا ہے۔ استسقاء میں بھی مفید ہے۔ جسمانی کمزوری کو رفع کرتا اور پیشاب آور ہے۔
پتہ کی سوزش اور پتھری کا علاج
اطباء نے اسے مرارہ (پتہ) کی پتھری میں مفید قرار دیا ہے۔ پتہ کی سوزش اور پتھری کے مریضوں کو بنیادی طور پر چکنائی سے پرہیز کرایا جاتا ہے مگر روغن زیتون ان کے لئے بھی مفید ہے بلکہ پرانے اطباء نے مریضوں کو 2/1 1 پاؤ تک مریضوں کو روزانہ تیل پلا کر صفراوی نالیوں سے سرے نکالنے کا کام لیا ہے۔ بعض اوقات اسی عمل کے دوران پتھریاں بھی نکل جاتی ہیں۔
امراض تنفس اور زیتون کا تیل
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ذات الجنب میں زیتون کا تیل ارشاد فرمایا۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر سانس کی ہر بیماری کے مبتلا کو زیتون کا تیل ضرور دیا گیا۔ دمہ کے مریضوں کی بیماری میں جب کمی آ جائے تو آئندہ اس قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے زیتون کے تیل سے بہتر دوا میسر نہ آ سکی۔
انفلوئنز اور زکام والوں کو باقاعدہ زیتون کا تیل پینے سے نہ ہی ان کو زکام لگتا ہے اور نہ ہی نمونیا ہوتا ہے۔ اگر ان کو کبھی انفلوئنزا ہو بھی جائے تو ان کا حملہ بڑا معمولی ہوتا ہے۔ زکام اور دمہ کے دوران اضافی فائدے کے لئے ابلے ہوئے پانی میں شہد بھی مفید ہے۔ (طب نبوی اور جدید سائنس)
زیتون کے تیل کے فوائد ایک نظر میں
 زیتون کا تیل زیادہ تر قروح معدہ میں 10 گرام پلاتے ہیں۔ خصوصاً سوتے وقت دودھ کے ساتھ ۔
 درد گردہ اور پتہ کی پتھری میں بےحد فائدہ بخش ہے۔
 حکماء کا قول ہے کہ زیتون سنگ مثانہ کو گلاتا، بلغم کو دور کرتا، پٹھوں کو مضبوط کرتا، تھکن کو دور کرتا اور منہ میں خوشبو پیدا کرتا ہے۔
 یہ نیک لوگوں کی غذا اور سر کا تیل بھی ہے۔
 یہ دونس 50 گرام کی مقدار میں ملین ہے جو متورم بواسیر، قروح معدہ، خونی بواسیر اور قبض میں ایک مفید دوا ہے۔
 تیل مقوی ہے اور امراض جلد میں شفا ہے۔
 پیٹ کی بیماریوں میں مفید ہے۔ تیل پرانا بھی ہو جائے تو مفید رہتا ہے۔
 آنکھ میں لگانے سے آنکھ کی سرخی کٹ جاتی ہے۔
 موتیا کو کم کرنے میں مفید ہے۔
 زہر خوانی میں اس کا تیل دودھ میں ملا کر پلانے سے آرام ہو جاتا ہے اور اجن بچ سکتی ہے۔
 اس کے تیل کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر چیونٹیاں نہیں آتیں اور جب اسے دئیے میں جلایا جائے تو یہ دیگر تیلیوں کی طرح دھواں نہیں دیتا۔
 دست آور ہے، آنتوں کے کیڑوں کو نکالتا ہے۔
 جلد میں نرمی اور ملائمت پیدا کرتا ہے۔
 بالوں کی سفیدی کو روکتا ہے۔
 ایگزیما اور چنبل میں قسط، سناہم وزن پیس کر روغن زیتون کا چار گنا میں پکا کر لگانا مفید ہے۔
مسوڑھوں کا مضبوط بناتا ہے۔
 زیتون کا نمکین پانی آتش زدہ مقام پر آبلے نہیں آنے دیتا۔
 فالج اور اوجاع مفاصل میں بطور مالس استعمال سے فائدہ ہوتا ہے۔
 چنبل جیسے جلدی امراض، جلے ہوئے حصوں پر اور زخموں پر لگانے اور سخت جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
 رکٹس اور بچوں کے دق میں مالش سے کافی فائدہ ہوتا ہے۔
 بلا تکلیف صفراوی پتھریوں کو توڑتا ہے۔ کولیسٹرول جو صفراوی پتھریوں کا جزو اعظم ہے، اس کو روغن زیتون جسمانی حرارت 5۔98 پر تحلیل کرتا ہے اور چند دنوں میں پتے کی پتھری ایک ایسے رفیق محلول میں تبدیل ہو جاتی ہے جو اپنے مقررہ راستوں سے بآسانی گزر جاتی ہے۔ اس لئے درد جگر کے دورے ختم یو جاتے ہیں۔
غرضکیہ زیتون کے روغن میں پکے ہوئے پکوان ،اچار یا مٹھائیاں ذائقے میں منفرد ہوتی ہے اور معدے پر گراں نہیں گزرتی، زیتون کا تیل صحت اور تندرستی پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور معدے کی فعالیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔


Powered by Blogger.