پچاس سے زائد بیماریوں سے شفاء
آج جو آپ کو میں نسخہ بتانے جا رہا ہو اس میں 80 بیماریوں کی شفا ہے ،جس میں شوگر،یرقان،کینسر ،دل کی بیماری اور
اکسیر جگر
اکسیر جگر
نوشادر۔۔ ریوند خطائی۔۔۔ قلمی شورہ۔۔۔۔تینوں اشیاء برابر وزن لے کر اس کا سفوف بنا لیں اور اس کو 500 ملی گرام والے کیپسول میں بھر لیں
طریقہ استعمال۔۔۔ 1 کیپسول صبح 1 کیپسول شام بعد از کھانا ہمراہ تازہ پانی
فوائد ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے جگر کی کمزوری ۔۔یرقان۔۔۔ معدہ مثانہ کی گرمی۔۔۔سوزاک۔۔ معدہ و جگر کی اکثر بیماریوں میں بلاخوف وخطر کھلا دیں
AIR CREEPERامربیل یا آکاس بیل۔۔
اقاقیا یا امر بیل
مختلف نام:۔
(فارسی) درخت پیچاں (عربی) افتیموں ہندی (بنگالی) آکاش بیل (گجراتی) امربیل (مرہٹی) اکاس ویل انتر ویل (تامل) کو تانا (سنسکرت)اکا ش ولی (ہندی) امرلتہ (سندھی) بے پاڑی دیسی (انگریزی) ایرکیپر
ہچان :- ایک قسم کی بیل ہے جو زرد زردھاگوں کی شکل میں اکثر درختوں پر لپٹی ہوتی ہے پتا نہیں ہوتا جس درخت پر لپٹی ہوتی ہے اس کو خشک کردیتی ہے ۔ اس بیل کی جڑ نہیں ہوتی اکاس بیل ولائتی کو عربی میں افتیموں کہتے ہیں یہ بالکل اکاش بیل ہندی کے مشابہ ہے اس کے بیجوں تخم کثوت کہتے ہیں جن کا حال الگ درج ہے ۔
رنگ:- زرد سبزی مائل
ذائقہ :۔ پھیکا اور رس لعابدار جس میں کوئی بونہیں ہوتی
مزاج :- تیسرے در جے مین گرم اور پھلے درجے میں خشک
مقدر خوراک :- ۳ ماشہ تا ۵ ماشہ
مصلح :- مصلح کاسنی وسکنجین
افعال و استمال :- محلل و منضخ اورام اور مسکن درد ہے اکاس بیل کو کچل کر تیل میں پکا کر پرانے ناسورپر باندھتے ہیں۔ سوداوی اور بلغمی مادے کی مسہل ہے ۔ خون کو صاف کرتی ہے۔ ورموں کو تحلیل کرتی ہے سدہ کو کھولتی ہے ۔ ورم طحال میں اس کا لیپ خاص کر مفید ہے اس کے جو شاندہ سے بھپارہ دینا اور تفل کو تیل مین تل کر باندھا درد کو ساکن کرتا ہے ۔ ریاح کو تحلیل کرتی ہے سر کہ کے ہمراہ پینا ہچکی کو نافع ہے ۔ پانی نچوڑ ہوا یرقان کو مفید ہے بعض اطبا اس کو ان تمام امراض میں استعمال کر تے ہیں جن میں افتیموں ولائتی استعمال ہوتی ہے اس کی قوت تین برس تک باقی رہتی ہے۔
مقام پیدائش :- پنجاب ، یوپی ، بنگال ، ڑاونکور دکن ، یہ موسم سر ما کے اختتام پر خصوصا خرداردرختوں پر پھیلتی ہے۔
انارسرخ کے فوائد
انارسرخ
مختلف نام:۔(عربی) رمان مرد (فارسی) انار میخوس مشہور عام قندھاری بہتر ہوتا ہے۔
رنگ:- سُرخ وخوش رنگ اندر اور باہر سے سُرخ
ذائقہ :۔ چاشنی دار اور خوش مزہ
مقدر خوراک :- بطور دوا آب انار ۲تولہ ۵ تولہ تک
مزاج :- سرد تر درجہ پہلا
افعال و استمال :- تمام افعام و خواص میں انار شیریں سے ملتا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ قوی الاثر ہے۔ صفرادی مزاجوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ اگر اس کا عرق مع پوست کے نچوڑ کر اس میں شکر ملا کر پئیں تو صفرادی خارش اور یرقان کو بے حد مفید ہے۔ ہچکی کو بند اور معدہ کو طاقت دیتا ہے۔ اگر اس کا عرق تانبے کے برتن مین اس قدر جوش دیا جائے کہ گاڑھا ہو جائے تو اس کو آنکھ میں لگانا قوتِ باصرہ کو تقویت دیتا ہے اور نفع بخش ہے۔ اس کا پانی نچوڑ کر شربت اور رُب بنایا جاتا ہے۔
نوٹ ؛ پوست انار یعنی نسپال مین ۲۲تا ۲۵ فیصد ٹے نین ہوتی ہے پھولوں کو گلنار اور خشک شدہ تخموں کو انار دانہ کہتے ہیں۔
دارہلد کے فائدے
BARBERIS BARBERY ROOT دارہلد
مختلف نام : (ہندی ) چرایا کشمل (پنجابی) کسملو (فارسی ) دار چوبہ (بنگالی) دہردار (پہاڑٰی) کشمل(کشمیری) کیملو )BARBERIS BARBERY ROOT (انگریزی
پہچان :۔ خادر دار پہاڑی درخت لیموں کے پیڑ کے برابر پتے چھوٹے چھوٹے دبیز ، سبز رنگ کے جن کے کناروں اور نوکوں پر کانٹے ہوتے ہیں پھل سرخ سیاہی مائل زرشک کے مشابہ جس کو کشمل کہتے ہیں ۔ بعض مصنفین نے زرشک کو اس درخت کا پھل قراردیا ہے۔ رسوت اس لکڑی کا عصارہ ہے۔ یہ لکڑی بل دار ایک سے دو انچ موٹی ہوتی ہے۔ اس کا جوہر موثرہ ایک ایکلائیڈ یعنی کھاری جو ہر بر برین ہے۔
رنگ:۔ جڑ زرد پھل سرخ سیاہی مائل پھول زرد
مزاج : سر د و خشک بدرجہ اول
بدل :۔ ہلدی چوٹ کے لیے
ذائقہ :- تلخ
مقدار خوراک : ۲ ماشہ سے ۵ ماشہ تک
افعال و استمال :- مُسکن ، معرق ، مصفیٰ خون اور دافع بخار نو بتی ہے۔ موسمی بخار اور جنگل کی آب و ہوا کی وجہ سے ہونے والے بخار میں اس کی جڑ کا جوشاندہ بقدر دودھ تولہ تین گھنٹے کے وقفہ سے ۳-۲ دفعہ پلاتے ہین پسینہ لاکر بخار کو اتار دیتا ہے۔ اس کی جڑ کی چھال کا جوشاندہ تلی جگر بڑھ جانے میں فائدہ کرتا ہے۔ اور اس کی شاخوں کو اُبال کر پلانے سے پسینہ آکر ورم والا بخار (گٹھیا ) دور ہوجاتا ہے۔ بخار کی کمزوری کے دفعیہ کے لیے اس کی جڑ کا سفوف ملاکر چٹاتے ہیں۔ سارنگدھڑ میں لکھا ہے کہ دار ہلد کے ہمراہ جوشاندہ میں شہد ملاکر پلانا یرقان اور حبسمیں نافع ہے۔ جگہ پر انجماد خون کو روکنے کے لیے دار ہلد اور سفیدی بیضہ ، مرغ کا ضماد کرتے ہیں۔
مقام پیدائش: شملہ کانگڑہ ، کشمیر میں ۸ ہزار فٹ کی بلندی تک پایا جاتا ہے۔