jaryan aur desi ilaj جریان اور اسکا دیسی علاج
مادہ منی کی اقسام
اس کی تین اقسام ہیں
منی ،مذی ،ودی
منی
تو تولید حیوانی کی اصل اور بنیاد ہے ۔ اس کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ کہ فریقین سے حالت
انتشار میں کود کر ظہور پزیر ہوتی ہے اور اس کے نکلنے سے فریقین ہلکے پھلکے ہو جاتے ہیں اب یہ
چاہے حالت پیداری میں ہو یا کہ حالت استراحت میں ۔
مذی
یہ اول الذکر کی ناقص حالت ہے جو اخراج منی سے قبل یا بعد تھوڑی مقدارمیں نمو دار ہوتی ہے ۔
ودی
یہ بھی اول الذکر کی ناقص حالت ہے،یہ پیشاب کے اول میں یا بعد میں نمودار ہوتی ہے
مذی و ودی میں فرق
مذی منی کے ساتھ خاص ہے تو ودی پیشاب کے ساتھ خاص ہے ۔ یاد رکھنے کا ایک اصول ذھن نشین
کرلیں کہ منی بھی میم سے شروع ہوتی ہے تو مذی بھی میم سے تو اس کو لازم ملزوم سمجھیں اور بقیہ
کو پیشاب کے ساتھ ۔
ایک غلط فہمی
عمومی طور پر نوجونوں میں یہی معروف ہے کہ جب جسمِ انسانی سے گاڑھا سا پانی نمو دار ہو تو اس
کو جریان کہتے ہیں اور فوراً پریشان ہو جاتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بھائی جریان کا مرض جریان تصور کرنے والوں میں سو میں سے شاید دس پرسنٹ
پایا جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے نوجوان دوستوں سے سن سنا کر ذہن میں ایک خاکہ متصور
کیے ہوئے ہیں کہ جریان فقط گاڑھے مادہ کے اخراج کا نام ہے جبکہ ایسا قطعاً نہیں ہے ۔
تفصیلی گفتگو
نظام قدرت ایسا ہے کہ نر جب مادہ سےملاپ کرتا ہے تو دنوں طرفہ تولیدی نظام کے تحت حالت مقاربت
میں ایک مادہ نمو پزیر ہوتا ہے
ہہی وجہ ہے کہ اگر جسم انسانی میں اگر مذی کی کمی ہو جائے تو مختلف امراض جنم لیتے ہیں جن میں
سے ، احتلام ، رقت انزال ، بے اولادی ، بانج پن ،مقاربت متلذذ نہ ہونا ،فریقین کا ایک دوسرے سے
سیٹسفائڈ نہ ہونا، عنانیت (نامردی)، وغیرہ
اسی طرح ودی کی بھی حالت ہے کہ پیشاپ کی شدت کو روکنے کے لیے قبل البول یا بعد از بول تھوڑا سا
گاڑھا مادہ ذکرین مین آکر اس کی شدت کو روکتا ہے ۔ اور اگر یہ مادہ نہ آئے تو بھی کچھ مرض جنم لیتے
ہیں جن میں سے ،بول علی الفراش،چلتے پھرتے بول کا اخراج،بول دموی،قلت بول،ذکر کا سکڑنا،وغیرہ
[caption id="attachment_1830" align="aligncenter" width="720"]