Showing posts with label مقوی باہ. Show all posts
Showing posts with label مقوی باہ. Show all posts

muqawe baa tillaعضوخاص کو طاقت ور بنانے والاطلاء

Muqawe baa tilla  :  عضوخاص کو طاقت ور بنانے والا طلاء


ہوالشافی


ترکیب تیاری                             


Muqawe baa tillaعضوخاص کو طاقت ور بنانے والا طلاء


 خشک ادرک یعنی سونٹھ  5تولہ ﻟﮯﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺳﻔﻮﻑ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻟﺺ ﺷﮩﺪ 100 ﮔﺮﺍﻡ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺧﻮﺏ ﻣﮑﺲ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﭗ ﺳﺎ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﯿﺸﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮐﺮﻟﯿﮟ


ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ                             


Muqawe baa tillaعضوخاص کو طاقت ور بنانے والا طلاء


ﺭﺍﺕ ﺳ۔ﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻋﻀﻮﺧﺎﺹ ﭘﺮ ﻟﯿﭗ ﮐﺮﯾﮟ۔


فوائد: ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﭼﯿﺰ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮعضوخاص کو طاقت ور بنانے والا طلاءہے۔اورﺧﺎﺹکر ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻭﺭ طاقت ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻻﺟﻮﺍﺏ ﺧﺎﺹ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ

قوت باہ کا ایسا نسخہ جو بالکل سستا ہے مگر فوائد میں لاکھوں کے نسخوں پر بھاری ہے

قوت باہ کا ایسا نسخہ جو بالکل سستا ہے مگر فوائد میں لاکھوں کے نسخوں پر بھاری ہے


muqawe baa   : ﻣﻘﻮﯼ ﺑﺎﮦ ﻧﺴﺨﮧ


ہوالشافی


قوت باہ کا ایسا نسخہ جو بالکل سستا ہے مگر فوائد میں لاکھوں کے نسخوں پر بھاری ہے


ﮔﻮﮐﮭﺮﻭ ﺁﺩﮪ ﭘﺎﺅ ﻟﮯ ﮐﺮﺳﻔﻮﻑ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﻮ 100ﮔﺮﺍﻡ ﺧﺎﻟﺺﮔﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﯾﺎﮞ ﮐﺮﯾﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺅ ﺷﮩﺪ ﺧﺎﻟﺺ ﮈﺍﻟﮑﺮ ﺍﭼﮭﯽ


desiherbal.com-Gokhru young fruit


ﻃﺮﺡ ﻣﮑﺲ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﯽ ﮈﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮑﺮﺭﮐﮭﯿﮟ


ترکیب استعمال: 1تولہ ﺻﺒﺢ ﻧﮩﺎﺭﻣﻨﮧ ہمراہ ﻧﯿﻢ ﮔﺮﻡ ﺩﻭﺩﮪ  15یوم  ﺗﮏ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﮯ


فوائد:حد درجہ ﻣﻘﻮﯼ ﺑﺎﮦ ﻧﺴﺨﮧ ﮨﮯ

قوت باہ کا خزانہ

قوت باہ کا خزانہ


ہوالشافی


  چھ ﮔﺮﺍﻡ ﺩﺍﺭﭼﯿﻨﯽ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭘﯿﺲ ﮐﺮ ﺗﯿﻦ ﭘﺎﺅ ﺩﻭﺩﮪ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺅ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻔﮕﯿﺮ ﺳﮯ ﮨﻼﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺩﻭﺩﮪ ﺫﺭﺍ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﺴﺐ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﭼﯿﻨﯽ ﻣﻼ ﮐﺮﻧﮩﺎﺭ ﻣﻨﮧ پیئں۔ یہ نسخہحد درجہ مقوی باہ ہے۔ ﺳﺎﺕ ﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﮌﻭﮞ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻗﻮﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯽ

مقوی باہ اور امساکی سفوف: طاقت اور ٹائم

طاقت اور ٹائم


ہوالشافی
ﺩﺍﺭﭼﯿﻨﯽ،ﺣﺮﻣﻞ،ﺧﺮﺍﻃﯿﻦ ﻣﺼﻔﯽ،ﺍﺟﻮﺍﺋﻦ ﺩﯾﺴﯽ برابر وزن
ترکیب تیاری:ﺳﻔﻮﻑ ﺑﻨﺎﻟﯿﮟ۔


ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ:ﺻﺒﺢ ﻭ ﺷﺎﻡ ﻧﮩﺎﺭ ﻣﻨﮧ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﺮﺍﻡ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺩﻭﺩﮪ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ


 فوائد:ﻣﻘﻮﯼﺑﺎﮦ ﮨﮯ ﺍﻣﺴﺎﮎ ﭘﯿﺪﺍﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ


ﻧﻮﭦ: ﻧﺴﺨﮧﺻﺮﻑ 10ﺩﻥﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ


کوئ بھی نسخہ ماہر معالج کے مشورہ کے بغیر استعمال نہ کریں


مقوی باہ قہوہ

قوت باہ کے لیے


لونگ، تخم پیاز، تیزپات،زیرہ سیاہ، اجوائن دیسی،شہد حسب ذائقہ


ترکیب تیاری:تمام ادویہ برابر وزن لے کر ان کا سفوف بنالیں


طریقہ استعمال:1 گرام سے2 گرام تک 1پاؤپانی میں پکائیں جب 1چائے کے


کپ کے برابر رہ جائےتوچھان کرگرم گرم چائےکی طرح پیئں صبح وشام خالی پیٹ ہلکا


سا کڑوا کسیلا ہو گا حسب ذائقہ شہد ملا سکتے ہیں


فوائد:اعصابی دردیں پٹھوں کا کھینچاؤ جوڑوں کادرد یورک ایسڈ کولیسٹرول معدہ وجگر


کےامراض شوگر کی ذیادتی بار بار پیشاب کا آنا کمر درد قبض دائمی نزلہ زکام سانس کا


پھولنا دمہ دل کی کمزوری جریان احتلام مردرانہ کمزوری لیکوریا ان تمام امراض کا سو


فیصد مجرب علاج ہے کسی قسم کا نقصان نہیں ہے بلا خوف و خطر استعمال کریں

زیتون کے فوائد

زیتون کے فوائد
بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 
وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ 
قسم الله سبحانه وتعالى بالتين والزيتون
حضرت اسیدالانصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، زیتون کے تیل کو کھاؤ اور اس سے جسم کی مالش کرو کہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔ (ترمذی۔ ابن ماجہ۔ دارمی)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “زیتون کا تیل کھاؤاور اسے لگاؤ کیونکہ یہ پاک اور مبارک ہے۔“ (ابن ماجہ۔ حاکم)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ذات الجنب کا علاج قسبط البحری اور زیتون کے تیل سے کریں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت فرماتے ہیں کہ تاجدار انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ “زیتون کا
تیل کھاؤ اور اسے لگاؤ کیونکہ اس میں ستر بیماریوں سے شفا ہے جن میں ایک کوڑھ بھی ہے۔“

زیتون کا درخت تین میٹر کے قریب اونچا ہوتا ہے۔ چمکدار پتوں کے علاوہ اس میں بیر کی شکل کا ایک پھل لگتا ہے جس کا رنگ اودا اور جامنی ذائقہ بظاہر کسیلا اور چمکدار ہوتا ہے۔ مفسرین کی تحقیقات کے مطابق زیتون کا درخت تاریخ کا قدیم ترین پودا ہے۔ طوفان نوح کے اختتام پر پانی اترنے کے بعد زمین پر سب سے پہلی چیز نمایاں ہوئی، وہ زیتون کا درخت تھا۔ اس پس منظر کیبدولت زیتون کا درخت سیاست میں امن اور سلامتی کا نشان بن گیا ہے۔
زیتون کا پھل غذائیت سے بھرپور ہے مگر اپنے ذائقہ کی وجہ سے پھل کی صورت میں زیادہ مقبول نہیں۔ اس کے باوجود مشرق و سطٰی، اٹلی، یونان اور ترکی میں بہت لوگ یہ پھل خالص صورت میں اور یورپ میں اس کا اچار بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ یونان سے زیتون کا اچار سرکہ میں آتا ہے اور مغربی ممالک میں بڑی مقبولیت رکھتا ہے۔ یہ درخت یورپی ممالک، اٹلی، کیلیفورنیا اور آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک سے درآمد ہوتا ہے۔
قرآن مجید نے زیتون اور اس کے تیل کا بار بار ذکر کرکے شہرت دوام عطا کر دی ہے۔
سورہ الانعام، سورہ النحل، سورہ النور، سورہ المومنون، سورہ التین، ان سورتوں میں اللہ تعالٰی نے زیتون کے درخت کو ایک مبارک یعنی برکت والا درخت قرار دیا۔ اس کے پھل کو اہمیت عطا فرمائی۔ پھر لوگوں کو متوجہ کیا کہ زیتون، کھجور، انار اور انگور میں فوائد کے خزانے بھرے پڑے ہیں۔ بشرطیکہ تم ان کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرو۔


زیتون ایک درخت ہے جس کا پھل زیتونہ کہلاتا ہے اُس پھل سے جو تیل حاصل کیا جاتا ہے اُسے روغنِ زیتون کہا جاتا ہے۔زیتون اور روغنِ زیتون کے بےشمار خواص اور فوائد ہیں۔
زیتون اور روغنِ زیتون کے بارے میں کئی احادیث میں بھی ذکر ہے اور بعض حوالوں سے اسے ستر بیماریوں کے لئے شافی قرار دیا گیا ہے۔
روغنِ زیتون سب سے زیادہ پیٹ کے امراض کے لئے مفید اور شافی ہوتا ہے۔یہ بدن کو گرم کرتا ہے،پتھری کو توڑ کر نکالتا ہے اور قبض کشا بھی ہے۔
معدے کے افعال کو درست کرکے روغنِ زیتون بھوک کو بڑھاتا ہے اور آنتوں میں پڑے ہوئے سدے بھی کھول دیتا ہے۔پتے کی پتھری بھی روغنِ زیتون کے استعمال سے ٹوٹ کر خارج ہوجاتی ہے۔
زیتون کا تیل اگر تھوڑی مقدار میں دودھ کے ساتھ ملا کر پیئیں تو اس سے بتدریج السر سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے اور معدے کی تیزابیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
دائمی اور پرانے قبض کو ختم کرنے کے لئے ایک تولہ روغنِ زیتون کو جو کے گرم پانی میں ڈال کر پیئیں تو دو تین دن کے اندر قبض سے نجات مل جاتی ہے۔
پیٹ کے اندر اگر فاسد مادے پیدا ہو چکے ہوں یا پیٹ میں کوئی زہریلی شئے چلی جائے تو اُس کا ا‌ثر زائل کرنے کی خاطر زیتون کا تیل ہی سب سے موثر اور اکسیر تریاق ہوگا۔
زیتون کے تیل کو کسی نہ کسی صورت میں جو لوگ کھاتے رہتے ہیں وہ کبھی آنتوں اور پیٹ کے سرطان کا شکار نہیں ہوسکتے۔
تپِ دق جیسے موذی مرض کا علاج بھی بذریعہ روغنِ زیتون شافی انداز میں کیا جاسکتا ہے۔اس مقصد کے لئے ہر روز تین اونس روغنِ زیتون براہِ راست یا دودھ میں ملا کر پینا ضروری ہوتا ہے۔یہ عمل تقریباً دو ماہ تک جاری رکھیں تو اس مرض سے مستقل طور پر نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کو دمہ کے مرض سے بچنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے لئے شہد اور زیتون کے تیل کو برابر وزن کے ساتھ گرم پانی میں ملا کر پینا چاہیے ۔مستقل استعمال سے دمہ ختم ہو جاتا ہے ۔نزلہ زکام اور کھانسی بھی مستقل طور پر ختم ہوجاتے ہیں۔
زیتون کا تیل پسینہ خارج کرنے کا موجب بنتا ہے۔جسمانی اعضاء کو قوت اور توانائی بخشتا ہے۔
زیتون کے تیل کو جلد کی متعدد بیماریوں کے علاج کے لئے مجرد حالت میں یا مرہم میں شامل کرکے اکسیر بنایا جا سکتا ہے۔یہ جلد کے تمام بیرونی عوارض میں مفید ہوتا ہے۔آگ کے جلنے سے بنے ہوئے زخموں ،پھوڑے پُھنسیوں داد اور عام زخم کے علاج کے لئے بھی زیتون کا تیل لگانا فائدہ مند ہوتا ہے۔زیتون کی مسلسل مالش سے چیچک اور زخم کے داغ دھبے ختم ہوجاتے ہیں۔
آنکھوں کی کئی بیماریوں اور سرخی و سوزش ختم کرنے کے لئے سلائی سے زیتون کا تیل آنکھ میں لگائیں تو افاقہ ہوتا ہے۔
بالوں کو گرنے سے بچانے کے لئے سفید ہونے سے روکنے کی خاطر ہر روز بالوں میں زیتون کا تیل لگانا سب سے بڑا اور موثر نسخہ ہے۔
زیتون کے تیل کی باقاعدہ مالش کرنے سے جوڑوں کا درد اور لنگڑی کا درد ( عرق النساء ) بھی بدستور ختم ہوجاتا ہے۔
خواتین اپنے ہاتھوں ،بازوؤں اور چہرے کو نکھارنے کے لئے اور گداز رکھنے کی خاطر زیتون کے تیل کی مالش کو معمول بنا لیں تو یہ جلد کے لئے نہایت مفید ہوتا ہے۔
بچھو ،شہد کی مکھی یا بِھڑ وغیرہ کے کاٹے پر روغنِ زیتون ملنے سے جلد ہی زہر کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور درد سے نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کا موسمِ سرما میں استعمال کرنے سے بالوں سے خشکی سکری دور ہوجاتی ہے۔
جو لوگ زیتون کے تیل میں کھانا بناتے ہیں وہ لاتعداد عوارض اور بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔
حکماء کا کہنا ہے کہ روغنِ زیتون میں خرگوش کو گوشت پکا کر کھانے سے عورتوں میں بانجھ پن ختم ہوسکتا ہے۔
کلونجی کو بھون کر زیتون کے تیل میں پیس کر مرہم بنا کر اگر پرانی خارش یا فِنگس پر لگائیں تو اس سے چند دنوں میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔


جسم پر مالش کے اثرات اور فوائد
زیتون کے تیل کی مالش کرنے سے اعضاء کو قوت حاصل ہوتی ہے۔ پھٹوں کا درد جاتا رہتا ہے۔ بعض طبیب اس کی مالش کو مرگی کے لئے بھی مفید قرار دیتے ہیں۔ وجع المفاصل اور عرق النساء کو دور کرتا ہے۔ چہرے کو بشاشت دیتا ہے۔ اسے مرہم میں شامل کرنے سے زخم بہت جلد بھرتے ہیں۔ ناسور کو مندمل کرنے میں کوئی دوائی زیتون سے بہتر نہیں۔
زیتون کے تیل سے قبض کا علاج
اکیس تولہ جو کے پانی میں روغن زیتون ملا کر پینے سے پرانی قبض جاتی رہے۔ تیل پینے سے معدہ اور آنتوں کے اکثر امراض جاتے رہتے ہیں۔ پیٹ کے کیڑے مارتا ہے۔ گردہ کی پتھری توڑ کر نکال سکتا ہے۔ استسقاء میں بھی مفید ہے۔ جسمانی کمزوری کو رفع کرتا اور پیشاب آور ہے۔
پتہ کی سوزش اور پتھری کا علاج
اطباء نے اسے مرارہ (پتہ) کی پتھری میں مفید قرار دیا ہے۔ پتہ کی سوزش اور پتھری کے مریضوں کو بنیادی طور پر چکنائی سے پرہیز کرایا جاتا ہے مگر روغن زیتون ان کے لئے بھی مفید ہے بلکہ پرانے اطباء نے مریضوں کو 2/1 1 پاؤ تک مریضوں کو روزانہ تیل پلا کر صفراوی نالیوں سے سرے نکالنے کا کام لیا ہے۔ بعض اوقات اسی عمل کے دوران پتھریاں بھی نکل جاتی ہیں۔
امراض تنفس اور زیتون کا تیل
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ذات الجنب میں زیتون کا تیل ارشاد فرمایا۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر سانس کی ہر بیماری کے مبتلا کو زیتون کا تیل ضرور دیا گیا۔ دمہ کے مریضوں کی بیماری میں جب کمی آ جائے تو آئندہ اس قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے زیتون کے تیل سے بہتر دوا میسر نہ آ سکی۔
انفلوئنز اور زکام والوں کو باقاعدہ زیتون کا تیل پینے سے نہ ہی ان کو زکام لگتا ہے اور نہ ہی نمونیا ہوتا ہے۔ اگر ان کو کبھی انفلوئنزا ہو بھی جائے تو ان کا حملہ بڑا معمولی ہوتا ہے۔ زکام اور دمہ کے دوران اضافی فائدے کے لئے ابلے ہوئے پانی میں شہد بھی مفید ہے۔ (طب نبوی اور جدید سائنس)
زیتون کے تیل کے فوائد ایک نظر میں
 زیتون کا تیل زیادہ تر قروح معدہ میں 10 گرام پلاتے ہیں۔ خصوصاً سوتے وقت دودھ کے ساتھ ۔
 درد گردہ اور پتہ کی پتھری میں بےحد فائدہ بخش ہے۔
 حکماء کا قول ہے کہ زیتون سنگ مثانہ کو گلاتا، بلغم کو دور کرتا، پٹھوں کو مضبوط کرتا، تھکن کو دور کرتا اور منہ میں خوشبو پیدا کرتا ہے۔
 یہ نیک لوگوں کی غذا اور سر کا تیل بھی ہے۔
 یہ دونس 50 گرام کی مقدار میں ملین ہے جو متورم بواسیر، قروح معدہ، خونی بواسیر اور قبض میں ایک مفید دوا ہے۔
 تیل مقوی ہے اور امراض جلد میں شفا ہے۔
 پیٹ کی بیماریوں میں مفید ہے۔ تیل پرانا بھی ہو جائے تو مفید رہتا ہے۔
 آنکھ میں لگانے سے آنکھ کی سرخی کٹ جاتی ہے۔
 موتیا کو کم کرنے میں مفید ہے۔
 زہر خوانی میں اس کا تیل دودھ میں ملا کر پلانے سے آرام ہو جاتا ہے اور اجن بچ سکتی ہے۔
 اس کے تیل کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر چیونٹیاں نہیں آتیں اور جب اسے دئیے میں جلایا جائے تو یہ دیگر تیلیوں کی طرح دھواں نہیں دیتا۔
 دست آور ہے، آنتوں کے کیڑوں کو نکالتا ہے۔
 جلد میں نرمی اور ملائمت پیدا کرتا ہے۔
 بالوں کی سفیدی کو روکتا ہے۔
 ایگزیما اور چنبل میں قسط، سناہم وزن پیس کر روغن زیتون کا چار گنا میں پکا کر لگانا مفید ہے۔
مسوڑھوں کا مضبوط بناتا ہے۔
 زیتون کا نمکین پانی آتش زدہ مقام پر آبلے نہیں آنے دیتا۔
 فالج اور اوجاع مفاصل میں بطور مالس استعمال سے فائدہ ہوتا ہے۔
 چنبل جیسے جلدی امراض، جلے ہوئے حصوں پر اور زخموں پر لگانے اور سخت جوڑوں کو نرم کرتا ہے۔
 رکٹس اور بچوں کے دق میں مالش سے کافی فائدہ ہوتا ہے۔
 بلا تکلیف صفراوی پتھریوں کو توڑتا ہے۔ کولیسٹرول جو صفراوی پتھریوں کا جزو اعظم ہے، اس کو روغن زیتون جسمانی حرارت 5۔98 پر تحلیل کرتا ہے اور چند دنوں میں پتے کی پتھری ایک ایسے رفیق محلول میں تبدیل ہو جاتی ہے جو اپنے مقررہ راستوں سے بآسانی گزر جاتی ہے۔ اس لئے درد جگر کے دورے ختم یو جاتے ہیں۔
غرضکیہ زیتون کے روغن میں پکے ہوئے پکوان ،اچار یا مٹھائیاں ذائقے میں منفرد ہوتی ہے اور معدے پر گراں نہیں گزرتی، زیتون کا تیل صحت اور تندرستی پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور معدے کی فعالیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔


مقوی باہ و جسم کی طاقت کے لیئےحلوہ

 مقوی باہ و جسم کی طاقت کے لیئےحلوہ


ہوالشافی



انڈے دیسی: 8عدد  صرف دیسی ہوں


گھی دیسی :آدھ کلو


بیسن خالص: ایک پاؤ


کشمش: آدھ پاؤ


چینی حسب ضرورت


ترکیب تیاری: سب سے پہلے تھوڑے سے گھی میں بیسن کو سوجی کی طرح بھون لیں اور الگ رکھ لیں۔ پھر باقی گھی میں کشمش اور کچے انڈے توڑ کر پکائیں۔ جب پکنے کی خوشبو آجائے تو بھنا ہوا بیسن اور چینی ملا کر اتار لیں ٹھنڈا ہونے پر جم جائے گا۔ بس تیار ہے۔


مزاج: مقوی ہے۔ مزاج گرم ہے۔


مقدار خوراک: 50 گرام صبح ، 50 گرام شام روزانہ کھائیں۔ جب ختم ہوجائے تو اور تیار کرلیں۔ چھ ہفتے مکمل کورس کریں۔


فوائد


یہ حلوہ جسم میں گوشت کی مقدار بڑھانے کے لئے اپنی مثال آپ ہے۔ پولیو کے مریضوں کو کھلانے سے ان کی ٹانگوں میں بھی طاقت آنا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ یہ حلوہ مقوی حافظہ اور کمزوری نظر کے لئے بھی مفید ہے

بنولہ یعنی پنبہ دانہ کے فوائد

بنولہ


 COTTON SEEDS مختلف نام :- (عربی) حب القطن (فارسی) پنبہ دانہ (بنگلہ) کباپس بیچی (سندھی) ککڑا (انگریزی) کاٹن سیڈز    


پہچان :۔  مشہور چیز ہے ۔ اس کا مغز نکال کر استعمال کیا جاتا ہے۔ تحتیقات جدیدہ سے ثابت ہوا ہے۔کہ اس میں وٹامن بٰ بکژت موجود ہے۔


ذائقہ:۔  چربیلا


Black_Cotton_Seedsمزاج :- گرم وتر بدرجہ دوم


مقدارخوراک: ۔ مغز ۵  ماشہ سے۹ ماشہ تک ، تیل سوا تولہ سے اڑھائی تولہ تک   


افعال و استمال :-  لطف میلن ، منفث ، بلغم ، ، اور مقوی باہ ہے۔ لاغری درد کہنہ زچہ عورت میں دودھ کی کمی اور ضعف باہ میں اس کی دودھ کےہمراہ کھیر پکا کر کھلاتے ہیں۔ درد سردور کرنے کے لیے مغز پنبہ دانہ اور تخم خشخاش کا حریرہ بنانے میں مستعمل ے۔ اس کا روغن زیتون کی بجائے استعمال کرسکتے ہیں۔ مرطوب ہونے کی وجہ سے اس تیل کی مالش کرتے ہیں۔ جالی ہونے کے باعث مغز دانہ ابٹنوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ چہر ے کی  چھائیں اور سیاہ داغ  کے لیے طلائ  مفید ہے۔ غیرسمی


 

ادرک کے طبعی خواص

 ادرک


 مختلف نام   


(GINGERعربی)  زنجیل رطب (گجراتی )  ادو (بنگالی) آوا (سندھی) سنڈھ  (انگریزی)  جنجر


پہچان:-  ایک قسم کی جڑ ہے جو زمین میں ہوتی ہے۔ شفاقلی کی مانند پتے لمبے اور باریک پھول ، پھل نررد ، ترکوادرک اور خشک کو سونٹھ کہتے ہیں ۔ اس میں ایک تا تین فی صد ھلکا زرد فراری تیل پایا جا تاہے۔   


رنگ:-  سفید اور بھورا ، بو تیز ہوتی ہے۔  


ذائقہ:-   تیز چریرا اور تلخ


مزاج :۔  مزاج تازہ گرم درجہ سوم میںاور خشک درجہاول میں سو کھا ہوا دوسر ے درجے میں گرم وخشک ہوتا ہے۔ 


مصلح  :- روغن بادام و شہد ، بدل دار فلفل  


ادرکمقدار استمال:- ایک ماشہ تا دو ماشہ


افعال و استمال:- ہاضم ، کا سر ریاح اور مقوی باہ ہے اس کو اکثر امراض معدہ میں استعمال کرتے ھیں۔ قوت حافظہ بڑھاتی ہے بلغمی مزاجوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ مرض سنگرہنی میں سونٹھ کو گھی میں بریاں کرکے (سر خ ھو جائے لیکن جل نہ جائے) چھا چھ کے ہمراہ دن میں دو،تین مرتبہ کھلانا فائدہ  کرتا ہے۔ جوارش زنجبیل اور معجون زنجبیل اس کے مشہور مرکبات ھیں ۔ اس کا مربا بھی بنا یا جا تا ہے۔ نیز اس کو مقوی باہ معجونات میں شامل کر تے ھیں ۔ خارجی طورپر سردی کے دردوں میں فالج وغیرہ میں اس کو دیگر ادویہ کے ہمراہ کسی تیل میں جلا کر مالش کرتے ہیں زنجبیل بریاں ایک تولہ نمک طعام تین ماشہ ملاکر دانتوں پر ملنے سے دانتوں کی تُرشی رفع ھو جا تی ہے۔


مقام پیدائش :-  ھندوستان ، مدرراس، ٹرانکور ، کو چین ، مدنا پور ، سورت ، تھانہ (بمئبی) کمائو ں (یوپی) رنگ پور (مغربی پاکستان ادرک کی برآؐمد کے لحاط سے ھندوستان چین سے دوسرے درجے پر ہے لیکن گذشتہ چند سالوں سے اس چیز کے کاروبار میں جمیکا اور سیر الیون (افریقہ) کی تجارت بڑھ رھی ہے۔


                       


                       


 

Powered by Blogger.